قطری خاندان کے ساتھ کاروبار میں خود شریک نہیں رہا، نواز شریف

منگل مئی 13:49

قطری خاندان کے ساتھ کاروبار میں خود شریک نہیں رہا، نواز شریف
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مسلسل دوسرے روز اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا ہے کہ قطری خاندان کے ساتھ کاروبار میں خود شریک نہیں رہا۔ منگل کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب نے ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی اس موقع پر نامزد ملزمان نواز شریف،، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود رہے۔

احتساب عدالت نے ریفرنس میں نامزد ملزمان سے الگ الگ سوالات کے جواب طلب کر رکھے ہیں۔سابق وزیراعظم نے گزشتہ روز سماعت کے دوران تقریباً 4 گھنٹے تک 128 میں سے 55 سوالات کے جواب پڑھ کر سنائے اور منگل کو مزید سوالات کے جواب پڑھ کر دیئے ۔۔سماعت کے دوران نواز شریف نے اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے قطری خطوط کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ خطوط کی تصدیق خود حمد بن جاسم نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر کی جبکہ جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ نہیں کیا اور جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کا تبصرہ سنی سنائی بات ہے۔

(جاری ہے)

سابق وزیراعظم نے کہا کہ 'قطری خاندان کے ساتھ سرمایہ کاری اور ایون فیلڈ کی سیٹلمنٹ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔احتساب عدالت کی جانب سے پوچھے گئے سوال کیپیٹل ایف زیڈ ای سے متعلق اصل سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا ،ْ کیا کہیں گی پر نواز شریف نے کہا کہ یہ دستاویزات قانون شہادت کے تحت قابل قبول نہیں ،ْاس دستاویز کا عائد کی گئی فرد جرم سے تعلق نہیں ،ْ واجد ضیا نے بیان رکارڈ کراتے ہوئے یہ دستاویز مذموم مقاصد کے تحت پیش کیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ جافزا کے فارم 9 اور ملازمت کا ریکارڈ قابل قبول شہادت نہیں اور قانون شہادت کے مطابق اسکرین شاٹ قابل قبول شہادت نہیں۔گلف اسٹیل کے 80 فیصد شیئرز کی فروخت 1980 کے معاہدے میں کبھی شامل نہیں رہا اور گلف اسٹیل مل کی فروخت اور ٹرانزیکشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کے پیش کردہ موزیک فونسیکا کے 2012 کے خط کو پرائمری دستاویز نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ یہ خط مروجہ قوانین کے تحت مصدقہ نہیں، واجد ضیاء کی دستاویز کا متن شہادت کے طور پر پڑھنا ملزم کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کے اختر راجا کزن ہیں جن کا عدالت میں دیا گیا بیان جانبدارانہ تھا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ جیرمی فری مین کے 5 جنوری 2017 کے خط میں ٹرسٹ ڈیڈ کی تصدیق کی گئی جس نے کومبر گروپ اور نیلسن نیسکول ٹرسٹ کی تصدیق کی۔ نوا زشریف نے کہا کہ جیرمی فری مین کے پاس ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپی آفس میں موجود تھی لیکن اختر راجا اور جے آئی ٹی نے ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپیاں لینے کی کوشش نہیں کی ،ْاختر راجا کو معلوم ہونا چاہیے کہ فوٹو کاپی پر فرانزک معائنے کا کوئی تصور موجود نہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ اختر راجا نے جلد بازی میں دستاویزات خود ساختہ فرانزک ماہر کو ای میل کے ذریعے بھجوائیں اور یہ بھی حقیقت ہے فورنزک ماہر نے فوٹو کاپی پر معائنے کیلئے ہچکچاہٹ ظاہر کی۔۔دبئی اسٹیل ملز سے متعلق نواز شریف نے کہا کہ دبئی اسٹیل ملز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے علاوہ مجھے باقی معاملات کا پتہ نہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اختر راجہ نے نیب کی 3رکنی ٹیم کی رابرٹ ریڈلے سے ڈھائی گھنٹے ملاقات کرائی، رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ کی کوئی حیثیت نہیں، اٴْس کے پاس اصل دستاویز ہی نہیں تھی جب کہ سپریم کورٹ میں پہلے جمع کرائی گئی ڈیڈ میں غلطی سے پہلا صفحہ مکس ہوگیا تھا اور اختر راجا نے اس واضح غلطی کی نشاندہی بھی نہیں کی۔

سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے ملزم کے بیان قلمبند کیے جانے کے طریقے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ 6 دن کی لکھی ہوئی کہانی پڑھ کر سناتے رہیں، 342 کے بیان کی منشاء یہ ہے کہ ملزم بیان قلمبند کرائے جس کے دوران قانونی نکات پر وکیل سے مدد لی جاسکتی ہے۔اس موقع پر جج محمد بشیر نے کہا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں وہ بتائیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میرا اعتراض عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا جائے۔

نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ میں اس بیان پر قائم ہوں، یہ بیان میں نے خود وکیل خواجہ حارث کی مشاورت سے تیار کیا ہے۔۔نواز شریف نے کہا کہ میں زیادہ دیر تک پڑھتا رہوں تو گلے میں مسئلہ ہوتا ہے ،ْیہی وجہ ہے کہ میں نے خواجہ صاحب کو پڑھنے کا کہا ،ْنیب کو اس پر اعتراض کرنا تھا تو گزشتہ روز کرلیتے۔نیب پراسیکیوٹر کے اعتراض کے بعد نواز شریف نے خود بیان پڑھنا شروع کیا۔

نواز شریف کا بیان مکمل ہونے کے بعد مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر اپنا بیان قلمبند کرائیں گے۔ گزشتہ سماعت پر نواز شریف نے سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق فیصلے اور جے آئی ٹی کو نامناسب اور غیر ضروری قرار دیا اور عدالت سے استدعا کی کہ جے آئی ٹی کے لکھے گئے باہمی قانونی معاونت (ایم ایل ایز) کی بنیاد پر فیصلہ نہ دیا جائے۔