الیکشن کمیشن نےعام انتخابات کیلئے ضابطہ اخلاق تیارکرلیا

انتخابی مہم کےدوران مذہبی منافرت پھیلانے،اسلحہ کی نمائش اورکسی کی ذات کو نشانہ بنانے پرپابندی عائد ہوگی،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرسخت ایکشن لیا جائے گا۔میڈیا رپورٹس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل مئی 15:15

الیکشن کمیشن نےعام انتخابات کیلئے ضابطہ اخلاق تیارکرلیا
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔22 مئی 2018ء) : الیکشن کمیشن نےعام انتخابات 2018ء کیلئے انتخابی ضابطہ اخلاق تیار کرلیا ہے، انتخابی مہم کے دوران مذہبی منافرت پھیلانے، اسلحہ کی نمائش اور کسی کی ذات کو نشانہ بنانے پر پابندی عائد ہوگی،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرسخت ایکشن لیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا عام انتخابات 2018 کے لیے انتخابی ضابطہ اخلاق تیارہوگیا۔

جبکہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی مہم کے دوران مذہبی منافرت پھیلانے پر پابندی عائد ہو گی۔ الیکشن کے دوران اسلحے کی نمائش پر پابندی ہو گی۔اسی طرح الیکشن میں کسی کی ذات کو نشانہ بنانے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔

(جاری ہے)

جبکہ انتخابی اخراجات کو سختی سے مانیٹر کیا جائے گا۔

ضابطہ اخلاق چیف الیکشن کمشنرکومنظوری کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نےعام انتخابات پراخراجات کا ابتدائی تخمینہ لگا لیا۔ جس کے مطابق 20ارب روپے سے زائد اخراجات آنے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، بیلیٹ پیپر کے کاغذ کی خریداری اورچھپائی پر ڈھائی ارب سے زائد اخراجات کا تخمینہ ہے۔

خصوصی فیچر والے بیلٹپیپر کی خریداری پر1 ارب سے زائد اخراجات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ جبکہ بیلٹپیپر کی چھپائی پر بھی 1 ارب سے زائد کے اخراجات ہونگے۔۔الیکشن کمیشن نے انتخابات میں سکیورٹی کے لیے 1 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی ہے۔انتخابی عملے کو الیکشن ڈیوٹی کے معاوضے کی مد میں 6 سے 7 ارب کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے پولنگ میٹریل پر 1 ارب سے زائد اخراجات آنے کا امکان ہے۔ جبکہ ٹرانسپورٹیشن کی مد میں 1 ارب سے زائد اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔وزارت خزانہ انتخابی اخراجات کے بروقت فنڈ فراہم کر رہا ہے۔