کراچی میں لوڈشیڈنگ،

سندھ ہائیکورٹ نے سی ای اوکے الیکٹرک،چیئرمین نیپرا سمیت متعلقہ حکام کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردئیے

منگل مئی 17:10

کراچی میں لوڈشیڈنگ،
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) سندھ ہائیکورٹ نے کراچی میں لوڈشیڈنگ اور بجلی کی پیداوار میں اضافہ نہ کرنے پر سی ای اوکے الیکٹرک،چیئرمین نیپرا سمیت متعلقہ حکام کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردئے،،سندھ ہائیکورٹ میں دائردرخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ عدالت نے کے الیکٹرک کو بجلی کی پیداوار میں اضافے کا حکم دیا تھا،تاہم عدالتی حکم کے باوجود کے الیکٹرک نے بجلی کی پیداوار میں اضافہ نہیں کیا،جبکہ نیپرا نے بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ پر کے الیکٹرک کو شوکازجاری کیا تھا،جس پر عدالت نے نیپرا کو شوکاز پر عمل درآمد کرانے کا حکم دیا تھا،تاہم نیپر ا بھی شوکاز پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی ہے ،جبکہ بن قاسم پاور پلانٹ میں خرابی سے بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ کے الیکٹرک بجلی کی پیداور میں اضافہ کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس نے بجلی کی پیداوار میں اضافہ نہیں کیا،چونکہ عدالت نے کے الیکٹر ک کو بجلی کی پیداور میں اضافے اور نیپر کوکے الیکٹرک کو لوڈشیڈنگ کے حوالے سے جاری شوکاز نوٹس پر عمل درآمد کا حکم دیا تھا،جس میں دونوں ادارے ناکام رہے ہیں ،لہذادونوں ہی ادارے توہین عدالت کے مرتکب ہوئے،اس لئے کے الیکٹرک اور نیپرا کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے ،اس موقع پر عدالت نے کے الیکٹرک کے سی ای او،چیف جنریشن اینڈ ٹرانسمیشن افسر، سی ای او ڈسٹری بیوشن اور ہیڈ آف ڈسٹری بیوشن،چیئرمین نیپرا طارق سدوزئی اور وائس چیئرمین نیپرا کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے