وزیراعظم کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی کا اجلاس ،ْمتعدد منصوبوں کی منظوری

ایک کھرب 31 ارب 78 کروڑ روپے سے زائد لاگت سے پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں صحت کے شعبہ میں ورٹیکل پروگراموں کی منظوری

منگل مئی 16:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی کے اجلاس میں متعدد منصوبوں کی منظوری دے دی گئی ۔منگل کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) کا اجلاس وزیراعظم آفس میں ہوا۔ ایکنک نے 220 کے وی مستونگ سب سٹیشن اور 220 کے وی سبی۔

مستونگ۔کوئٹہ۔لورالائی ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن کی منظوری دی جس پر 14 ارب 15 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی۔ اجلاس میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامک (پائیڈ) کیلئے نظرثانی شدہ پی سی ٹو کی بھی منظوری دی گئی جس پر 3 ارب 51 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی۔ ایکنک نے 22 ارب 21 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے اخراجات سے مختلف شعبوں میں 2 ہزار پی ایچ ڈیز کیلئے اوورسیز سکالرشپ سکیم کیلئے فیز تھری کی منظوری دی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں سماجی شعبہ میں اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں نیورو سائنسز کے سنٹر کے قیام کے منصوبہ کی بھی منظوری دی گئی جس پر 7 ارب 28 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی۔ ایکنک نے ایک کھرب 31 ارب 78 کروڑ روپے سے زائد لاگت سے پنجاب،، خیبرپختونخوا،، سندھ اور بلوچستان میں صحت کے شعبہ میں ورٹیکل پروگراموں کی منظوری دی۔ ان پروگراموں میں زچہ و بچہ کا قومی پروگرام، بچوں کی صحت کا پروگرام، خاندانی منصوبہ بندی اور بنیادی صحت کیلئے قومی پروگرام، ٹی بی کنٹرول پروگرام، ہیپاٹائٹس کی روک تھام کا وزیراعظم کا پروگرام، ملیریا کنٹرول پروگرام اور نابینا پن کی روک تھام کے قومی پروگرام شامل ہیں۔

اجلاس میں نیلم۔جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے 506 ارب 80 کروڑ 80 لاکھ روپے کے چوتھے نظرثانی شدہ پی سی ون کی بھی منظوری دی گئی۔ ایکنک نے گوادر سی پورٹ سے ریلوے کوریڈور کیلئے زمین کے حصول اور گوادر میں ریلوے آپریشنل لینڈ کی بھی منظوری دی۔ اجلاس میں دراوٹ ڈیم کی تعمیر کیلئے دوسرے نظرثانی شدہ پی سی ون کی 11 ارب 76 کروڑ 78 لاکھ روپے سے زائد کی نظرثانی شدہ لاگت کی بھی منظوری دی۔ ایکنک نے 60 ارب 82 کروڑ 36 لاکھ 60 ہزار روپے کی لاگت سے 184 کلومیٹر طویل فیصل آباد۔خانیوال موٹروے ایم 4 منصوبہ کی نظرثانی شدہ لاگت کی بھی منظوری دی۔