کٹھ پتلی حکمرانوں میں سیاسی طورپر ہمارا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں ، مشترکہ حریت قیادت

تنازعہ کشمیر کے حل میں تاخیر سے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے،سیمینار کے مقررین کا تنازعہ کشمیر کے سیاسی حل پر زور

منگل مئی 18:10

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے کہا ہے کہ کٹھ پتلی حکمرانوں میں حریت قیادت کا سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کی جرات اورہمت نہیں ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مشترکہ قیادت نے سرینگر میںجاری ایک بیان میں رمضان کے مقدس مہینے میں بھی سرینگر شہر میںمسلسل کرفیو کے نفاذ کی شدید مذمت کی ہے۔

کٹھ پتلی انتظامیہ نے گزشتہ روز ممتاز آزادی پسند رہنمائوں میرواعظ مولوی محمد فاروق ، خواجہ عبدالغنی لون اور شہداء حول کی برسیوں کے موقع عیدگاہ کی طرف مارچ کو روکنے کے لیے سرینگر میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کردی تھیں۔ سرینگر میں منعقدہ ایک سیمینار کے مقررین کہا ہے کہ جموں وکشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے بدلتے ہوئے بین الاقوامی منظرنامے کے پیش نظر فوری طورپر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ تنازعہ کشمیر کے حل میں تاخیر سے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ سیمینار کا اہتمام میرواعظ عمرفاروق کی زیر قیادت حریت فورم نے میرواعظ مولوی محمد فاروق ، خواجہ عبدالغنی لون اور شہداء حول کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا تھا ۔ میرواعظ عمرفاروق گھر میں نظربند ی کی وجہ سے سیمینار میں شرکت نہیں کرسکے۔ سیمینار میں ماسٹر محمد افضل ، ڈاکٹر غلام نبی حبی، غلام نبی ذکی ، غلام حسن میر اور عبدالمجید بانڈے نے بھی شرکت کی۔

حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ حق خودارادیت کے حصول کے لیے کشمیریوں کی چوتھی نسل سڑکوں پر ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کے پیدائشی حق ، حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کرنے پر ہزاروں افراد کو ان کے والد کی محبت سے محروم کردیا گیا ہے۔ جموںوکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی اور جماعت اسلامی نے اپنے الگ الگ بیانات میں شوپیان میں افطار کے وقت نہتے شہریوں پر بھارتی فورسز کی فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے۔

انٹرنیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس کے چیئرمین بیرسٹر عبدالمجید ترمبو اور سائوتھ ایشیا سینٹر فار پیس اینڈ ہیومن رائٹس کے سربراہ پروفیسر نذیر احمد شال نے لندن میں جاری ایک مشترکہ بیان میں بھارت کی طرف سے اعلان کردہ رمضان جنگ بندی کو سیاسی ڈھونگ قراردیتے ہوئے کہاہے کہ جنگ بندی اسی وقت بامعنی ہوسکتی ہے جب کشمیر کے شہروں ،قصبوں اور کنٹرول پرہر قسم کے تشددکو مکمل طورپر روک دیاجائے۔