پشاورمیں شمشان گھاٹ کی عدم موجودگی پرپشاورہائیکورٹ کااظہاربرہمی

جس نے بھی اقلیتوں کے پیسوں کو دبایاہے اس سے پیسے نکال کر اقلیتوں کے حوالے کرینگے،عدالت عالیہ

منگل مئی 18:16

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) پشاورمیں شمشان گھاٹ کی عدم موجودگی اور اس سے متعلق فنڈزجاری نہ کرنے پر پشاورہائیکورٹ نے خیبرپختونخواحکومت کو جھاڑ پلاتے ہوئے کہاہے کہ جس نے بھی اقلیتوں کے پیسوں کو دبایاہے اس سے پیسے نکال کر اقلیتوں کے حوالے کرینگے۔

(جاری ہے)

عدالت عالیہ کے جسٹس اکرام اللہ اور جسٹس مسرت ہلالی نے ڈپٹی کمشنر ایڈمنسٹریٹواوقاف اور ناظم ٹائون ون کو آئندہ سماعت پرطلب کرلیاہے سکھ برادری کی جانب سے گورپال سنگھ نے خورشید ایڈووکیٹ کی وساطت سے رٹ دائر کی تھی عدالت کوبتایاگیاکہ صوبے میں سکھ برادری کے شمشان گھاٹ نہیں میت اٹک لے جانے میں شدید مشکلات کاسامناہے سکھ کمیونٹی کی آپس میں اختلافات ہیں اس وجہ سے کوئی عملی کام نہیں ہورہاہے حکومت نے سکھ برادری کیلئے تین کروڑفنڈکی منظوریدی تھی اب تک سکھ برادری کو فنڈنہیں ملا برادری کو میت کیلئے گاڑی اور شمشان گھاٹ کابندوبست کیاجائے اس دوران جسٹس مسرت ہلالی نے استفسارکیاکہ ضلعی انتظامیہ اقلیتی کے پیسے کیوں دباکر بیٹھی ہے گھڑے بناسکتے ہیں شمشان گھاٹ نہیں بناسکتے ہم حکومت سے پیسے نکالناچاہتے ہیں جس نے پیسے دباکررکھے ہیں ان سے پیسے نکال لینگے عدالت نے 31مئی تک سماعت ملتوی کردی۔

متعلقہ عنوان :