پی ٹی آئی کا 100 روزہ پلان مسلم لیگ (ن) کے وژن 2025 کا چربہ اور عوام کو دھوکہ دینے کا منصوبہ ہے،

پی ٹی آئی کا منصوبہ عملی نہیں تصوراتی ہے جسے پڑھ کر ہنسی آتی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے 5 سالہ دور میں شاندار کارکردگی کا عملی ثبوت پیش کرتے ہوئے توانائی بحران پر قابو پانے اور دہشت گردی ختم کرنے کے وعدے پورے کئے، معیشت کو بحال کیا، تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبہ جات میں دور رس اقدامات اٹھائے گئے، بلوچستان اور کراچی میں امن قائم کیا، عام انتخابات میں قوم کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی، پنجاب حکومت کی کارکردگی کا کے پی کے کے ساتھ کوئی موازنہ ہی نہیں کیا جا سکتا، پی ٹی آئی 100 دن کے ایجنڈے کی بجائے اپنے پانچ سال کا حساب دے احسن اقبال،مفتاح اسماعیل اور مریم اورنگزیب سمیت وفاقی وزراء کی مشترکہ پریس کانفرنس

منگل مئی 18:30

پی ٹی آئی کا 100 روزہ پلان مسلم لیگ (ن) کے وژن 2025 کا چربہ اور عوام کو دھوکہ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پاکستان تحریک انصاف ((پی ٹی آئی)) کے 100 روزہ پلان کو مسلم لیگ (ن) کے وژن 2025ء کا چربہ اور عوام کو دھوکہ دینے کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا منصوبہ عملی نہیں تصوراتی ہے جسے پڑھ کر ہنسی آتی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے 5 سالہ دور میں شاندار کارکردگی کا عملی ثبوت پیش کرتے ہوئے توانائی بحران پر قابو پانے اور دہشت گردی ختم کرنے کے وعدے پورے کئے، معیشت کو بحال کیا، تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبہ جات میں دور رس اقدامات اٹھائے گئے، بلوچستان اور کراچی میں امن قائم کیا، عام انتخابات میں قوم کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی، پنجاب حکومت کی کارکردگی کا کے پی کے کے ساتھ کوئی موازنہ ہی نہیں کیا جا سکتا، پی ٹی آئی 100 دن کے ایجنڈے کی بجائے اپنے پانچ سال کا حساب دے۔

(جاری ہے)

منگل کو وزیر داخلہ احسن اقبال،، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب،، وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ، وزیر وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت انجینئر بلیغ الرحمن، وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری، معاون خصوصی ہارون اختر خان سمیت وفاقی وزراء اور پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان پنجاب ہائوس میں مشترکہ پریس کانفرنس میں اپنی اپنی وزارتوں اور حکومتی اقدامات کو اجاگر کیا اور پی ٹی آئی کے 100 دن کے منصوبے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

وفاقی وزیر برائے داخلہ، منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پی ٹی آئی کا 100 روزہ پلان پڑھ کر ہنسی آئی، پی ٹی آئی کو تو ڈھنگ سے نقل مارنا بھی نہیں آتی۔ یہ پروگرام حقیقت پر مبنی نہیں، عوام کو دھوکہ دینے کے لئے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پانچ سال مکھیاں مارتی رہی۔ یہ صرف تقریریں کر سکتے ہیں ان کا عمل صفر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے قوم سے جو وعدے کئے تھے وہ پورے کئے، 2013ء میں توانائی کا بحران اور دہشت گردی سب سے بڑے مسئلے تھے، آج یہ مسئلے سب سے بڑے نہیں۔

ملک میں دہشت گردی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جس نے معیشت کو مفلوج کر رکھا تھا، پاکستان 2013ء کے مقابلے میں آج ایک محفوظ ملک ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ملک میں 10 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جو ایک ریکارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کراچی اور بلوچستان میں بھی امن قائم کیا اور دہشت گردی کے عفریت پر قابو پایا اور بلوچستان میں بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے اقدامات کئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان حکومتی اقدامات کی بدولت اپنی تاریخ میں تیسری بار ٹیک آف کی پوزیشن پر کھڑا ہے۔ اوسط اقتصادی ترقی کی شرح 6 فیصد تک لے آئے ہیں۔ سی پیک گیم چینجر ہے، اس خواب کو ہم نے حقیقت میں تبدیل کیا جس سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آئی۔ دنیا بھر میں ادارے پاکستان کیلئے اس منصوبے کو اثاثہ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی وفاقی حکومت نے بہت کام کیا حالانکہ یہ صوبائی معاملات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست میں شعبدہ بازوں کی کمی نہیں، پی ٹی آئی نے 100 دن کا جو پروگرام پیش کیا ہے اسے پڑھ کر ہنسی آتی ہے، نقل مارنے کے لئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ پروگرام وژن 2025ء کا چربہ ہے لیکن یہ ڈھنگ سے نکل نہیں مار سکے اور ان کا یہ منصوبہ تضادات سے بھرا ہوا ہے۔ الفاظ کی شعبدہ بازی سے قوم کو دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے دوسری مرتبہ قوم کو دھوکہ دیا ہے۔

2013ء میں کے پی کے کے لئے 90 دن کا ایجنڈا پیش کیا تھا جو حقیقت کا روپ دھار نہیں سکا۔ پی ٹی آئی بتائے کہ کے پی کے میں اپنے منشور پر کس حد تک عمل کیا۔ پاکستان کو پریزنٹیشنوں کی نہیں عمل کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کی پانچ سالہ حکومت نے ’’صفر بٹا صفر‘‘ حاصل ’’صفر‘‘ کام کیا ہے۔ پانچ سال یہ صوبے میں بیٹھ کر مکھیاں مارتے رہے۔ پی ٹی آئی کا یہ پروگرام عملی نہیں تصوراتی ہے۔

وہ اپنی پانچ سال کی کارکردگی کو سامنے لائے۔ عمران خان کو میں NATO کمانڈر (نو ایکشن ٹاک اونلی) قرار دیتا ہوں کیونکہ ان سے تقریریں تو جتنی مرضی کروا لیں لیکن ان کا عمل زیرو ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ میٹرو کو جنگلہ بس قرار دینے والوں کو اس کے نام سے ہی نفرت تھی اور وہ اسے دھتکارتے تھے لیکن پھر اسی پروگرام کی نقل ماری لیکن حالت یہ ہے کہ 2014ء میں وفاقی حکومت نے میٹرو کی اجازت دی لیکن چار سال میں یہ میٹرو کے لئے لگنے والے جنگلے بھی نہیں لگا سکے اور آج پشاور تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)،، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی تینوں نے عوام کی عدالت میں جانا ہے۔ عوام سے میں گذارش کرتا ہوں کہ وہ ایک دن کراچی،، ایک دن لاہور اور ایک پشاور میں جا کر دیکھ لیں انہیں پتہ چل جائے گا کہ کس جماعت نے کام کرکے دکھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات میں سیاسی جماعتیں عوام کی عدالت میں پیش ہوں گی اور فیصلہ عوام کریں گے اور عوام یہ پروگرام نہیں بلکہ کارکردگی دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان نے 100 دن کے پروگرام میں جو منصوبے پیش کئے ہیں اور ایک کروڑ افراد کو روزگار کی فراہمی سمیت جو منصوبے پیش کئے ہیں ان پر پانچ سال میں 8 ہزار ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ سالانہ 1598 ارب روپے وہ ان منصوبوں کے لئے کہاں سے لائیں گے، محصولات کا کیا پلان ہو گا یہ انہوں نے پروگرام میں بیان نہیں کیا۔

جس طرح کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے اس سے مہنگائی کا طوفان آ جائے گا۔ ٹیکس کیسے اور کہاں سے بڑھائیں گے اس بارے میں منصوبے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ اس منصوبے نے خان صاحب کے بڑے بڑے دعوئوں کی قلعی کھول دی ہے۔ پی ٹی آئی کا پلان عملی نہیں بلکہ تصوراتی ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے پلان میں پہلا نکتہ یہ بیان کیا کہ وہ ایک ٹاسک فورس بنائیں گے جو باہر پڑی لوٹی ہوئی دولت واپس لے کر آئے گی اور اس سے ٹیکسوں میں کمی اور تخفیف غربت کریں گے حالانکہ انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جب پیسہ ملک سے باہر چلا جاتا ہے تو کوئی ٹاسک فورس ڈنڈے کے زور پر اسے واپس نہیں لا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے منصوبے میں تضادات ہیں، سول سروس ریفارمز اور احتساب کے دعوے کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہر معاملے پر بیورو کریٹس کا احتساب شروع کر دیا جائے تو اس سے امور کار میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور اگر اس طرح عوام کے فائدے میں نیک نیتی سے کئے گئے کاموں پر احتساب شروع کر دیا جائے تو لوگ کام نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے یہ نہیں بتایا کہ روزگار کے مواقع کیسے پیدا کئے جائیں گے اس بارے میں منصوبے میں کچھ نہیں بتایا گیا اور یہ محض الفاظ کی شعبدہ بازی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اقتصادی میدان میں کئی اقدامات اٹھائے ہیں جن سے نہ صرف ٹیکس بنیاد کو وسعت ملے گی بلکہ ریونیو میں بھی اضافہ ہو گا، ہم نے رضاکارانہ اثاثہ جات ڈیکلیئریشن پلان بنایا ہے جس کے تحت دنیا باہر سے پیسہ لانے میں کامیاب ہوئی ہے، اس کے علاوہ کئی ملکوں سے معاہدے بھی کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک میں 18، 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ختم کی، ترقی کی شرح کو 5.8 فیصد تک لے کر گئے، مہنگائی کم کی، سوشل نیٹ ورک کو تین گنا بڑھایا، فی کس آمدنی میں اضافہ کیا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے رقوم میں نمایاں اضافہ کیا اس طرح کے اقدامات سے غربت اور بے روزگاری ختم ہوتی ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ عمران خان نے 100 دن کے اپنے پلان میں واٹر پالیسی پر عملدرآمد کرنے کی بات کی ہے، انہیں شاید معلوم ہی نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت دو ہفتہ قبل واٹر پالیسی کا اعلان کر چکی ہے جس پر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے دستخط بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو تو واٹر پالیسی کا علم ہی نہیں ہے، وہ عملدرآمد کیا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی کھپت ہماری حکومت پوری کر چکی ہے، عمران خان نے اپنے پلان میں اس کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء میں بجلی کی پیداوار 4 ہزار 912 گیگاواٹ آور تھی جو اب 7 ہزار 740 گیگاواٹ آور ہے اور 10 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی ہم نے سسٹم میں شامل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان گردشی قرضہ کو ٹھیک کرنے کی بات کرتے ہیں انہیں تو معلوم ہی نہیں کہ گردشی قرضہ کیا ہوتا ہے، ہم نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہے، وہ تو پہلے 100 دن شاید سوچتے ہی رہ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان صوبوں کی طرف سے بجلی کی پیداوار، تقسیم اور ترسیل کی باتیں کرتے رہے ہیں، پچھلے پانچ سال میں انہوں نے منفی 6 میگاواٹ بجلی پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ڈرامہ بازی والی پریزنٹیشن سے مسلم لیگ (ن) اور عوام کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ دریں اثناء وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک ایک طویل المدت ہمہ جہت منصوبہ ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں انفراسٹرکچر تعمیر ہونا ہے، اگلے مرحلے میں پاکستان اور چین کے مابین صنعتی تعاون بڑھایا جائے گا۔

زراعت، ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا اور خطے کے دیگر ممالک کے مابین تجارتی روابط بڑھیں گے۔ سی پیک کے منصوبے اور پروگرام ویب سائیٹ پر موجود ہیں۔ اس کے طویل المدت منصوبوں کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کا سی پیک کے لئے خطرہ بننے کا خدشہ ہے کیونکہ انہیں سی پیک کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت انجینئر محمد بلیغ الرحمن نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں تعلیم کے شعبہ میں دور رس اثرات کے حامل اقدامات اٹھائے، اعلیٰ تعلیم کے بجٹ کو دوگنے سے زیادہ کر دیا، 2013ء میں ایچ ای سی کا بجٹ 42 ارب روپے تھا جس کو بتدریج بڑھاتے ہوئے 2017-18ء میں 107 ارب روپے کر دیا گیا ہے، اس بجٹ سے ملک میں نئی یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، یونیورسٹیوں کی کارکردگی، انفراسٹرکچر اور ریسرچ کی سہولتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بلاتفریق ہر سال یونیورسٹی کے طلباء میں ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کئے جس سے طلباء کو تعلیم کی جدید سہولیات سے استفادہ ہوا اور پاکستان اس وقت ای لانسنگ میں دنیا کے ٹاپ ممالک میں شامل ہو چکا ہے جو بڑی کامیابی ہے۔ بلیغ الرحمن نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبوں کو منتقل ہو گئی اس کے باوجود وفاق نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے نصاب کو بہتر بنایا جس میں اخلاقیات کو اس کا حصہ بنایا گیا، تمام صوبوں کی مشاورت سے ملک کا پہلا نصاب کا فریم ورک تیار کیا گیا، موجودہ دور میں نصاب سازی کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ تکنیکی تربیت جدید دنیا میں اہمیت اختیار کر گئی ہے، ہماری حکومت نے اس کا احساس کرتے ہوئے ملک کی پہلی ٹیوٹ پالیسی مرتب کی اور اس شعبہ کو بہتر بنایا گیا، وزیراعظم کے پیشہ وارانہ تربیت کے پروگرام کے تحت ہر سال لاکھوں نوجوانوں کو پیشہ وارانہ تربیت فراہم کرکے اپنے روزگار کے حصول کے قابل بنایا۔ انہوں نے کہا کہ آئوٹ آف سکول چلڈرن ایک بڑا مسئلہ تھا اور حکومت کی پالیسیوں سے ان میں نمایاں کمی آئی، سرکاری سکولوں کی حالت کو بہتر بنایا گیا اور اب والدین نجی سکولوں کی بجائے سرکاری سکولوں کو ترجیح دے رہے ہیں جو ہماری بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک قانون کے تحت وفاقی دارالحکومت کے سکولوں میں قرآن پاک کی تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ سروسز سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک بھر میں صحت کی بے مثال سہولیات فراہم کیں، وفاقی حکومت نے پہلا ہیلتھ وژن پیش کیا جبکہ اربوں روپے مالیت کے نیشنل ہیلتھ پروگرام کو کامیابی سے چلایا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 100 دن کے پروگرام میں صحت کا جو حوالہ دیا ہے اسے صحت کے شعبہ کے بلیو پرنٹ کی بات کرتے ہوئے اپنے سوشل سیکٹر کو دیکھنا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے، اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) نے اس اہم شعبہ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسل ہیلتھ پروگرام شروع کیا اس کا 34 ارب روپے کی لاگت سے اس کا فیز ٹو مکمل ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کے پسماندہ علاقوں کی بات کرتی ہے اس پروگرام کے تحت ہم نے تمام صوبوں کے پسماندہ اضلاع کو اس کا حصہ بنایا، اس پروگرام کی وجہ سے صحت میں پاکستان کے انڈیکیٹرز بہتر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کی لاگت سے ای پی آئی پروگرام کامیاب رہا، اس حوالہ سے کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا، ہیپاٹائٹس کی سستی گولی ملک میں متعارف کرائی جو دنیا کی سب سے سستی دوا ہے اور اس دوا کی تیاری کیلئے قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں کو رجسٹرڈ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نیوٹریشن کے شعبہ میں بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ غذائی کمی کے شکار بچوں کی صحت کو بہتر بنایا جا سکے، وزیراعظم نے اس کیلئے 10 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ پہلی مرتبہ ملک کا یونیفار، ہیلتھ سروے کرایا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ہمیں کن چیلنجوں کا سامنا ہے اور ہم نے کیا کرنا ہے، موقع ملا تو اس کو مکمل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 2013ء کے اپنے 11 نکاتی ایجنڈا پر عمل نہیں کیا اور اس میں بری طرح ناکام رہی۔ پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان نے صوبائی حکومت کی کارکر دگی پیش کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے جو پروگرام دیا ہے اس پر میڈیا میں تنقید ہوئی ہے، 11 نکات انہوں نے جو دیئے اس میں ہیلتھ، ایجوکیشن، پولیس ریفارم بھی شامل تھے۔ پی ٹی آئی دعویٰ کرتی ہے کہ انہوں نے اپنے صوبے میں پولیس ریفارمز کیں، آئی جی کی تعیناتی کے عمل کو غیر سیاسی بنانے کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن صوبے میں عاصمہ رانی کے کیس میں پولیس بے بس نظر آئی۔

اس کے علاوہ جب بھی کوئی بڑا واقعہ وہاں پیش آتا ہے تو کے پی کے پولیس اس سے نمٹنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ داوڑ کنڈی نے اپنی پارٹی پر سوالات اٹھائے لیکن پارٹی نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔ دوسری جانب پنجاب نے اپنی پولیس کی استعداد کو بہتر بنایا اور جدید فورنزک لیبارٹری قائم کی۔ پنجاب میں ڈیڑھ سال کے اندر ہم نے سیکورٹی کیمرے لگائے۔ خیبرپختونخوا پولیس میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی گئی، کسی قسم کی خصوصی فورسز پولیس کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے جیسے اقدامات نہیں کئے گئے۔

کے پی کے حکومت نے کوئی بڑا منصوبہ شروع نہیں کیا۔ 350 ڈیم بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا وہ کہاں گیا۔ پی ٹی آئی کی کارکردگی صفر رہی، تمام بڑے اداروں کی رپورٹیں پنجاب حکومت کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پنجاب میں ٹیچر اور پولیس کی بھرتیوں سمیت کسی بھی جگہ سفارش پر تعیناتیاں نہیں کی گئیں اور تمام بھرتیاں میرٹ پر کی گئیں۔ پنجاب پر تنقید کی جاتی ہے لیکن نوشہرہ کا بجٹ کے پی کے کے چھ اضلاع سے زیادہ ہے۔

ہم نے پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی لاہور کے معیار کے منصوبے شروع کئے۔ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا منصوبہ بے مثال ہے، یہ منصوبے ہم نے پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی شروع کئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہم سوشل سیکٹر میں سرمایہ کاری نہیں کرتے۔ پنجاب میں 40، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں کو جدید بنایا گیا ہے اور ان میں بہترین سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ ان میں بیڈز اور وارڈز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی کا کے پی کے کے ساتھ کوئی موازنہ کیا ہی نہیں جا سکتا، ہم مختلف شعبوں میں اپنی کامیابیوں اور کارکردگی کے بارے میں میڈیا کو تفصیل سے آگاہ کریں گے۔