پشاور،مالی بحران کاشکارپرائیویٹ تعلیمی ادارے تباہی کے دہانے پرپہنچ گئے

منگل مئی 18:38

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) خیبرپختونخواکے مالی بحران کے شکار پرائیویٹ تعلیمی ادارے ریگولیٹری اتھارٹی کے چھاپوں کے باعث تباہی کے دھانے پرپہنچ گئے، نجی سیکٹرنے متنبہ کیاہے کہ سکولوں پر چھاپوں کا سلسلہ بند اور فیسوں سے متعلق نوٹیفکیشن واپس لیاجائے بصورت دیگر اداروں کوبندکرنے پرسوچیں گے جسکے باعث حکومت کیلئے لاکھوں بچوں کا مستقبل سنوارنامشکل ہوجائیگا۔

(جاری ہے)

ہب آف پرائیویٹ ایجوکیشن(HOPE)کے صوبائی صدر عقیل رزاق نے مختلف اضلاع سے آئے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ فیسوں میں اضافہ نہ کرنا،ایک سے زائدبھائی بہن کی فیس میں رعایت اورگرمیوں کی چھٹیوں کی آدھی فیس وصولی کے حوالے سے ایم ڈی ریگولیٹری اتھارٹی کانوٹیفکیشن غیرقانونی اورتعلیمی ایکٹ کے خلاف ہے ہم اس نوٹیفکیشن پرعمل کرنے سے سکولزچلا ہی نہیں سکتے اور اس طرح صوبے کی25ہزار پرائیویٹ سکولزبندہوجائینگے انہوں نے متنبہ کیاکہ خدارا اس پسماندہ صوبہ پررحم کریں پہلے ہی اس صوبے کے 20لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں اگرمزید60لاکھ بچے سکول سے باہر ہوجائیں تو اس صوبے کا کیاہوگا چھاپوں،پرائیویٹ سکولوں کو ہراساں اوردیوارسے لگانے کا سلسلہ برقراررہا توہم سنجیدگی سے صوبے کے تمام پرائیویٹ سکولوں کومکمل طور پر بندکرنے پر سوچیں گے اگر پرائیویٹ سکول بندہوجائیں تو پھرنہ ریگولیٹری اتھارٹی رہے گی اورنہ اسکا ایم ڈی،حکومت ہوش کے ناخن لے اور اس صوبے کے غریب بچوں کے مستقبل سے نہ کھیلیں انہوں نے کہاکہ ہم نے ریگولیٹری اتھارٹی کے ایم ڈی کے نوٹیفکیشن اورہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیاہوا ہے ہمیں اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ ہمیں کورٹ سے ریلیف ملے گا۔

متعلقہ عنوان :