چینی خارجہ امور کمیٹی سربراہ کی پارلیمنٹ ہائوس میں چیئرمین سٹینڈنگ خارجہ امور ارکان سے ملاقات

پاکستان ، چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان اور چین کی دوستی کو مزید مضبوط کرے گا، معاملے میں پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کامتحدہ ہونا ا س منصوبے کی کامیابی کی ضمانت ہے ، کانگ کو ان پاکستان کو ٹیکنالوجی کی منتقلی کیلئے ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے، اور پاکستانی نوجوانوںکو روزگار مہیاکرنے اور ہنرمند بنانے کیلئے مکمل تعاون فراہم کرینگے، سربراہ چینی خارجہ امور عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان کیلئے توانائی اور امن کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان کا امن واستحکام خطے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، چینی سفیر پاک، چین تعلقات اختلافات سے دور، سٹریٹجک ، معاون اور مضبوط ہیں۔آج پاک ، چین دوستی میں سی پیک کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ایک سڑک ایک منصوبہ کے تحت 70ممالک آپس میں جڑیں گے،سینیٹر مشاہد حسین سید یہ ایشیا ء کی صدی ہے ، جس میں چین کا کلیدی کردار ہے، سی پیک دونوں ممالک میں مابین گیم چینجر ہے،شیریں رحمان

منگل مئی 18:49

چینی خارجہ امور کمیٹی سربراہ کی پارلیمنٹ ہائوس میں  چیئرمین سٹینڈنگ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور میں چین کے خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ کانگ کوان نے وفد کی سربراہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ، چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان اور چین کی دوستی کو مزید مضبوط کرے گا۔ ا س معاملے میں پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کامتحدہ ہونا ا س منصوبے کی کامیابی کی ضمانت ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پارلیمنٹ ہائوس میں چیئرمین سٹینڈنگ برائے خارجہ امور کے ارکان سے ملاقات کے دوران کیا۔۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور نے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید کی سربراہی میں چینی وفد سے بات چیت کی۔ چینی وفد کے سربراہ نے کمیٹی کے ارکان کے تجاویز اور سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی کی منتقلی کیلئے ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے، اور پاکستانی نوجوانوںکو روزگار مہیاکرنے اور ہنرمند بنانے کیلئے مکمل تعاون فراہم کرینگے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ سی پیک کو عام آدمی کیلئے فائدہ مند اور روزگار کا ذریعہ بنایا جائے گا۔جس سے پاکستان میں غربت کے خاتمے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ پاکستان اور چین کے درمیان سی، پیک سمیت اقتصادی ، تجارتی ، ثقافتی سطح پر دوطرفہ مضبوط روابط بہت اہم ہیں۔چینی سفیر یانگ یان ژی نے کہا کہ عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان کیلئے توانائی اور امن کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان کا امن واستحکام خطے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، انہوںنے بتایا کہ پاکستان میں توانائی منصوبوں سے بجلی کی ترسیل کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔چینی رکن خارجہ کمیتی نے کہا کہ توانائی ، بنیادی ڈھانچہ اور صنعتی پارکس کے منصوبے آگے برھا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں منصوبوں کی تکمیل کیلئے بہت سے چینی رضاکارانہ طور پر کام کررہے ہیں۔انٹرنیشنل پبلک پبلیکیشن بیورہ کے سربراہ وانگ جانگ ن کہا کہ پاکستان کے ساتھ ثقافتی وصحافتی تبادلہ کیلئے انتہائی سنجیدہ ہیں۔

ثقافتی ، تبادلہ ذرائع ابلاغ کے مابین تعلقات سے باہمی دوستی مذید مستحکم ہوگی۔ اس سے قبل سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات دنیامیں کلیدی اور منفرد حیثیت کے حامل ہیں، پاک، چین تعلقات اختلافات سے دور، سٹریٹجک ، معاون اور مضبوط ہیں۔آج پاک ، چین دوستی میں سی پیک کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ایک سڑک ایک منصوبہ کے تحت 70ممالک آپس میں جڑیں گے۔

انہوںنے کہا کہ چین امن کا عملبردار ہے ۔ چین کے خلاف ہر سازش میں چین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ یہ ایشیا ء کی صدی ہے ، جس میں چین کا کلیدی کردار ہے، سی پیک دونوں ممالک میں مابین گیم چینجر ہے ، ان دنوں پاکستان الیکشن کی طرف جارہا ہے، پاکستان میں سیاسی استحکام ہورہا ہے۔ البتہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات سیاسی رفافتوں سے بالا تر ہیں، سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں چین کے ساتھ تعلقات میں متحد ہیں، چینی راہنمائوںکو سی پیک کے ذریعے نوجوانوں ملازمتیں دینا ہونگی اورنوجوان نسل کو ہنر سکھانے پرتوجہ دینا ہونگی۔

سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ بلوچستا ن مکمل طورپر چین کے ساتھ ہے، اس سلسلے میں انہیں مکمل تعاون حاصل رہے گا۔ انہوں نے چینی راہنمائوں کو تجویز دی کی بلوچستان میں نوجوانوں کو روز گار مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ چینی زبان سیکھنے کا بندوبست کیا جائے۔سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان نے کالعدم مشرقی ترکستان ، اسلامی تحریک کے خلاف کلیدی کردار ادا کیا ہے، سی پیک کے آغاز پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مخالفت کی تھی۔

انہوںنے چینی وفد سے مطالبہ کیا کہ چین ایف ، اے ، ٹی ، ایف میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرے ، ایف اے تی ایف آئندہ ماہ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کرنے جارہا ہے۔۔رحمان ملک نے تجویز پیش کی کہ چینی ائیرپورٹ پر پاکستانی کو ویز ا کی سہولت دی جائے تاکہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی روابط بہتر ہوسکیں۔اور پاکستانی تاجر اس سے استفادہ حاصل کرسکے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان چینیوںکو 71ہزار ویزہ فراہم کرتا ہے، چین کو کم از کم ایک تہائی ویزوں کا اجراء کرنا چاہیی