پاکستان پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کے 100 دن کے ایجنڈے کو مسترد کردیا ،

الیکشن سے قبل دھاندلی قرار عمران خان نے گزشتہ انتخابات میں بھی 90 دن کا ایجنڈا دیا تھا جو پانچ سال میں بھی پورا نہ ہوسکا عمران اپنے بیانات سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ آئندہ وزیراعظم ہوں گے لیکن ان کے ہاتھ میں وزیراعظم کی لکیر ہی نہیں ہے پی ٹی آئی نے خیبرپختونخواہ میں پانچ سالہ دور میں تعلیم ‘ صحت انفراسٹرکچر سمیت عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی بجائے پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا نواز شریف اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ملکی سلامتی کو دائو پر لگانا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے لیکن ان کی تنخواہوں کیلئے اربوں کے فنڈز کس اے ٹی ایم مشین سے آئیں گے عمران خان نے 50 دن میں 100 لوٹے اکٹھے کرلئے ہیں لوٹے کیا تبدیلی لائیں گے،ڈاکٹر نفیسہ شاہ ‘ مولا بخش چانڈیو ودیگر کی مشترکہ پریس کانفرنس

منگل مئی 19:59

اسلا م آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) پاکستان پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کی طرف سے 100 دن کے ایجنڈے کو مسترد کرتے ہوئے اسے الیکشن سے قبل دھاندلی قرار دے دیا ہے۔ عمران خان نے گزشتہ انتخابات میں بھی 90 دن کا ایجنڈا دیا تھا جو پانچ سال میں بھی پورا نہ ہوسکا‘ عمران خان اپنے بیانات سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ آئندہ وزیراعظم ہوں گے لیکن ان کے ہاتھ میں وزیراعظم کی لکیر ہی نہیں ہے۔

پی ٹی آئی نے خیبرپختونخواہ میں اپنے پانچ سالہ دور میں تعلیم ‘ صحت انفراسٹرکچر سمیت عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی بجائے پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے۔ نواز شریف اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ملکی سلامتی کو دائو پر لگانا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے لیکن ان کی تنخواہوں کیلئے اربوں روپے کے فنڈز کس اے ٹی ایم مشین سے آئیں گے۔

(جاری ہے)

عمران خان نے 50 دن میں 100 لوٹے اکٹھے کرلئے ہیں لوٹے کیا تبدیلی لائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنمائوں ڈاکٹر نفیسہ شاہ ‘ مولا بخش چانڈیو‘ کے پی کے پیپلزپارٹی کے صدر ہمایوں خان‘ سیکرٹری جنرل فیصل کریم کنڈی اور سیکرٹری اطلاعات کے پی کے روبینہ خالد نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ الیکشن سے 70 روز قبل پی ٹی آئی کا 100 دن کا ایجنڈاالیکشن سے قبل دھاندلی ہے یہ ایجنڈا پتہ نہیں 100 دن کا ہے یا سو سال کا کیونکہ اسد عمر نے کہا تھا کہ یہ ایجنڈا سو سال کا ہے۔ اس بات کا شائد کسی کو پتہ ہے یا نہیں انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں بھی نااہل ہونے والے جہانگیر ترین اٹھارہ ہزار ایکڑ رقبے کے مالک ہیں یہ آج کے جاگیر دار ہیں۔

پی ٹی آئی بتائے کہ کے پی کے میں اٹھارہ سو پچیس دن میں عوام کیلئے انہوں نے کیا کیا ہے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ عمران خان جیسے شخص کیسے وزیراعظم بن سکتے ہیں جو 550 قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں سے صرف بیس میں آئے ہیں۔ عمران خان نے پچاس دنوں میں سو لوٹے جمع کرلئے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمان مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ ہم دعویٰ نہیں کرتے انتخابات آنے دیں۔

پیپلزپارٹی اپنی کامیابی سے ’’سو سنار کی ایک لوہار کی‘‘ ثابت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ چند لوٹے پی ٹی آئی میں جانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ جو پانچ سال میں کے پی کے میں کچھ نہیں کر سکے وہ سو دن میں پورے پاکستان میں کیا کریں گے عمران خان کے ہاتھ میں وزیراعظم کی لکیر ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتے تھے کہ میری پارٹی میں فرشتے ہوں گے لیکن اب انہوں نے لوٹے کی بجائے ڈرم اکٹھے کرلئے ہیں۔

پیپلزپارٹی نے کوئی ایسا گناہ نہیں کیا کہ اس کو مجرم ٹھہرایا جائے۔ پیپلزپارٹی شہید ذوالفقارعلی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کے ویژن کے مطابق چل رہی ہے پیپلزپارٹی کے قائدین کے علاوہ کسی نے نہیں کہا کہ ہم پاکستان کیلئے اپنی جان قربان کردیں گے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف اپنی ذات کیلئے ملکی سلامتی دائو پر لگانا چاہتے ہیں صدر پاکستان پیپلزپارٹی کے پی کے ہمایوں خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پھولوں کے شہر پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے۔

کے پی کے کے لوگ پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر اب پچھتا رہے ہیں ۔ پی ٹی آئی نے صحت ‘ تعلیم اور انفراسٹرکچر کیلئے کچھ نہیں کیا۔ صوبے میں ٹارگٹ کلنگ واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ آرمی پبلک سکول اور جیل پر حملہ بھی پی ٹی آئی کے دور میں ہوا تھا جیل سے دہشت گرد اپنا ساتھی چھڑا کر لے گئے تھے سیکرٹری اطلاعات روبینہ خالد نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پی کے کی صورتحال جو سوشل میڈیا پر دکھائی جارہی ہے اس کے برعکس ہے صوبے میں ایک بھی برن یونٹ نہیں ہے ہم نے شروع کیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے پانچ سال میں بھی اسے مکمل نہیں کیا۔

سوات آپریشن کے دوران ہمارے دور میں متاثرین کو مکمل سہولیات دی گئیں لیکن آج سوات کے لوگ اس توجہ کے طلب گار ہیں پی ٹی آئی نے سو دن کے ایجنڈے میں ایک کروڑ نوکریاں دینے کا اعلان کیا ہے اگر ایک کروڑ ملازمین کی تنخواہ بیس ہزار روپے فی کس ماہانہ ہو تو چوبیس کھرب روپے سالانہ بنتے ہیں لیکن یہ فنڈز کہاں سے لائیں گے کس اے ٹی ایم مشین سے نکالیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا بخش چانڈیو نے کہا کہ ناہید خان اور صفدر عباسی سے ہم ناراض نہیں بلکہ وہ ہم سے ناراض ہیں اگر وہ بے نظیر کے بیٹے اور ان کے سوہاگ سے ناراض ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں ہمیشہ قانون سازی ہوئی ہے۔