فاٹا کے’’ اے ڈی ایف فنڈز‘‘ کے خاتمے کا اعلان ،قبائلی عمائدین او ر حکومت کے درمیان دوریاں پیدا ہوگئیں ، حکومت سے تعاون کے خاتمے کااعلان

منگل مئی 19:59

جنوبی وزیرستان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) وزاعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی جانب سے فاٹا کے قبائلی علاقوں کے’’ اے ڈی ایف فنڈز‘‘ کے خاتمے کے اعلان کے بعد فاٹا کے قبائلی عمائدین او ر حکومت کے درمیان دوریاں پیدا ہوگئی ہیں۔اے ڈی ایف فنڈز سے قبائلی ملکان کو ماہانہ تنخواہیں اور دیگر مراعات دی جارہی تھیں کئی سکول بھی چل رہے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان کے اعلان کے بعد جنوبی وزیرستان کے پولیٹیکل ایجنٹ سہیل خان نے قبائلی ملکان کی ماہانہ تنخواہیں اور دیگرمراعات بند کردی ہیں۔جس کی وجہ سے قبائلی عمائدین میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے اور انھوں نے حکومت سے تعاون کے خاتمے کااعلان کیا ہے۔زرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان شاھد خاقان عباسی نے گزشتہ دنوں اعلان کیا ہے جس کے تحت انھوں نے فاٹا کے اے ڈی ایف فنڈز کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔

(جاری ہے)

ایجنسی ڈیویلپمنٹ فنڈز (اے ڈی ایف فنڈز))فاٹا کے تمام قبائلی علاقوں کی پولیٹیکل انتظامیہ خود جمع کررہے ہیں۔اس فندز سے پولیٹیکل انتظامیہ قبائلی ملکان ،مشران کو ماہانہ تنخواہیں دینے کے علاوہ دیگر مراعات بھی دی جارہی ہیں جبکہ اس فندز سے کئی سکول بھی چل رہے ہیں۔۔وزیراعظم پاکستان کے اعلان کے بعد جنوبی وزیرستان کے پولیٹیکل ایجنٹ سہیل خان نے فوری طور پر قبائلی ملکان کی ماہانہ تنخواہیں اور دیگر مراعات بند کردئے ہیں ۔

جس کی وجہ سے جنوبی وزیرستان کے پولیٹیکل انتظامیہ اور قبائلی عمائدین کے درمیان دوریاں پیدا ہوچکی ہیں اور قبائلی ملکان نے حکومت کے ساتھ ہر قسم کے تعاون ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔جبکہ سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق قبائلی ملکان نے پولیٹیکل ایجنٹ پر واضح کردیا ہے کہ اگران کی ماہانہ تنخواہیں اور دیگر مراعات مکمل طور پر بند کردئے گئے تو وہ پختون تحفظ موومنٹ کا ساتھ دینگے۔

قبائلی ملکان کی پختون تحفظ مومنٹ کا ساتھ دینے سے حکومت کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔اس سلسلے میں جب جنوبی وزیرستان کے پولیٹیکل انتظامیہ سے رابطہ قائم کیا گیا تو انھوں نے قبائلی ملکان کی پختون تحفظ موومنٹ کا ساتھ دینے کی تردید کردی اور کہا کہ قبائلی ملکان پختون تحفظ موومنٹ میں شامل نہیں ہوسکتے ہیں۔تاہم قبائلی ملکان کی ماہانہ تنخواہوں کی بندش کی انھوں نے تصدیق کردی ۔

اور کہا کہ یہ پولیٹیکل ایجنٹ کی پالیسی ہے اور وہ اس وقت پشاو میں میٹنگ کے لئے گئے ہیں۔قبائلی ملک کرامت خا ن اور دیگر عمائدین نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان نے فاٹا کے قبائلی علاقوں کے اے ڈی ایف کے خاتمے کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب حکومت فاٹا کے قبائلی علاقوں میں سخت مشکلات سے دوچار ہے۔ان کا کہناتھا کہ فاٹا کے قبائلی علاقوں اور خاصکر جنوبی وزیرستان کے محسود قبائل نے بے دریغ قربانیاں دی ہیں ۔

ہزاروں مکانات حکومت کے ساتھ تعاون کی وجہ سے برباد ہوگئے ہیں اور جنوبی وزیرستان کے محسود قبائل نقل مکانی اور تباہ شدہ مکانات کی وجہ سے پچاس سال پیچھے دھکیل دئے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ حکومت کو چائیے تھا کہ وہ جنوبی وزیرستان کے محسود قبائل کو دیگر مراعات دیتے ۔دیگرمراعات اگر نہیں دیتی تو پہلے سے موجود مراعات غریب قبائلیوں سے نہ لی جائیں۔قبائلی ملکان نے جنوبی وزیرستان میں پاک افغان سرحد انگور اڈہ پر کسٹم کے دفتر کے قیام کی بھی مذمت کی اور کہا کہ جنوبی وزیرستان کے قبائل حکومت کو ٹیکس دینے کی صلاحیت نہیں رکھیتے ہیں ۔انھوں نے انگور اڈہ سے کسٹم کے دفتر کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔