ایف پی سی سی آئی کے سنیئر نائب صدر سید مظہرعلی نا صر کا روس میں انسیٹیوٹ آف اورنٹیل اسٹڈیز ما سکو سے خطا ب

منگل مئی 20:01

ایف پی سی سی آئی کے سنیئر نائب صدر سید مظہرعلی نا صر کا روس میں انسیٹیوٹ ..
کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) پاکستان اور روس کو مستقبل قریب میں تجا رت کیلئے ایسا زمینی روٹکا ستعمال کر نا چا ہیے جو ٹر انسپورٹکو کم کر ے اور پاکستان مین اشیا ء کی فرو خت کو بڑھائے۔ یہ با ت سید مظہر علی نا صر نے انسٹی ٹیوٹ آف اورنٹیل اسٹڈیز میں خطا ب کے دوران کہی۔ ایف پی سی سی آئی کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد رو س کے دورہ پر ہے جہاں وہ رشین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کے عہدیدارن سے ملا قا ت کے گا اور شنگھا ئی کو آپر یشن آرگنا زنگ (SCO) بز نس فو رم میں بھی سینٹ پیٹر بر گ بز نس فورم کے مقام پر شر کت کرے گا ۔

انہو ں نے کہاکہ ڈبلیو ٹی اوکے وجو د میں آنے کے بعد عالمی معا شی نظا م میں تبدیلیں واقع ہو ئیں اور تجا رتی مقا صد سیا ست سے ھٹ کر معا شی ضرورتو ںاور اقوام کے در میان رہ گیا ہے جو کبھی سیا سی نظام اور ممالک کے درمیان تعلقا ت اب معا شی بنیا دوں پر ہو ئے ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے پاکستان اور روس کے ما بین 70سالہ تعلقا ت پر خطا ب کرتے ہو ئے کہاکہ پاکستان اور روس کے سفا رتی تعلقا ت ہو ا کر تے تھے اس پر اظہار کر تے ہو ئے کہاکہ پاکستان اور روس کے معا شی تعلقا ت1950کے اوئل میں قا ئم ہو ئے تھے جب سو ویت یو نین ((روس)) نے کا ٹن ، پٹ سن ، چمڑاکی مصنو عات امپورٹ کر نے پر رضا مند ی ظاہر کی تھی ۔

دو نو ں ممالک نے 1958 میں آئل کنسورشیم قا ئم کی تھی اور بعدمیں1961میں پاکستان کی پہلی اسٹیل مل قا ئم ہو ئی۔ انہوں نے مزید کہاکہ حکومت پاکستان اور رشین فیڈریشن کو اپنے با ہمی روابط میں بڑھانے چا ہیے اب وقت آگیا ہے کہ پرائیوٹ سیکٹر ان تمام کا وششو ں کا استعمال کر ے ۔ ایف پی سی سی آئی اور فیڈریشن آف رشین چیمبر ز آف کامرس کو چا ہیے اور اپنی با ہمی تجا رت کے حجم کو 541 بلین ڈالر سے بڑھا ئیں ۔ انہوںنے کہاکہ دو نو ں ممالک کو چا ہیے کہ وہ با ہمی تجا رت کے راستے میں آنیو الی حا ئل رکا وٹو ں کو ختم کر یںاور تجا رت میں اضافے پر زور دیں روس میں پاکستان کے سفیر قا ضی خلیل اللہ نے بھی اس ایو نٹ میں شر کت کی۔