وزیر اعظم پاکستان ایچ ای سی کا چار سالہ تعلیمی و مالی آڈٹ کروائیں، فپواسان

منگل مئی 20:15

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) فیڈریشن آف آل پاکستان اکیڈمک سٹاف ایسو سی ایشن کی جانب سے مطالبہ کیا گیاہے کہ ہائر ایجو کیشن کمیشن کا گزشتہ چار سال کا مالی و تعلیمی آڈٹ کروایا جائے ۔اس حوالے سے فیڈریشن کے مرکزی صدر ڈاکٹر کلیم اللہ بریچ ، صدر بلوچستان و ممبر ایگزیکٹو کمیٹی ڈاکٹر فرید اچکزئی نے ہائر ایجو کیشن کمیشن کی گزشتہ چار سالہ کار کردگی پر اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ چار سالوں سے اعلیٰ تعلیمی شعبہ مسلسل تنزلی کا شکار ہے، اسی عرصہ کے دوران اعلیٰ تعلیمی شعبہ میں کئی مالی و تعلیمی بے ضابطگیوں کا بھی انکشاف ہو اہے ،ایچ ای سی میں اقربا ء پروری عروج پر رہی جبکہ چار سال پہلے تک دنیا کی پانچ سو بہترین جامعات میں پاکستان کی 5 جامعات شامل تھیں لیکن ان چار سالوں کے دوران ہماری جامعات عالمی رینکنگ میں گراوٹ کا شکار رہیں اور جامعات کی عالمی درجہ بندی جاری کرنے والے ادارے کیو ایس کی رینکنگ میں بھی پاکستانی جامعات مسلسل گراوٹ کا شکار رہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہائر ایجو کیشن کمیشن کے 90بیلین سے زائد کے بجٹ کے لئے ایچ ای سی کی گورئنمنٹ باڈی کی جانب سے اپروول ہی نہ مل سکی ۔چھوٹے صوبے با لخصوص بلوچستان ایچ ای سی کے سالانہ بجٹ میں اپنے حصے سے محروم رہا جبکہ حکومتی جماعت کے ایک وزیر کے ضلع میں اعلیٰ تعلیم کے نام پر 11بیلین سے زائد رقوم مختص کی گئیں جو کہ بلوچستان کے کل اعلیٰ تعلیمی بجٹ سے بھی دس گنا زائد ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت، سیاسی قیادت اور ہائر ایجو کیشن کمیشن کا چھوٹے صوبوں کے ساتھ یہ رویہ تعصب کی علامت ہے ۔انہوں نے کہاکہ سینٹ کی جانب سے جامعات کے اساتذہ کی عمر 65برس اور ٹیکس میں 75فیصد تک کی چھوٹ کے حوالے سے ایک متفقہ قرار داد منظور کی گئی تھی جسے سابق چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن ڈاکٹر مختار کی جانب سے پہلے تسلیم کر لیا گیا تھا لیکن بعد ازاں 65سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کی منظور شدہ قرار داد کے خلاف بیانات جاری کئے گئے۔

فپواسا نے ہائر ایجو کیشن کمیشن کی کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی شعبہ میں جاری بے قاعدگیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر مختار احمد کے چار سالہ دور کا مالی و تعلیمی آڈت کروایا جائے ،فپواسا نے جلد از جلد نئے چیئرمین ایچ ای سی کی تعیناتی کا مطا لبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ نئے چیئرمین ایچ ای سی کی تعیناتی کے عمل میں کسی ایسے شخص کو شامل نہ کیا جائے جس پر نیب یا کسی اور ادارے میں کیس زیر سماعت ہوں ۔ن