نیب نے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے مؤثر حکمت عملی وضع کی ہے، بدعنوانی کا خاتمہ نہ صرف ہمارا قومی فرض ہے بلکہ نیب کی اولین ترجیح بھی ہے، نیب افسران ’’احتساب سب کیلئے‘‘ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بلاامتیاز بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے اپنی کوششیں دوگنا کریں

چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کا نیب افسران سے خطاب

منگل مئی 19:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بدعنوانی کا خاتمہ نہ صرف ہمارا قومی فرض ہے بلکہ نیب کی اولین ترجیح بھی ہے، نیب افسران ’’احتساب سب کیلئے‘‘ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بلاامتیاز بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے اپنی کوششیں دوگنا کریں۔ انہوں نے ان خیالات کا نیب ہیڈ کوارٹرز میں نیب افسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے ملک سے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے انسداد بدعنوانی کی مؤثر حکمت عملی وضع کی ہے، نیب نے اشتہاریوں اور مفروروں کو گرفتار کرنے کیلئے کوششیں تیز کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب بڑے پیمانے پر عوام سے دھوکہ دہی، مالی کمپنیاں، بینک فراڈ، بینک نادہندگان، اختیارات سے تجاوز، منی لانڈرنگ اور سرکاری ملازمین کی جانب سے سرکاری فنڈز میں خوردبرد کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹاتا ہے۔

(جاری ہے)

نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک بدعنوان عناصر سے لوٹے گئے 296 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جو کہ نیب کی بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائری اور انوسٹی گیشن کا آپریشنل طریقہ کار وضع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب راولپنڈی میں پہلی جدید فورنزک سائنس لیبارٹری قائم کی گئی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیہ کی سہولیات دستیاب ہیں۔

نیب نے مقدمات کو بروقت اور تیزی سے نمٹانے کیلئے شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائری، انوسٹی گیشن اور احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کرنے تک کیلئے 10 ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے اس سے نہ صرف کارکردگی میں بہتری آئی ہے بلکہ کوئی بھی فرد نیب کی تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ 2017ء کی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کرپشن پرسپشن انڈیکس کی درجہ بندی میں پاکستان 116 ویں نمبر پر رہا ہے، بدعنوانی کے خلاف کوششوں کے باعث نیب جنوبی ایشیائی ممالک کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے، نیب کی کوشش سے یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، انڈیپینڈنٹ نیشنل اور انٹرنیشنل واچ ڈاگ جیسے اداروں کے علاوہ پلڈاٹ اور عالمی اقتصادی فورم نے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے نیب کی کوششوں کے باعث پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا پہلا چیئرمین ہے جو کہ پاکستان کی نیب کی کوششوں کی وجہ سے بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے بدعنوانی کے شعبہ میں تعاون کیلئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ سی پیک کے تناظر میں اس تعاون سے پاکستان میں جاری منصوبوں میں اعتماد سازی میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کے ساتھ اسی طرز کی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تجویز پر غور جاری ہے اور تفصیلات طے کی جا رہی ہیں۔