وفاقی کابینہ نے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی آئینی ترمیم کی منظوری دے دی

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی سلامتی، معاشی صورتحال سمیت 20 نکاتی ایجنڈا زیر غور آیا ملک کی پہلی نیشنل ٹیکنیکل اینڈ ووکشینل پالیسی اور وفاقی وزارت آئی ٹی کی پہلی ڈیجیٹل پاکستان پالیسی کی بھی منظور ی

منگل مئی 20:31

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) وفاقی کابینہ نے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے لیے آئینی ترمیم کی منظوری دے دی۔۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سلامتی، معاشی صورتحال سمیت 20 نکاتی ایجنڈا زیر غور آیا۔ذرائع کے مطابق کابینہ نے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کیلئے آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے جبکہ اجلاس میں فاٹا انضمام کاآئینی ترمیمی مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کرنیکی بھی منظوری دی گئی۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت پہلے ہی قومی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے سے قبل 30ویں آئینی ترمیم منظور کرانے کا فیصلہ کرچکی ہے جس کے ذریعے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے گا تاہم حکومتی اتحادی مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی بدستور فاٹا کے خیبرپختونخوا سے انضمام پر ناراض ہیں۔

(جاری ہے)

کابینہ اجلاس میں ملک کی پہلی نیشنل ٹیکنیکل اینڈ ووکشینل پالیسی اور وفاقی وزارت آئی ٹی کی پہلی ڈیجیٹل پاکستان پالیسی کی بھی منظور ی دی گئی۔

ذرائع کے مطابق کابینہ نے اینٹی نارکوٹکس اور بینکنگ خصوصی عدالتوں کیججز تقرری اور وفاقی کابینہ میں چیئرمین کاپی رائٹس بورڈ کی تعیناتی کی بھی منظوری دی گئی ہے۔وفاقی کابینہ نے خصوصی فوجی عدالتوں میں کیسز کے ٹرائل اور پاکستان ایل این جی ٹرمینل لمیٹڈ کے ایم ڈی کی تعیناتی کی منسوخی کی بھی منظوری دی ہے۔وفاقی کابینہ نے گلگت بلتستان کے حوالے سے بھی کئی اہم فیصلے کیے ہیں جس کے تحت گلگت بلتستان کونسل ایڈوائزری بورڈ کے طور پر کام کرے گا۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان حکومت کو مالی و انتظامی اختیارات منتقل کیے جائیں گے اور گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کے عوام کی طرح حقوق حاصل ہوں گے۔