موجودہ حکومت نے ملک بھر میں صحت کی بے مثال سہولیات فراہم کیں،

پہلا ہیلتھ وژن پیش کیا جبکہ اربوں روپے مالیت کے نیشنل ہیلتھ پروگرام کو کامیابی سے چلایا ،پہلی مرتبہ ملک کا یونیفارم ہیلتھ سروے کرایا جا رہا ہے ، مسلم لیگ (ن) نے صحت اہم شعبہ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسل ہیلتھ پروگرام شروع کیا وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ کی پریس کانفرنس

منگل مئی 20:38

موجودہ حکومت نے ملک بھر میں صحت کی بے مثال سہولیات فراہم کیں،
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) وفاقی وزیر نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ سروسز سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ملک بھر میں صحت کی بے مثال سہولیات فراہم کیں، پہلا ہیلتھ وژن پیش کیا جبکہ اربوں روپے مالیت کے نیشنل ہیلتھ پروگرام کو کامیابی سے چلایا ،پہلی مرتبہ ملک کا یونیفارم ہیلتھ سروے کرایا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ہمیں کن چیلنجوں کا سامنا ہے اور ہم نے کیا کرنا ہے، موقع ملا تو اس کو مکمل کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پنجاب ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 100 دن کے پروگرام میں صحت کا جو حوالہ دیا ہے اسے صحت کے شعبہ کے بلیو پرنٹ کی بات کرتے ہوئے اپنے سوشل سیکٹر کو دیکھنا چاہئے تھا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے، اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) نے اس اہم شعبہ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسل ہیلتھ پروگرام شروع کیا اس کا 34 ارب روپے کی لاگت سے اس کا فیز ٹو مکمل ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کے پسماندہ علاقوں کی بات کرتی ہے اس پروگرام کے تحت ہم نے تمام صوبوں کے پسماندہ اضلاع کو اس کا حصہ بنایا، اس پروگرام کی وجہ سے صحت میں پاکستان کے انڈیکیٹرز بہتر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کی لاگت سے ای پی آئی پروگرام کامیاب رہا، اس حوالہ سے کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا، ہیپاٹائٹس کی سستی گولی ملک میں متعارف کرائی جو دنیا کی سب سے سستی دوا ہے اور اس دوا کی تیاری کیلئے قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں کو رجسٹرڈ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نیوٹریشن کے شعبہ میں بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ غذائی کمی کے شکار بچوں کی صحت کو بہتر بنایا جا سکے، وزیراعظم نے اس کیلئے 10 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ پہلی مرتبہ ملک کا یونیفار، ہیلتھ سروے کرایا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ہمیں کن چیلنجوں کا سامنا ہے اور ہم نے کیا کرنا ہے، موقع ملا تو اس کو مکمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 2013ء کے اپنے 11 نکاتی ایجنڈا پر عمل نہیں کیا اور اس میں بری طرح ناکام رہی۔