الجزائر،مسجدمیں موذن اور نمازی کے قتل کی لرزہ خیز واردات

علاقے میں خوف و ہراس،گلا کاٹ کر قتل کیا گیا،آئمہ مساجد کا احتجاج، سیکورٹی فراہمی کا مطالبہ

منگل مئی 21:26

بلعباس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) الجزائر میں مسجد کے اندر مقدس مہینے میں موذن اور نمازی کے قتل کی لرزہ خیز واردات سے علاقے بھر میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی،مقتولین کو گلا کاٹ کر قتل کیا گیا، آئمہ مساجد نے احتجاج کرتے ہوئے سیکورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق الجزائر کی ریاست سیدی بلعباس میں پانچ رمضان کو قتل کی ایک لرزہ خیز واردات نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

واقعے میں وادی السبع کے علاقے میں ایک مسجد کے اندر دو افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کو گلا کاٹ کر موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ مقتولین میں ایک مذن بھی ہے۔الجزائری خبر رساں ایجنسی نے ایک سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو پیر کی صبح "مسجد خالد بن الولید" میں دو افراد کی لاشیں ملیں جن کا گلا کٹا ہوا تھا۔

(جاری ہے)

ان میں مسجد کا 64 سالہ مذن اور ایک 67 سالہ نمازی ہے۔

تحقیقات کے مطابق دونوں افراد فجر کی نماز سے قبل قتل کیے گئے۔ واردات میں ملوث افراد کے پتہ چلانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔یاد رہے کہ چند روز قبل الجزائر کے دارالحکومت کے وسط میں آئمہ مساجد کی انجمن کی جانب سے ایک احتجاج سامنے آیا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ شدت پسندوں کی جانب سے مسلسل حملوں کے سبب انہیں سکیورٹی فراہم کی جائے۔

متعلقہ عنوان :