پاکستان اور بھارت کی شمولیت کے بعد ایس سی او کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، چینی صدر

تنظیم خطے کے مختلف ممالک کے عوام اور عالمی برادری سے مزید زیادہ توقع رکھتی ہے ، چین اپنی سلامتی کو خطے کی سلامتی سے ملائے گا ،تمام رکن ممالک کیساتھ باہمی احترام ، انصاف اور تعاون و مشترکہ ترقی کے حامل نئے بین الاقوامی تعلقات اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے قیام کیلئے بھر پور کوشش کرتا رہے گا شی جن پنگ کی شنگھائی تعاون تنظیم سیکیورٹی کانفرنس میں شریک مختلف ممالک کے وفود کے سربراہان سے ملاقات میں گفتگو

منگل مئی 22:10

پاکستان اور بھارت کی شمولیت کے بعد ایس سی او کی ذمہ داریاں  بڑھ گئی ہیں، ..
بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی شمولیت کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کے سکیورٹی تعاون میں زیادہ امکانات ہیں،زمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں، تنظیم خطے کے مختلف ممالک کے عوام اور عالمی برادری سے مزید زیادہ توقع رکھتی ہے ، چین اپنی سلامتی کو خطے کی سلامتی سے ملائے گا ،تمام رکن ممالک کے ساتھ باہمی احترام ، انصاف اور تعاون و مشترکہ ترقی کے حامل نئے بین الاقوامی تعلقات اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے قیام کے لئے بھر پور کوشش کرتا رہے گا ۔

چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق چینی صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی سکیورٹی کانفرنس میں شریک مختلف ممالک کے وفود کے سربراہان سے ملاقات کی ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کے بعد اس تنظیم نے خطے کی سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے مشرقی ترکستان تحریک کی شدت پسندانہ کاروائیوں کے خلاف سخت اقدامات جبکہ انتہا پسند ی، دہشت گردی اور علیحدگی پسندوں کی حوصلہ شکنی نیز خطے میں امن و امان اور ترقی و خوشحالی کے لئے اہم کردار ادا کیا ۔

شی نے کہا کہ اس وقت اس خطے میں سلامتی کی صورتحال نسبتا مستحکم ہے تاہم سنگین چیلنجز کا سامنا بھِی ہے ۔ اس لئے تنظیم کے تمام رکن ممالک کیساتھ مل کر باہمی اعتماد میں اضافہ کرتے ہوئے تعاون کے ذریعے سلامتی کا ایک نیا انتظامی نظام قائم کیا جائے جس سے شنگھائی تعاون تنظیم سلامتی کے لیے تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کی اس تنظیم میں شمولیت کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کے سکیورٹی تعاون میں زیادہ امکانات ہیں تاہم ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں ۔

یہ تنظیم خطے کے مختلف ممالک کے عوام اور عالمی برادری سے مزید زیادہ توقع رکھتی ہے ۔ اس طرح شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی سکیورٹی کانفرنس کے سیکرٹریز کے اجلاس کے نظام کو موجودہ بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق اپنے کردار کو مزید بہتر کرنا چاہئے ۔صدر شی نے مزید کہا کہ چین اپنی سلامتی کو اس خطے کی سلامتی سے ملائے گا اور چین تمام رکن ممالک کے ساتھ باہمی احترام ، انصاف اور تعاون و مشترکہ ترقی کے حامل نئے بین الاقوامی تعلقات اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے قیام کے لئے بھر پور کوشش کرتا رہے گا ۔