پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے، اس وقت ملک میں انتشار کی بجائے اتحاد کی ضرورت ہے، پروفیسر حافظ محمد سعید

افسوسناک بات یہ ہے ہم اپنا مفاد نہیں دیکھ رہے،پاکستان بیرونی قوتوں کا ہدف ہے اور اتحادی ملکوں کی نئی افغان پالیسی میں پاکستان کو نشانہ بناگیا ہے،اداروں کوٹکرائو سے روکنے کے لیے میڈیا کردار ادا کرے، مقامی ہوٹل میں صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر سے خطاب

منگل مئی 23:44

پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے، اس وقت ملک میں انتشار کی بجائے اتحاد ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) جماعة الدعوة پاکستان کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے، اس وقت ملک میں انتشار کی بجائے اتحاد کی ضرورت ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم اپنا مفاد نہیں دیکھ رہے۔ پاکستان بیرونی قوتوں کا ہدف ہے اور اتحادی ملکوں کی نئی افغان پالیسی میں پاکستان کو نشانہ بناگیا ہے۔

بھارت پاکستان کے خلاف دنیا بھر میں محاذ بنا رہا ہے اور ہم انتشار کا شکار ہیں۔ ان حالات میں ہمیں چین اور روس کو اپنے قریب کرلینا چاہیے۔ داعش امریکا کا خطرناک ہتھیار ہے، وہ اسے عالم اسلام کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان میں نئے بیانیے پریشان کن ہیں۔ اداروں کوٹکرائو سے روکنے کے لیے میڈیا کردار ادا کرے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے مقامی ہوٹل میں صحافیوں کے اعزاز میں دیے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا کہ اس وقت دنیا کا بڑا مسئلہ پاکستان ہے۔ دنیا کی بدلتی پالیسیوں میں پاکستان اہم حیثیت کا حامل بن چکا ہے۔ بیرونی قوتوں کو مضبوط پاکستان کسی صورت برداشت نہیںہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو سیاستدان سے زیادہ پہلوان سمجھتا ہوں۔ وہ پاکستان کے کردار کو کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا۔ نئی افغان پالیسی میں امریکا پاکستان کے خلاف بہت کچھ کرنا چاہتا ہے۔

داعش کو شام سے لاکر افغانستان میں کردار دیا جارہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ براہ راست پاکستان سے الجھنا ان کے مفاد میں اچھا نہیں، اس لیے وہ پاکستان کو مسائل میں الجھا رہے ہیں۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ امریکا سب سے پہلے اپنا مفاد دیکھتا ہے، لیکن افوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان اپنا مفاد نہیں دیکھ رہا۔ سی پیک منصوبے کے بعد بھی ہم چین کو اس بات پر قائل نہیں کرسکے کہ انڈیا ہمارا دشمن ہے، ان کے ساتھ بات چیت سے قبل ہمیں اعتماد میں لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا افغانستان میں اپنی شکست کا ذمے دار پاکستان کو سمجھتا ہے۔ اس لیے وہ نئی افغان پالیسی میں پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ان حالات میں ہمیں چین اور روس کو اپنے قریب کرلینا چاہیے۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ داعش امریکا کا خطرناک ہتھیار ہے، وہ اسے عالم اسلام کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ اس حساس مسئلے پر میڈیا قوم اور سیاستدانوں کو آگاہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان کو بہت خطرات درپیش ہیں۔ کم از کم ہمیں اپنے اندر کے معاملات کو سنبھالنا چاہیے۔ اس صورت حال کے اندر ایک ہی راستہ ہے کہ ہم آپس میں متحد ہوجائیں۔ دشمن اندر کے لوگوں کو ہی استعمال کرتا ہے۔ اگر انڈیا کو اگر تلہ سازش نہ ملتی تو وہ مشرقی پاکستان علیحدہ نہیں کرسکتا تھا۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ ملک کے اندر کے معاملات کو سنبھالنا میڈیا کی ذمے داری ہے۔

میڈیا حکومتوں کی اصلاح کرسکتا ہے۔ اداروں کو ٹکرائو سے روکنے کے لیے میڈیا کردار ادا کرسکتا ہے۔ پاکستان کے حالات مختلف ہیں، سب سے بڑا مسئلہ پاکستان کی سالمیت ہے۔ اگر پاکستان کو کوئی نقصان پہنچا تو الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ پاکستان کی حفاظت کے لیے کیا کرنا ہے، اس نکتے پر ہم سب کو سوچنا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں حافظ محمد سعید نے کہا کہ امریکا کسی ایک ملک کا نہیں اسلام کا دشمن بن چکا ہے۔ مشرق وسطی کے مسائل پر او آئی سی کو بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔