ملئیے پاکستان کی پہلی سکھ ٹی وی رپورٹر من میت کور سے

میرے والدین کہتے تھے کہ من میت تم بہت غلط راستے پر جا رہی ہو لیکن جب سب نے میری پہلی رپورٹ دیکھی توبہت خوش ہوئے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس منگل مئی 21:31

ملئیے پاکستان کی پہلی سکھ ٹی وی رپورٹر من میت کور سے
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) :ملئیے پاکستان کی پہلی سکھ ٹی وی رپورٹر من میت کور سے ،جن کے بلند عزائم نے انکو پاکستانی خواتین کے لیے مثال بنا دیا۔۔پاکستان کی پہلی سکھ ٹی وی رپورٹر من میت کور کا کہنا تھا کہ میرے والدین کہتے تھے کہ من میت تم بہت غلط راستے پر جا رہی ہو لیکن جب سب نے میری پہلی رپورٹ دیکھی توبہت خوش ہوئے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کی پہلی سکھ ٹی وی رپورٹر من میت کورنے پشاور یونیورسٹی سے سوشل سائنسز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔

جس کے بعد من میت کور نے کسی اور شعبہ میں جانے کی بجائے صحافت کا انتخاب کیا اور صحافت میں بھی ٹی وی رپورٹنگ کو ترجیح دی ۔من میت کور کا اپنا کہنا تھا اس شعبے کے انتخاب میں ان کے سامنے دو چیلنجز تھے ۔ایک چیلنج تو یہ تھا کہ من میت اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی ہیں اور دوسری چیلنج ان کے لیے یہ تھا کہ خاتون ہوتے ہوئے انکو میدان میں جا کے رپورٹنگ کرنا تھی جسے ہمارے معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا لیکن من میت کور نے ہر قسم کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔

(جاری ہے)

من میت نے حال ہی میں اپنی نشریات کا آغاز کرنے والے نجی پاکستانی نیوز چینل میں بطور رپورٹر کام شروع کیا ہے۔ من میت کور کا کہنا تھا کہ انکے والدین نے انکے اس فیصلے کی مخالفت کی مگر پھر انکا کا م دیکھنے کے بعد سب خوش ہو گئے ،انکا کہنا تھا کہ میرے والدین کہتے تھے کہ من میت تم بہت غلط راستے پر جا رہی ہو لیکن جب سب نے میری پہلی رپورٹ دیکھی توبہت خوش ہوئے۔

انہوں نے اپنے بلند عزائم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کی رپورٹنگ سے اقلیتوں کے مسائل اجاگر ہوں گے کیونکہ وہ خود اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے مسائل بہتر جانتی ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل سکھ کمیونٹی کے جوان پاکستان رینجرز اور کرکٹ ٹیم کا حصہ بھی بن چکے ہیں۔سکھ کمیونٹی کے نوجوانوں کا اس طرح مین سٹریم میں آنا پاکستان میں اقلیتوں کی خوشحالی کا عکاس ہے۔