پاکستان مسلم لیگ (ن) کی گذشتہ پانچ سال کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے جس کی بنیاد پر ہم آئندہ عام انتخابات میں عوام کے سامنے جائیں گے، نگراں وزیراعظم کے نام پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اس ضمن میں (کل) میری خورشید شاہ سے پھر ملاقات ہے ،

اگر کسی نام پر اتفاق ہو گیا تو ٹھیک ورنہ معاملہ پارلیمانی پارٹی میں جائے گا اور اگر وہاں بھی فیصلہ نہ ہوا تو پھر رپورٹ لگ کر چار نام الیکشن کمیشن کے پاس جائیں گے جہاں پر فیصلہ ہو گا، انتخابات تاخیر کا شکار ہونا ممکن نہیں کیونکہ آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں، اگر ایسا کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کی گئی تو نہ اسے کوئی سیاسی جماعت قبول کرے گی اور نہ ہی عوام اسے تسلیم کریں گے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو

بدھ مئی 00:01

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی گذشتہ پانچ سال کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے جس ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی گذشتہ پانچ سال کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے جس کی بنیاد پر ہم آئندہ عام انتخابات میں عوام کے سامنے جائیں گے، نگراں وزیراعظم کے نام پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اس ضمن میں (کل) بدھ کو میری خورشید شاہ سے پھر ملاقات ہے جس میں ان 6 ناموں سمیت اگر کسی اور نام پر بھی اتفاق ہو گیا تو ٹھیک ورنہ پھر معاملہ پارلیمانی پارٹی میں جائے گا اور اگر وہاں بھی فیصلہ نہ ہوا تو پھر رپورٹ لگ کر چار نام الیکشن کمیشن کے پاس جائیں گے جہاں پر فیصلہ ہو گا، انتخابات تاخیر کا شکار ہونا ممکن نہیں کیونکہ آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں، اگر ایسا کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کی گئی تو نہ اسے کوئی سیاسی جماعت قبول کرے گی اور نہ ہی عوام اسے تسلیم کریں گے، احتساب عدالت سے نواز شریف کو انصاف نہیں ملے گا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ احتساب عدالت سے نواز شریف کو انصاف نہیں ملے گا، نواز شریف ہفتہ میں چار چار بار عدالت میں پیش ہوتے ہیں، نواز شریف کا نام پانامہ میں نہیں تھا، نواز شریف نے ماضی میں ڈیل کی اور نہ کریں گے، نیب ((ن) لیگ کو توڑنے کیلئے بنایا گیا تھا، نواز شریف این آر او پر یقین نہیںرکھتے، ہماری غلطی ہے کہ نیب کا کالا قانون ختم نہیں کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کا مقصد صرف سیاست میں مداخلت ہے، کہا جاتا ہے کہ آپ نے ڈاکہ ڈالا، ثابت کریں کہ آپ نے ڈاکہ نہیں ڈالا، انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہیئں، 4.9 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ، کوئی چھوٹا الزام نہیں، ادارہ کے سربراہ کو ثبوت کے تحت الزام لگانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے نام پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے،نگران وزیراعظم کیلئے کئی ناموں پر غور ہوا،اپوزیشن لیڈر کے ساتھ اس معاملہ پر کل پھر گفتگو ہوئی،ہماری کوشش ہے کہ نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق رائے ہو جائے،حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے تین تین نام دیئے گئے لیکن ابھی تک کسی بھی نام پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا،اگر کل پرسوں تک کسی نام پر اتفاق نہ ہوا تو پھر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا،پارلیمانی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن دو، دو نام دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ نگراں وزیراعظم کیلئے کوئی ایسا شخص تجویز کیا جائے جو غیر متنازعہ ہو جس کا سارا ریکارڈ عوام کے سامنے واضح ہو جو ملک میں صاف شفاف انتخابات کرا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تصدق حسین جیلانی،، جلیل عباس جیلانی اور سلیم عباسی جیلانی تینوں جیلانی خاندان سے نام سامنے آ رہے ہیں لیکن فی الحال ابھی کسی کا نام بھی فائنل نہیں ہوا اور امید ہے کہ ایک دو روز میں کوئی حتمی نام سامنے آ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نگراں وزیراعظم ٹیکنو کریٹ اور سابق جج بھی ہو سکتا ہے، سابق جنرل کو نگراں وزیراعظم بنانے پر بات نہیں ہوئی،6 نام اس وقت فیلڈ میں ہیں جن میں سے تین حکومت کے اور تین اپوزیشن کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات تاخیر کا شکار ہونا ممکن نہیں کیونکہ آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں، اگر ایسا کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کی گئی تو نہ اسے کوئی جماعت تسلیم کرے گی اور نہ ہی عوام اسے قبول کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی سے مشاورت کے بعد ہی نام خورشید شاہ صاحب کو دیئی25 تا 27 جولائی تک انتخابات کیلئے پرامید ہیں،سمری اس حوالہ سے آ چکی ہے جس کا ایک دو روز میں جواب بھی دیدیں گے اور یکم یا 2 جون تک انتخابات کے شیڈول کا بھی اعلان کر دیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے یہ کہا تھا کہ انتخابات خلائی مخلوق کرائے یا زمینی مخلوق لیکن جیتے گی پاکستان مسلم لیگ (ن) ہی، لیکن اسے کچھ لوگوں نے توڑ مروڑ کر پیش کیا، خلائی مخلوق ہوتی کیا ہی ۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کے ماحول میں بہت سی تشبیہات دی جاتی ہیں جو پریشانی والی بات نہیں کیونکہ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ صوبائی حکومت میں نگراں سیٹ اپ پر بھی بات ہوئی ہے،(آج) بدھ کو میری خورشید شاہ سے پھر ملاقات ہے جس میں ان 6 ناموں سمیت اگر کسی اور نام پر بھی اتفاق ہو گیا تو ٹھیک ورنہ پھر معاملہ پارلیمانی پارٹی اور اگر وہاں بھی نہ ہوا تو پھر چار نام الیکشن کمیشن کے پاس جائیں گے رپورٹ لگ کے، جہاں پر فیصلہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے تیاریاں مکمل ہیں اور جولائی کے آخری ہفتے میں انتخابات ہوجائیں گے ،ٹوٹ پھوٹ انتخابی عمل کا حصہ ہوتی ہے ،اس دوران بہت سے لوگ اپنے اپنے اندازے لگاتے ہیں اور کچھ لوگ ادھر ادھر بھی آتے جاتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جلیل عباس جیلانی کو گزشتہ 30 سال سے جانتا ہوں جبکہ ڈاکٹر عشرت حسین اور ڈاکٹر شمشاد بھی اچھے لوگ ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ انتخابات میں مختلف تشبیہات دی جاتی ہیں، اشاروں کی سیاست ہم نے پیچھے چھوڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی بات کو بھارت نے اپنے مقاصد کیلئے توڑا مروڑا، نوازشریف نے یہ بات نہیں کہی کہ یہاں سے لوگ ممبئی بھیجے گئے، نواز شریف فرنٹ فٹ پر کھیلنے والے ہیں، نواز شریف کے بیانیہ کو غلط انداز میں رپورٹ کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مریم نواز نے پارٹی میٹنگ میں کبھی حصہ نہیں لیا، مریم نواز نے پارٹی میں کبھی کسی کو ہدایات نہیں دیں، مریم نواز پارٹی معاملات میں مداخلت نہیں کرتیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف کا نام کسی گواہ نے نہیں لیا، نیب صرف اور صرف مسلم لیگ (ن) کو توڑنے کیلئے بنائی گئی تھی، ہم سے غلطی ہوئی، نیب کا کالا قانون ختم کرنا چاہئے تھا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف نے کبھی ڈیل کی نہ کریں گے، ایک ملک کے سابق وزیراعظم پر براہ راست الزام لگایا گیا اور ساری خرابی براہ راست الزام لگانے سے شروع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں نگراں حکومت میں توسیع کی کوئی گنجائش نہیں، غیر جمہوری قوتوںکی مداخلت سے جمہوریت کمزور ہوئی، انتخابات میں غیر جمہوری قوتوں کا کردار ختم ہو رہا ہے، پارٹی چھوڑنے والوں کے ماضی کا ریکارڈ بھی عوام کے سامنے ہے، لوگوں کے پارٹی چھوڑنے سے شکوک و شبہات پیداہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ پانچ سالوں کی کارکردگی سب کے سامنے ہے جس دوران ہر شعبہ نے ترقی کی ہے، سینکڑوں ارب کے منصوبوں کے افتتاح ہر ہفتے کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی مؤثر و کار آمد پالیسیوں کی بدولت آج ملک میں نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ ہوا ہے بلکہ توانائی بحران کا بھی خاتمہ کیا جا چکا ہے اور ملک بھر میں تقریباً 90 فیصد گھروں میں لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی اور صرف وہاں لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جن فیڈرز میں بجلی چوری ہوتی ہے کیونکہ حکومت یہ برداشت نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے اس دور حکومت میں ہائی ویز سمیت موٹر ویز بنائیں، ائیر پورٹس بنائے جبکہ سی پیک سمیت متعدد عوامی فلاحی منصوبے بھی شروع کیے جن سے ملکی عوام خوشحال ہوں گے اور ملک آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جب بھی اقتدار سنبھالا ملک و قوم نے ترقی کی۔