کراچی، واٹر بورڈ کے ستا ئے لوگ پانی کی عدم دستیابی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، محمد یوسف

رہائشی آبادی کو پانی سے محروم رکھنا شرمناک عمل ، واٹر بورڈ انتظامیہ فی الفور رہائشی آبادی میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے،جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی

بدھ مئی 00:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی ضلع وسطی محمد یوسف نے کہا ہے کہ واٹر بورڈ کے ستا ئے ہوئے لوگ پانی کی عدم دستیابی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، واٹر بورڈ کے ذمہ داروں پانی نہیں دو گے تو اس کے نتیجے میں احتجاج ہوگا۔ رہائشی آبادی کو پانی جیسی نعمت سے محروم رکھنا شرمناک عمل ہے۔ واٹر بورڈ انتظامیہ فی الفور رہائشی آبادی میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی نارتھ کراچی زون کے تحت پانی کی شدید قلت کے خلاف بارہ دری چوک پراحتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مظاہرین نے پانی کی عدم دستیابی اور واٹر بورڈ کی نااہلی کے خلاف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔محمد یوسف نے مزید کہا کہ شہر کراچی مسائل سے دو چار ہے، پانی،، بجلی،، مہنگائی اور بے روزگاری مسئلہ بن چکا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جب نعمت اللہ خان اس شہر کے سٹی ناظم تھے تو وہ اس بات سے واقف تھے کہ اس شہر کراچی کی آبادی مستقل بڑھ رہی ہے، تو انہوں نے K3کا منصوبہ بنایا جس سے شہر کراچی کو پانی میسر ہو، اس کے بعد K4کا منصوبہ بنایا۔ اس کے بعد 4سال مصطفیٰ کمال نے حکومت کی، مصطفی کمال لوگوں کو بتائو کہ4 K کا منصوبہ مکمل کیوں نہیں ہو،4 Kکا منصوبہ مکمل ہوجاتا تو شہر کواچی کا پانی مکمل ہوجاتا ۔

انہوں نے کہا کہ نا رتھ کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، شہری بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں ،ماہ مقدس کا بھی احترام نہیں کیا جارہا۔شدید گرمی اور رمضان المبارک میں وضو کے لیے پانی دستیاب نہیں،شہریوں کو پانی جیسی نعمت سے محروم رکھنا شرمناک عمل ہے،واٹر بورڈ کا محکمہ بدعنوانی اور بھتہ خوری کا گڑھ بن چکا ہے، ٹینکر مافیا کی ملی بھگت سے رہائشی علاقوں میں پانی کی مصنوعی قلت پیدا کی جارہی ہے ،کئی کئی ہفتوں پانی فراہمی نہیں ہوتی،عوام مضر صحت پانی مہنگے داموں واٹر ٹینکر خرید نے پر مجبور ہیں عوام کو کس گناہوں کی سزادی جارہی ہے۔

غیر قانونی راٹرہائیڈرنٹس اور ٹینکر مافیا کی سرپرستی میں واٹر بورڈ کا عملہ وافسران اور حکومتی اہلکار ملوث ہے۔مظاہرے سے شہزاد مظہر،فیصل جمیل اور شکیل احمد نے بھی خطاب کیا۔#