نواز شریف نے احتساب عدالت میں اپنے نکالنے کی 4 بڑی وجوہات بتادیں

مجھے نکالے جانے کی سب سے بڑی وجہ پرویز مشرف کی خلاف غداری کیس،میں نے سرجھکا کر نوکری کرنے سے انکار کیا، ایک خفیہ ادارے کے سربراہ کا پیغام پہنچایا گیا کہ مستعفی ہو جاؤ یا طویل رخصت پرچلےجاؤ ،سابق وزیراعظم نواز شریف کا ایون فیلڈ ریفرنس میں بیان

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ مئی 10:49

نواز شریف نے احتساب عدالت میں اپنے نکالنے کی 4 بڑی وجوہات بتادیں
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔23مئی 2018ء) شریف خاندان کےخلا ف ایوان فیلڈ ریفرنس کی احتساب عدالت میں سماعت ہوئی۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مسلسل تیسرے روز اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ مجھے دھمکی نما مشورہ دیا گیا کہ بھاری پتھر اٹھانے کا ارادہ ترک کردو۔مجھے بذریعہ زرداری پیغام دیاکہ سابق صدر مشرف کےدوسرےمارشل لاءکوپارلیمانی توثیق دی جائے۔

میں نے مشرف کے دوسرے مارشل لاء کو پارلیمانی توثیق دینے سے انکار کیا۔۔نواز شریف نےاحتساب عدالت میں اپنا بیان اردومیں پڑھ کر سنایا۔۔نواز شریف نے اپنے نکالنے کی 4 بڑی وجوہات بتادیں۔مجھے نکالے جانے کی سب سے بڑی وجہ پرویز مشرف کی خلاف غداری کیس ہے۔میں نے اپنا گھردرست کرنے اوراپنے آپ کو سنوارنے کی بات کی ۔

(جاری ہے)

میں نے خارجہ پالیسی کو نئے رُخ پر استوار کرنے کی کوشش کی۔

میں نے سرجھکا کر نوکری کرنے سے انکار کیا۔2014کے دھرنے کرائے گئے۔2014کے دھرنوں کا مقصد مجھے دباؤمیں لانا تھا۔۔نواز شریف نے کہا کہ امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے، کون تھا وہ امپائر؟۔۔نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ دھرنوں سے دو ماہ قبل عمران خان سے بنی گالا میں ملاقات ہوئی تو عمران خان نے دھرنا دینے کاکوئی اشارہ نہ دیا۔پھر عمران خان اور طاہر القادری کی ملاقات ہوئی۔

مشرف کیس چلتا رہا اور دھرنا دے دیا گیا۔لیکن ان دھرنوں کے پیچھے کون ہے۔وہ پوارا ملک جانتا ہے۔ مشرف غداری کیس قائم کرتے ہی مشکلات اور دباؤ بڑھادیا گیا،،نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ ہے میرے اصل جرائم کا خلاصہ۔اس طرح کے جرائم اور مجرم پاکستانی تاریخ میں جابجا ملیں گے۔۔نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ایک خفیہ ادارےکےسربراہ کا پیغام پہنچا یا گیا کہ مستعفی ہوجاؤیا طویل رخصت پرچلےجاؤ ۔

کاش آپ لیاقت علی خان،،ذوالفقاربھٹو کی روح سےپوچھ سکتےکہ آپکےساتھ کیا ہوا۔کاش آج آپ بینظیربھٹوکی روح کوطلب کرکے پوچھ سکتےکہ آپکےساتھ کیا ہوا؟۔ یہاں جتنے گواہان پیش ہوئے کسی نے گواہی نہیں دی کہ میں نے کوئی جرم کیا،آپ اورمجھ سمیت سب کو اللہ کی عدالت میں پیش ہوناہے،،نواز شریف کا عدالت کہنا تھا کہ ریفرنس کا فیصلہ آپ پر چھوڑ رہاہوں۔

مجھے آئینی مدت کبھی پوری کرنے نہیں دی گئی، مجھے خطرناک مجرم قراردےکر جہاز کی سیٹ سے باندھ دیا گیا۔مجھے جلاوطن کردیا گیا،میری جائیددایں ضبط کر لی گئیں۔ملک واپس آیا تو ہوائی اڈے سے روانہ کر دیا گیا۔۔نواز شریف کا عدالت میں کہنا تھا کہ میں اس وقت حقیقی جمہوریت کی بات کر رہا ہوں۔داخلی اور خارجی پالیسیوں کی باگ دوڑ منتخب نمایندوں کے پاس ہی ہونی چاہئیے۔میں پاکستان کا بیٹا ہوں مجھے پاکستان کے ذرے ذرے سے پیار ہے۔میں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا اپنی توہین سمجھتاہوں۔۔نواز شریف کا عدالت میں  بیان دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہنا تھا کہ نا اہلی،پارٹی صدارت سے ہٹانےکے اسباب ومحرکات کوقوم اچھی طرح جانتی ہے۔