ایسا لگتاہے کہ ن لیگ کو تحریک انصاف کے 100 روزہ پلان سے بڑی تکلیف ہوئی ہے

معروف صحافی تحریک انصاف کے سو روزہ پلان کو بے کار کہنےپر مسلم لیگ ن کو آڑے ہاتھوں لے لیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ مئی 10:56

ایسا لگتاہے کہ ن لیگ کو تحریک انصاف کے 100 روزہ پلان سے بڑی تکلیف ہوئی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 مئی 2018ء) ::نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی عارف نظامی نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے پاکستان تحریک انصاف کے سو روزہ پلان پر تھوڑا سا انڈر پلے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے اس معاملے پر پریس کانفرنس کی ، جس میں احسن اقبال کے ساتھ مفتاح اسماعیل اور ہارون افتخار بیٹھے تھے جبکہ وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب بھی ایک کونے میں بیٹھی ہوئی نظر آئیں۔

بظاہر ایسا لگتا ہےکہ مسلم لیگ ن کو پاکستان تحریک انصاف کا جو سو دن کا پلان ہے ، اس سے بڑی تکلیف ہوئی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اس پلان پر عمل نہیں کر سکے گی۔ میرے خیال میں تحریک انصاف اگر اس پر نہیں عمل کر سکے گی تو یہ اس کا مسئلہ ہے ، اس سے آپ کو کیوں مسئلہ ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ یہ پلان قابل عمل نہیں ہے بے کار ہے ٹریش کیا جا رہا ہے، لیکن دوسری طرف احسن اقبال نے کہا ہے کہ یہ پلان 2025ء کے لیے بنائے گئے میرے پلان کی نقل ہے اور میرے منصوبے کا چربہ ہے۔

اگر انہوں نے واقعی نقل کی ہے تو کسی کے آپ کے پلان کی نقل کرنے پر آپ کو تو خو ش ہونا چاہئیے ،یہ لوگ اُلٹا ان کو طعنے دے رہے ہیں کہ یہ منصوبہ پریکٹیکل نہیں ہے۔ میں جب سے احسن اقبال کو دیکھ رہا ہوں ، انہوں نے پہلے 2010ء کا پلان دیا ، پھر 2020ء کا پلان دیا اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ان کا 2025ء کا پلان تھا جسے نقل کر کے پاکستان تحریک انصاف نے پیش کر دیا ہے۔

احسن اقبال آج تک اپنے کسی بھی ہلان میں کامیاب نہیں ہوئے۔ کیونکہ وہ پروفیسر آدمی ہیں ، وہ پریکٹیکل نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے پاکستان تحریک انصاف کے سو روزہ پلان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا 100دن کا پروگرام دیکھا توہنسی آئی،نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔۔احسن اقبال نے کہا کہ مسئلہ 100 دن کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ 1825 تک کا ہے۔ قوم کو دیکھنا چاہیے کہ کون سی جماعت وعدے کرتی ہے پھر ان وعدوں کو پورا بھی کرتی ہے۔عوام کی عدالت میں تین جماعتیں موجود ہیں۔ ایک دن کراچی ، ایک دن لاہور اور ایک پشاور میں گزاریں معلوم ہوجائے گا کہ کس جماعت نے کتنا ڈیلیور کیا ہے۔