شنگھائی تعاون تنظیم دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف موثر فورم، پورے خطے کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،

پاکستان نے سیاسی اتفاق رائے سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں، رکن ممالک دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ْسیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا ایس سی او قانونی ماہرین کے اجلاس کی افتتاحی نشست سے خطاب

بدھ مئی 12:10

شنگھائی تعاون تنظیم دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف موثر فورم، پورے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم پورے خطے کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔۔پاکستان نے سیاسی اتفاق رائے سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے قانونی ماہرین کے اجلاس کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 200 ملین صارفین کی مارکیٹ ہے۔۔پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے لئے باہمی تجارت اور تعاون کے لئے شاندار مواقع فراہم کرتا ہے۔

(جاری ہے)

وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ تاریخی ، دوستانہ اورتجارتی تعلقات ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو شکست دی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں پاکستانی شہری شہید ہوئے ہیں اور بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے تاہم اس کے باوجود ہم دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سیاسی اتفاق رائے سے کوششیں کی ہیںجس کے تحت ہم ملک کی تقدیر بدلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ اہم نے انسداددہشت گردی کی قومی حکمت عملی وضع کی ہے جو کہ قانون کی حکمرانی ، شہریوں اور میڈیا کی شمولیت ، مربوط تعلیمی اصلاحات سمیت دیگر نکات پر مشتمل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہتا ہے۔۔پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف شنگھائی تعاون تنظیم کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے تاہم انسدداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اقدامات اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق ہونے چاہئیں اور اس پر دورہ معیار نہیں ہونا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات پر عالمی اتفاق رائے ہیں کہ دہشت گردی کو کسی مذہب اور قوم سے نہیں جوڑا جا سکتا ۔ ہمیں یقین ہیں کہ ایس سی او دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف موثر فورم ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے ہمارے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اجلاس میں روس ، چین ، ازبکستان ، تاجکستان ، کرغزستان اور بھارت کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم کے اس گروپ کے اجلاس کا مقصد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف علاقائی سطح پر مربوط کوششوں کو یقینی بنانا ہے ۔اجلاس میں علاقائی سلامتی سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ مہمان وفود نے اجلاس کے لئے شاندار انتظامات کرنے پر پاکستان کی تعریف کی۔