کپاس کی بڑھوتری کے ابتدائی45 دن کے دوران کھیتوں کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھا جائے تو بھرپور پیداوار حاصل ہوتی ہے،محکمہ زراعت

بدھ مئی 12:34

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) محکمہ زراعت پنجاب نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ کپاس کی فصل کی بڑھوتری کے ابتدائی45دن کے دوران کھیتوں کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھا جائے تو بھرپور پیداوار حاصل ہوتی ہے۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے بتایا ہے کہ کپاس کے پودوں پر گڈی بننے اور پھول لگنے سے پہلے جڑی بوٹیوںکی تلفی سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

اٹ سٹ، ڈیلا، تاندلہ بوٹی، چبڑ، کھبل، مدھانہ اور برو کپاس کے کھیتوں میں اگنے والی اہم جڑی بوٹیاں ہیں ۔کاشتکار کھیتوں کا ہر فصل کے آغاز اور اختتام پر سروے کریں تاکہ ان کو اپنے کھیت میں موجود جڑی بوٹیوں کی اقسام اور تعداد کا اندازہ ہو جائے جس سے انہیںجڑی بوٹیوں کی تلفی میں مدد ملے گی۔

(جاری ہے)

کپاس کے کاشتکارایسا لائحہ عمل اختیار کریں کہ جس سے پورا سال کھیت میں اگنے والی جڑی بوٹیاں نقصان کی معاشی حد سے تجاوز نہ کرسکیں۔

جڑی بوٹی مار زہروں کا بے جا استعمال جڑی بوٹیوں میں قوت مدافعت پیدا کرتا ہے ۔زرعی زہروں کا استعمال صرف ضرورت کے تحت اورصحیح وقت پر کیا جائے۔ صرف ایک گروپ کی زہروں پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ ہر سال مختلف طریقہ اثر والی ادویات کاسپرے کیا جائے۔ دو مختلف ادویات کو ملاکرسپرے کرنے سے پہلے ان کے آپس میں باہمی تعامل کی نوعیت کو مدنظر رکھا جائے۔

جڑی بوٹی مار زہروں کے استعمال کے وقت مناسب سپرے مشینوں اور نوزل کا استعمال کیا جائے تاکہ جڑی بوٹی مار زہر وں کی افادیت بڑھائی جا سکے۔ جڑی بوٹیوں کو بیج بننے سے پہلے تلف کیا جائے اور کھیت کے کناروں اور کھالوںمیں اگنے والی جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی کیلئے گلائیفوسیٹ، گرامکسون یا دوسری جڑی بوٹی مار زہریں استعمال کی جائیں۔ زرعی مشینری اور آلات کو استعمال کے بعد اچھی طرح صاف کیا جائے تاکہ جڑی بوٹیوں کے بیج ایک کھیت سے دوسرے کھیت میں منتقل نہ ہو سکیں۔

متعلقہ عنوان :