پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس نے 2013ء سے اب تک چین، کینیڈا، جرمنی، جاپان سمیت 100 ممالک کو سافٹ ویئر‘ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ،کال سنٹر جیسی آئی ٹی کی خدمات فراہم کی ہیں

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات کا قومی اسمبلی میں تحریری جواب

بدھ مئی 13:18

پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس نے 2013ء سے اب تک چین، کینیڈا، جرمنی، ..
اسلام آباد۔ 23 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس نے یکم جنوری 2013ء سے اب تک 100 سے زائد ممالک کو سافٹ ویئر‘ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ خدمات اور کال سنٹر جیسی آئی ٹی کی خدمات فراہم کی ہیں۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات کی جانب سے عبدالقہار خان ودان کے سوال کے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ امریکہ‘ متحدہ عرب امارات اور برطانیہ تین ایسے ممالک ہیں جن کے حصے میں کل آئی سی ٹی برآمدات کا 71 فیصد آتا ہے۔

ایوان کو بتایا گیا ہے کہ سٹیٹ بنک کی جانب سے دو سہ ماہیوں سے متعلق رپورٹ میں جن ممالک کو آئی ٹی کی خدمات فراہم کی گئی ہیں ان میں سنگا پور‘ ملائیشیا‘ آئرلینڈ‘ چین بشمول ہانگ کانگ ‘ سعودی عرب‘ کینیڈا‘ جرمنی‘ جاپان‘ ناروے‘ آسٹریلیا‘ سویڈن‘ انڈونیشیا‘ افغانستان‘ سوئٹزرلینڈ‘ جنوبی کوریا‘ ڈنمارک‘ بیلجیئم‘ سری لنکا‘ جنوبی افریقہ‘ فرانس‘ عمان‘ ترکی ‘ قطر‘ سپین اور کویت شامل ہیں۔

(جاری ہے)

ایوان کو بتایا گیا کہ صنعت کی معاونت ‘ پالیسی سازی‘ بین الاقوامی مارکیٹنگ کا فروغ‘ کاروبار اور سرمایہ کاروں کی سہولت کاری‘ کمپنی سرٹیفکیشن‘ آئی ٹی تربیت و انٹرن شپ اور آئی ٹی پارک و آئی ٹی آفس سپیس کے قیام جیسے امور کے ذریعے آئی ٹی کی صنعت کو فروغ دیا جارہا ہے۔ ایوان کو بتایا گیا کہ آئی ٹی اور آئی ٹی ایس انڈسٹری کیلئے کئی ترغیبات دی گئی ہیں جن میں 2019ء تک آئی ٹی برآمدات پر زیرو انکم ٹیکس‘ کم از کم ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کے بغیر آئی ٹی اداروں کے لئے تین سالہ ٹیکس ہائی وے غیر ملکی‘ سرمایہ کاروں کو 100 فیصد ایکویٹی آنر شپ ‘ سرمایہ اور منافع کی سو فیصد واپسی‘ 2024ء تک ونچر کیپٹل فنڈ کے لئے ٹیکس ہالی ڈے شامل ہیں۔

ایوان کو بتایا گیا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات سافٹ ویئر برآمد نہیں کرتی تاہم اس کا ملحقہ ادارہ یعنی پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ آئی ٹی اور آئی ٹی ایس برآمدات کو بڑھانے کی غرض سے مقامی آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس صنعت کو سہولیات بہم پہنچانے اور فروغ دینے کا ذمہ دار ہے۔