رمضان پروگرامز سے متعلق عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر جسٹس شوکت عزیز اینکر ساحر لودھی پر شدید برہم

ساحر لودھی آپ کو شرم آنی چاہئیے آپ اپنے پروگرام میں بچیوں سے ڈانس کرواتے ہیں،جسٹس شوکت عزیز

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ مئی 12:56

رمضان پروگرامز سے متعلق عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر جسٹس شوکت عزیز اینکر ..
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔23مئی 2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے رمضان پروگرامز سے متعلق سماعت میں جسٹس شوکت عزیز نے اینکر ساحر لودھی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔دوران سماعت جسٹس شوکت عزیز آبدیدہ ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق رمضان ٹرانسیشن کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز آبدیدہ ہو گئے۔دوران سماعت جسٹس شوکت عزیز نے اینکر ساحر لودھی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ساحر لودھی آپ کو شرم آ نی چاہئیے۔

آپ پروگرام میں بچیوں سے ڈانس کرواتے ہیں۔۔عدالت نے اینکر ساحر لودھی اور نبیل کی معافی قبول کر لی ہے۔جب کہ عامر لیاقت کا توہین عدالت کا نوٹس واپس ہونے پر معاملہ پیمرا کو بھجوا دیا گیا ہے۔۔جسٹس شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین وینا ملک کو پرواگرام میں اپنے ساتھ بٹھا لیتے ہیں۔

(جاری ہے)

کیا یہ تقوی ہے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے رمضان پروگرامز سے متعلق عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر 8 ٹی وی چینلز کو نوٹسز جاری کیے تھے۔

۔۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست گزار کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ مختلف ٹی وی چینلز اس طرح کے پروگرام نشر کر رہے ہیں جو عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے۔ اس پر ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے متعلقہ ٹی وی چینلز اور اینکر پرسن کو نوٹس جاری کیا تھا۔ 09 مئی کو اسلام آباد ہائی کوٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے ایک فیصلے میں ٹی وی چینلز کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ رمضان المبارک میں لاٹری، جوا اور سرکس جیسے پروگرامز پر پابندی ہوگی۔

۔۔عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا تھا کہ رمضان کے مبارک مہینے میں پیمرا کی گائڈلائن کے برخلاف کوئی پروگرام نشر نہیں ہوگا اور تمام پروگراموں کی سخت نگرانی کی جائے گی جبکہ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف کارروائی ہوگی۔عدالتی حکم میں کہا گیا کہ کوئی لاٹری اور جوا پر مشتمل پروگرام، یہاں تک کے حج اور عمرے کے ٹکٹس کے حوالے سے بھی کسی چیز کو براہ راست یا ریکارڈیڈ نشر نہیں کیا جائے گا، اس کے علاوہ نیلام گھر اور سرکس جیسے پروگرامات لازمی رکنے چاہئیں۔اس کے علاوہ عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ غیر ملکی مواد، خاص طور پر بھارتی ڈارمے، اشتہارات اور فلموں پر پابندی ہوگی جبکہ صرف 10 فیصد غیر ملکی مواد ضابطہ اخلاق کے تحت نشر کرنے کی اجازت ہوگی.