روہنگیا شدت پسندوں نے 99ہندوؤں کا قتلِ عام کیا، ایمنسٹی انٹرنیشنل

ہلاکتوں کے یہ واقعات میانمار کی فوج کے خلاف بغاوت کے ابتدائی دنوں میں پیش آئے،رپورٹ

بدھ مئی 13:34

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقات نے کہاہے کہ روہنگیا مسلمان شدت پسندوں نے گذشتہ سال اگست میں مختلف حملوں کے دوران درجنوں ہندو شہریوں کو ہلاک کیا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ نے ایک بیان میں کہاکہ ارسا نامی اس گروہ نے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے ایک یا دو واقعات میں 99 ہندو شہریوں کو قتل کیا تاہم، ارسا نے ایسا کوئی بھی حملہ کرنے سے انکار کیا ۔

ہلاکتوں کے یہ واقعات میانمار کی فوج کے خلاف بغاوت کے ابتدائی دنوں میں پیش آئے۔ میانمار کی فوج پر بھی اس قسم کے تشدد کا الزام لگایا جاتا ہے۔ایمنسٹی کا کہنا تھا کہ اس نے بنگلہ دیش اور ریاست رخائن میں متعدد پناہ گزینوں کے انٹرویو کیے، جن سے تصدیق ہوئی کہ آراکان روہنگیا سالویشن آرمی یا ارسا کے ارکان نے یہ اگست 2017 کے اواخر میں شمالی مونگدا میں واقع دیہات میں کیے تھے۔

(جاری ہے)

یہ وہی وقت تھا جب برمی پولیس کی چوکیوں پر حملے بھی کیے گئے تھے۔تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ارسا دوسرے علاقوں میں شہریوں کے خلاف چھوٹے پیمانے کے تشدد کی ذمہ دار بھی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ارسا کے اراکین نے 26 اگست کو ہندو گاؤں پر حملہ کیا۔رپورٹ میں کہا گیاکہ اس ظالمانہ اور بے معنی حملے میں ارسا کے ارکان نے بہت سے ہندو خواتین، مردوں اور بچوں کو پکڑا اور گاؤں کے باہر لے جا کر مارنے سے پہلے ڈرایا۔

اس حملے میں زندہ بچ جانے والے ہندوؤں نے ایمنٹسی کو بتایا کہ انھوں نے اپنے رشتہ داروں کو مرتے دیکھا یا ان کی چیخیں سنیں۔آہنوک کھامونگ سیک نامی گاؤں کی ایک خاتون نے کہا، ’انھوں نے مردوں کو مار ڈالا، ہم سے کہا گیا کہ ان کی طرف نہ دیکھیں۔ ان کے پاس خنجر تھے۔ کچھ نیزے اور لوہے کے راڈز بھی تھے۔ ہم جھاڑیوں میں چھپے ہوئے تھے اور وہاں سے کچھ کچھ دیکھ سکتے تھے،میرے چچا، والد، بھائی سب کو قتل کیا گیا تھا۔

یہاں 20 مردوں، 10 عورتوں اور 23 بچوں کو قتل کرنے کے الزامات ہیں، جن میں سے 14 کی عمر 8 سال سے کم تھی۔ایمنسٹی نے کہا کہ پچھلے سال ستمبر میں اجتماعی قبروں سے 45 افراد کو لاشیں نکالی گئیں۔ تاہم قریبی دیہات ’ییبوک کیار‘ کے 46 افراد کی لاشیں تاحال نہیں ملیں۔تحقیقات کے مطابق یے بوک کیار‘ میں بھی قتل عام اسی روز ہوا جس دن آہنوک کھامونگ سیک پر حملہ ہوا تھا۔

اس طرح اموات کی کل تعداد 99 ہے۔ایمنسٹی نے میانمار کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے چلائے جانے والی مہم پر بھی تنقید کی ہے جو نامناسب اور غیرقانونی ہے۔انسانی حقوق تنظیم کی رپورٹ کے مطابق میانمار کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے روہنگیا آبادی کی نسل کشی کے بعد ہی ارسا کی جانب سے یہ حملے کیے گئے۔ایمنیسٹی کی اہلکار ترانا حسن کا کہنا تھا کہ یہ انکوائری شمالی ریاست رخائن میں ارسا کی جانب سے انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالتی ہے، جسے خبروں میں زیادہ اجاگر نہیں کیا گیا۔