سندھ طاس معاہدہ ،ْ

بھارتی خلاف ورزی پر پاکستان کا عالمی بینک سے تحفظات کا اظہار 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہد ہ طے پایا تھا ،ْرپورٹ پاکستانی وفد کی معاہدے کے ضامن کی حیثیت سے عالمی بینک سے کردار ادا کرنے کی درخواست سندھ طاس معاہدہ ایک انتہائی اہم بین الاقوامی سمجھوتہ ہے ،ْ عالمی بینک

بدھ مئی 14:16

سندھ طاس معاہدہ ،ْ
نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدیکی خلاف ورزیوں پر اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی قیادت میں 4 رکنی وفد نے عالمی بینک کے صدر اور دیگر حکام سے ملاقات کی اور پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا۔پاکستانی وفد نے معاہدے کے ضامن کی حیثیت سے عالمی بینک سے کردار ادا کرنے کی درخواست بھی کردی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بات چیت میں سندھ طاس معاہدے کے دائرے میں رہتے ہوئے مسئلے کے پٴْرامن حل کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

(جاری ہے)

عالمی بینک کے سربراہ اور حکام سے 3 روزہ بات چیت کے سلسلے کے دوران بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، کشن گنگا، رتلے اور دیگر 12 منصوبوں کی تعمیر پر بات چیت کی جائے گی۔ترجمان عالمی بینک کے مطابق سندھ طاس معاہدہ ایک انتہائی اہم بین الاقوامی سمجھوتہ ہے جو پانی کی مینجمنٹ سے متعلق موجودہ اور مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور بھارت کو تعاون کا موثر فریم ورک فراہم کرتا ہے تاکہ ترقیاتی اہداف کا حصول اور انسانی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔واضح رہے کہ حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سندھ طاس معاہدے کے خلاف بنائے گئے کشن گنگا پاور پلانٹ کا افتتاح کیا تھاجس پر پاکستان نے اعتراض اٹھایا تھا۔