پی ٹی آئی کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ، جہانگیر ترین شریک نہیں ہوئے

جہانگیر ترین مبینہ طور پر شاہ محمود قریشی سے ناراضگی کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ مئی 13:44

پی ٹی آئی کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ، جہانگیر ترین شریک نہیں ہوئے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 مئی 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے سینئیر رہنما شریک لیکن جہانگیر ترین شریک نہیں ہوئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اجلاس میں اسلام آباد کے اُمیدواروں کو انٹرویو لیے جا رہے ہیں ، اجلاس میں جہانگیر ترین کی عدم شرکت پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین ممکنہ طور پر شاہ محمود قریشی سے تلخ کلامی اور ناراضگی کے سبب اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی کے سینئیر رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے مابین تلخ کلامی کی خبر سامنے آئی تھی۔ اجلاس میں شاہ محمود قریشی ، عارف علوی ، شیریں مزاری ،،جہانگیر ترین ، اسد عمر اور دیگر مرکزی رہنما شریک تھے۔

(جاری ہے)

اجلاس میں عام انتخابات اور دیگر معاملات پر بات کی گئی۔ اجلاس میں نگران حکومت سے متعلق پارٹی کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی نے تفصیلی بریفنگ دی ،اس موقع پر عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کے اجرا کے لیے پارلیمانی بورڈ کےاجلاس کی فوری طلبی پر بھی باہمی اتفاق ہوا۔

اجلاس میں خیبرپختونخوامیں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی کاخصوصی جائزہ لیا گیا اور تحریک انصاف نے پرویزخٹک اوران کی کابینہ کوخصوصی خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ اجلاس کے دوران شاہ محمود قریشی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل کیے گئے پارٹی رہنما رائے حسن نواز کی اجلاس میں موجودگی پر اعتراض کیا اور کہا کہ ایک نااہل قرار دیے گئے شخص کو پارٹی کے سی ای سی اجلاس میں بھیٹنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئیے۔

جس پر جہانگیر ترین نے مداخلت کی اور کہا کہ شاہ محمود قریشی کا اشارہ ان کی طرف تھا۔ اسی بات پر اجلاس میں دونوں رہنماؤں میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔جس پر پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے مداخلت کی اور آئندہ رائے حسن نواز کو کوئی بھی پارٹی عہدہ نہ دینے کی ہدایت کی اور انہیں پارٹی کے پارلیمانی بورڈ سے ہٹانے کا اعلان بھی کیا۔ اس موقع پر جہانگیر ترین نے بھی پارٹی کو خیرباد کہنے کی پیش کش کی۔ اور کہا کہ اگر پارٹی ابھی فیصلہ کرے تو وہ گھر چلے جائیں گے ، جس کے بعد نہ تو آئندہ پارٹی کے کسی اجلاس میں شرکت کریں گے نہ ہی اس کی فیصلہ سازی میں کوئی مداخلت کریں گے۔