وزیر داخلہ نے مدینہ انسٹی ٹیوٹ آف لیڈر شپ کی طرف سے اقامے کا سرٹیفکیٹ ایوان میں پیش کردیا

نامور ادارے کی طرف سے میری رکنیت ایوان اور ملک کے لئے اعزاز کی بات ہونی چاہیے‘ مجھ پر الزام لگانے والوں کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے‘ کسی کو واجب القتل قرار دینے کا حق کسی فرد‘ معاشرے یا گروہ کو حاصل نہیں ہے ‘ جہاد کا حکم صرف ریاست دے سکتی ہے وزیر داخلہ احسن اقبال کا قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال

بدھ مئی 14:22

وزیر داخلہ نے مدینہ انسٹی ٹیوٹ آف لیڈر شپ کی طرف سے اقامے کا سرٹیفکیٹ ..
اسلام آباد۔ 23 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) وزیر داخلہ احسن اقبال نے مدینہ انسٹی ٹیوٹ آف لیڈر شپ کی طرف سے اقامے کا سرٹیفکیٹ ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مدینہ منورہ کے ایک نامور ادارے کی طرف سے میری رکنیت اس ایوان اور ملک کے لئے اعزاز کی بات ہونی چاہیے‘ مجھ پر الزام لگانے والوں کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے‘ کسی کو واجب القتل قرار دینے کا حق کسی فرد‘ معاشرے یا گروہ کو حاصل نہیں ہے نہ اس حوالے سے گلی محلوں میں فتوے دیئے جاسکتے ہیں‘ جہاد کا حکم صرف ریاست دے سکتی ہے۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایک نئی زندگی لے کر اس ایوان میں دوبارہ کھڑا ہوں‘ 6 مئی کو ایک جنونی نے میری جان لینے کی کوشش کی۔

(جاری ہے)

واقعہ سے چند لمحے قبل ایک برگزیدہ اور عاشق رسولؐ کا ٹیلی فون آیا اور کسی نے کہا کہ یہ فون سن لیں میں فون سن رہا تھا کہ میری کہنی ہی میری ڈھال بن گئی۔

ایوان کے تمام ارکان اور بلاول بھٹو زرداری بھی آئے جب وہ میری فیملی کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے تھے تو ان کی آنکھوں میں نمی تھی۔ میں ان کا بے حد شکرگزار ہوں۔ جن جن لوگوں نے پیغامات بھجوائے‘ نارووال ہسپتال کے طبی عملے کا شکرگزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرے جسم میں گولی ساری عمر رہے گی جو مجھے یاد دلاتی رہے گی کہ ہم نے نفرت کے جو بیج بوئے ہیں اور وہ بارود ایسا ناسور ہے جو ہمارے معاشرے کو جلا کر رکھ دے۔

ایک ذہن جو جیوری بھی ہے اور جلاد بن کر بھی فیصلہ کرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں معاشرے ترقی نہیں کر سکتے۔ کسی کو واجب القتل قرار دینے کا کسی فرد‘ معاشرے یا گروہ کو کوئی حق حاصل نہیں ہے‘ نہ اس پر گلی اور محلوں میں فتوے دیئے جاسکتے ہیں۔ اس کا فیصلہ کرنے میں پاکستان کا آئین‘ قانون اور عدالتیں مجاز ہیں۔ یہ انارکی تو ہو سکتی ہے ریاست نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ 2000 سے زائد علماء نے فتویٰ دیا ہے کہ جہاد کا حکم صرف ریاست دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مذہبی تعصب سے بچنے کے لئے ایک آزاد ملک حاصل کرنے کی جدوجہد کی۔ مذہب‘ رنگ‘ نسل سے ملک کو بچانا ہے۔ ریاست کا کام ہر پاکستانی سے محبت ہے‘ ہر رنگ نسل اور مذہب کے فرد کا تحفظ یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دیں۔

انہوں نے حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جھگڑے انسانیت کو تباہ کردیتے ہیں۔ صدقہ خیرات سے زیادہ اہم امن کا قیام ہے۔ ہمیں نفرتیں ختم کرنے پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں نفرت کا عنصر زیادہ آگیا ہے۔ عمران خان کا شکریہ کہ انہوں نے بھی مجھے گلدستہ بھیجا مگر جو لوگ گلدستہ لے کر آئے تھے کچھ دیر بعد ٹی وی پر بیٹھ کر حملہ آور کا دفاع کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے بھی اقامہ وزیر کہا جارہا ہے۔ میں کل تک عدالت میں کیس کا انتظار کرتا رہا مگر اب اپنا کیس ایوان میں پیش کر رہا ہوں۔ مجھ پر الزام تھا کہ میں نے گارڈ کا اقامہ رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے مدینہ انسٹی ٹیوٹ آف لیڈر شپ کی طرف سے سرٹیفکیٹ کے مندرجات ایوان میں پڑھ کر سنائے کہ ادارے نے انہیں اپنا رکن قرار دیا اور ایک ماہر تعلیم کی بنیاد پر انہیں یہ سہولت فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں گلوبل اکنامکس کونسل میں ایک رکن اور لیڈر تسلیم کیا گیا جو اس ایوان اور ملک کے لئے قابل فخر بات ہے۔ ہمیں تصدیق کے بغیر باتوں کو نہیں پھیلانا چاہیے۔ اس مصدقہ دستاویز کے بعد ٹی وی پر الزام لگانے والوں کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔