دنیا بھر کو موٹاپے کے بے ہنگم طور پر بڑھتے ہوئے چیلنج کا سامنا ہے،

27 سالوں کے دوران دنیا کی ایک چوتھائی آبادی موٹاپے کا شکار ہوگی، طبی اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہوجائے گا ، طبی رپورٹ

بدھ مئی 14:22

پیرس ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) محققین نے کہا ہے کہ دنیا بھر کو موٹاپے کے بے ہنگم طور پر بڑھتے ہوئے چیلنج کا سامنا ہے ۔ اوراب سے آٴئندہ 27 سالوں کے دوران دنیا کی ایک چوتھائی آبادی موٹاپے کا شکار ہو گی جس سے طبی اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہوجائے گا ۔

(جاری ہے)

ویانا میںموٹاپا کے بارے میں یورپی ممالک کی ایک کانگریس منعقد ہوئی جس کے دوران محقق ایلن نے بتایا کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو2045 ء تک 22 فیصد لوگ موٹاپے کا شکار ہو جائیں گے جبکہ گذشتہ سال یہی شرح 14 فی صد تھی جس سے پتہ چلتاہے کہ موٹے افراد کی تعداد کے لحا ظ سے مستقبل میں موٹاپے کے بے ہنگم طور پر بڑھتے ہوئے چیلنج کا سامنا کر نا ہو گا ۔

ڈنمارک کی ادویہ ساز کمپنی نوو نورڈیسک کے شعبہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ نے کہا ہے کہ 11 میں سے ایک فرد کے ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہونے کی شرح میں بھی اضافہ ہواہے اور اب ہر 8 میں سے ایک فرد ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہے جبکہ ذیابیطس اور بڑھتے ہوئے موٹاپے کے باعث طبی اخراجات میں بھی بے تحاشا اضافہ ہو جائے گا ۔ محققین نے کہا کہ برطانیہ میں ذیابیطس کا تناسب 32فیصد سے بڑھ کر 48 فیصد ہو جائے گا جہاں پر ذیابیطس لاحق ہونے کی موجودہ شرح 10.2 فیصد ہے جو جو بڑھ کر 12.6 فیصد ہو جائے گی ۔

متعلقہ عنوان :