جدت اور معیار کو فروغ دینے کے لیے eWTP ایکو سسٹم فنڈ کا قیام

ابتدائی سرمایہ 600ملین امریکی ڈالرز ہوگا اور اس میں 'ون بیلٹ، ون روڈ' ممالک شامل ہوں گے

بدھ مئی 14:36

جدت اور معیار کو فروغ دینے کے لیے eWTP ایکو سسٹم فنڈ کا قیام
ہانگ کانگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) آج ہانگ کانگ میں eWTP Fund کے قیام کا اعلان کیا گیا جس کے قیام کا مقصد اداروں کو جدت اور معیار کو فروغ دینے کے قابل بنانا ہے۔ eWTP Fund علی بابا گروپ کا حصہ ہے اور اس کے مرکزی سرمایہ کاروں میں Ant Financial شامل ہے جس کے لیے علی بابا پارٹنرشپ کے رکن یونگ فو کو بانی پارٹنر اور eWTP Fund کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

eWTP Fund فنڈفیملی کے رکن eWTP Technology & Innovation Fund کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا جس کا ابتدائی سرمایہ 600 ملین امریکی ڈالرز ہو گا۔اس فنڈ کے قیام کا مقصد اسٹریٹجک انویسٹمنٹ کے لیے تحریک پیدا کرنا اوردنیا بھر میں کمپنیوں کی بین الاقوامی سطح پر توسیع میں تیزی لانے کے علاوہ ان آئیڈیاز کے لیے اعانت فراہم کرنا ہے جو زندگی میں تبدیلی لانے والی تیکنکی ایجادات پر مبنی ہیں اور ان کا 'ون بیلٹ، ون روڈ'پروگرام کے ساتھ بہت قریبی تعلق ہے۔

(جاری ہے)

علی بابا گروپ کے بانی اور چیئرمین، جیک ما (Jack Ma) نے کہا،”eWTPکا تصورعلی بابا کے قیام کے ساتھ ہی آیا تھا لیکن اس کا تعلق نہ علی بابا سے ہے اور نہ ہی یہ یہاں پر رکا ہوا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہرملک، ہر ادارہ، ہر انٹرپرائز اور ہر شخص eWTP کا معمار اور نمائندہ بن سکتا ہے،تاہم، علی بابا اور Ant Financial ، eWTPفنڈ کے بنیادی سرمایہ کاروں کے طور پراس نئے فنڈ ، eWTP کو لاجسٹکس اور ای کامرس میں اعانت فراہم کریں گے۔

ہم مزید شراکت داروں کو اس ایکوسسٹم میں شامل ہونے اور اس خواب کا حصہ بنے کے لیے خوش آمدید کہتے ہیں۔“ eWTP Fund وسعت پسند اور entrepreneurial ذہن رکھنے والی کمپنیوں کو سرمایہ کی فراہمی، جدت، اسٹریٹجی اورمنیجمنٹ کے شعبوں میں متنوع اور ہدف کے مطابق اعانت کی فراہمی کے ذریعہ خود eWTP کی ترقی میں سہولت فراہم کرے گا۔ جیک ما نے مزید کہا،”چین گلوبلائزیشن کے نئے راوٴنڈ میں قائد کا کردار ادا کر رہا ہے اور’ون بیلٹ ون روڈ‘ کی صورت میں مزید نجی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ eWTP کو فروغ دیں اور اس پر عمل کریں۔

ہمیں امید ہے کہ eWTP نجی شعبہ کی سربراہی میں ایک ایسی پیشرفت بن جائے گا جو ’ون بیلٹ ون روڈ‘ کے ویژن کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرے گی۔یہ کام علی بابا کے لیے بہت اہم ہے اور ہم نے یو یونگ فو (Yu Yongfu) کو eWTP Fund کے بانی پارٹنر اور چیئرمین کی حیثیت سے تعینات کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یونگ فو کے ویڑن پر عمل درآمد کے نتیجہ میں ہمارا مشن ایک حقیقت بن سکتا ہے۔

“ eWTP Fundجہاں ابتدائی طور پر بیلٹ اور روڈ سے استفادہ کرنے والے ممالک میں eWTP Technology & Innovation Fundکے ذریعہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کرے گا، یہ بتدریج اپنے فوکس کو وسعت دیتے ہوئے eWTP کی رسائی کو نئے علاقوں تک لے جائے گا۔ علی بابا پارٹنرشپ کے رکن، یو نے کہا، ” eWTP Fundکا ویژن ’ Redfine Glocal‘ مقامی انٹریپرینیورز کے لیے عالمی وسعت میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرے گا اور ان نتائج کے حصول میں eWTP Technology & Innovation Fundاہم کردار ادا کرے گا۔

یہ فنڈابھرتے ہوئے انٹریپرینیورز کے لیے entrepreneurial گائیڈ کا کام انجام دے گا، جدید متعارف کرانے والی کمپنیو ں کو راغب کرے گا eWTP ایکو سسٹم کے حصہ کے طور پر ٹیلنٹ کا کام کرے گا اور نہ صرف یہ کہ فنڈز فراہم کرے گا بلکہ اپنے پہلے سے حاصل شدہ تجربہ، معلومات اور اسی راستہ پر رہنمائی فراہم کرے گا۔“ اس مقصد کے حصول کے لیے کام کرنے کے دوران منیجمنٹ ٹیم نے نہایت باریک بینی سے اس کے تین شعبے تیار کیا ہے۔

پہلے شعبے میں سرمایہ کاری کو پیشہ ورانہ انداز دینا ہے جس کے لیے ایک انویسٹمنٹ ٹیم تشکیل دی جائے گی جو آزادانہ طور پر کام کرے گی اور eWTP کے ایکوسسٹم کے پس منظر میں فیصلے کرے گی۔یہ ٹیم ایک incentive model بھی تیار کرے گی تاکہ eWTP Fund کے لیے زیادہ اچھے نتائج حاصل کیے جا سکیں اور اس کی ترقی کو پائیدار بنایا جا سکے۔ دوسرے شعبے میں منیجمنٹ ٹیم انٹریپرینورشپ، انویسٹمنٹ، چائنیز مارکیٹ آپریشنز اور انٹرنیشنلائزیشن سے تعلق رکھنے والے قائدانہ ذہنوں پر مشتمل ٹیم کے ذریعہ کھلے اور تعمیری تجربات فراہم کرنے کے لیے کام کرے گی۔

اس میں علی بابا گروپ کے بزنس لیڈرز اور بہت سی دیگر کامیاب اسٹارٹ اپس کمپنیوں کے بانیان کے علاوہ مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے مستقبل کے پارٹنرز شامل ہوں گے جوایک جیسا ذہن رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کریں گے اورچھوٹے اور درمیانہ سائز کی انٹرپرائزز کو عالمی ادارہ بننے میں اعانت فراہم کرے گی۔ تیسرے اور آخری شعبے میں کام کرنے والی ٹیم جدت پسند انٹرپرائزز کی اعانت کے لیے وسائل تیار کرے گی اور کمپنیوں کے درمیان ٹیلنٹ اور معلومات میں اضافہ کرے گی۔

یہ ٹیم بزنس نیٹ ورکس اور پارٹنرشپس کے لیے اوپن شیئرنگ اور معلومات کے تبادلے میں سہولت فراہم کرے گی تاکہ عالمی معیشت میں کامیابی کے لیے کاروباری اداروں کی نشو ونما میں مدد فراہم کی جا سکے۔ اس میں موزوں پارٹنرز اور سرمایہ کاروں سے رابطہ کرنا بھی شامل ہے۔ 

متعلقہ عنوان :