کم جونگ ان سے ملاقات موخر ہوسکتی ہے،امریکی صدر

بدھ مئی 14:55

واشنگٹن۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے آئندہ ماہ ان کی طے شدہ ملاقات موخر ہوسکتی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں جنوبی کوریا کے صدر مون جائے ان سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سربراہی ملاقات شاید طے شدہ شیڈول کے مطابق 12 جون کو نہ ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کم جونگ ان سے ان کی ملاقات 12 جون کو نہ ہوئی تو شاید یہ آگے کسی وقت ہو۔صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ قوی امکان ہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے سربراہان کے درمیان یہ ملاقات ضرور ہوگی۔انہوں نے سربراہی ملاقات سے قبل امریکی اور شمالی کورین حکام کے درمیان ہونے والے رابطوں اور ابتدائی بات چیت کو بھی اچھا تجربہ قرار دیا۔

(جاری ہے)

صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شمالی کوریا کے سربراہ کے ساتھ مجوزہ ملاقات کے بارے میں پوری طرح سنجیدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا اس ملاقات سے قبل کچھ شرائط پر عمل درآمد چاہتا ہے اور ان کا خیال ہے کہ شمالی کوریا ان شرائط کو پورا کرنے پر آمادہ ہوجائے گا۔شرائط سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس کا جواب نہ دینے کو ترجیح دیں گے۔

تاہم انہوں نے امریکہ کے اس موقف کو دہرایا کہ شمالی کوریا کو اپنے جوہری ہتھیار لازمی ترک کرنا ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر کم جونگ ان ایسا کرنے پر آمادہ ہوگئے تو میں ان کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہوں جس سے وہ یقیناً خوش ہوں گے اور ان کا ملک مالا مال ہوجائے گا۔جنوبی کوریا کے صدر کے امریکا کے اس دورے کا مقصد صدر ٹرمپ کو شمالی کوریا کے سربراہ کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ نہ کرنے پر آمادہ کرنا تھا۔

متعلقہ عنوان :