سیاحت کے فروغ سے پاکستان کثیر زر مبادلہ کما سکتا ہے‘ایف پی سی سی آئی

شمالی علاقہ جات سمیت ملک میں بے شمار ٹورسٹ پوائنٹ ہیں جنہیں دنیا بھر میں سیاحوں کیلئے توجہ کا مرکز بنایا جا سکتا ہے لاہور ایک پرانا تاریخی شہر ہے ،مختلف فیسٹول منا کر غیر ملکی سیاحوں کی توجہ حاصل کر سکتے ہیں‘چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے ٹورازم راجہ حسن اختر

بدھ مئی 14:59

سیاحت کے فروغ سے پاکستان کثیر زر مبادلہ کما سکتا ہے‘ایف پی سی سی آئی
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) سیاحت کی صنعت مختلف ممالک کے درمیان صحت مند تعلقات کو فروغ دینے میں بہت مدد کرتی ہے،سیاحت سیاحوں کی طرف سے سامان اور خدمات کی ادائیگی کی شکل میں مقامی معیشت میں آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے،ملک کی معیشت کو بڑھانے کے لحاظ سے یہ بہت اہم صنعت ہے،سیاحت کے فروغ سے پاکستان کثیر زر مبادلہ کما سکتا ہے،جو معدنی وسائل ہمارے شمالی علاقوں میں بہتات سے پائے جاتے ہیں جن کو بروئے کار لا کر بہت بڑی تعداد میں چھوٹی انڈسٹریز قائم کی جاسکتیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی قائمہ کمیٹی برائے --’’ٹورازم‘‘ کے چیئرمین اورلاہور چیمبر میں آزاد گروپ کے بانی چیئرمین راجہ حسن اختر نے ایف پی سی سی آئی ریجنل آفس لاہور میں ’’پاکستان میں سیاحت کے فروغ‘‘کے عنوان سے منعقدہ خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ انسانیت ہمیشہ ہر چیز کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے ،جس کے نتیجے میں سیاحت دنیا میں سب سے بڑی صنعت بن چکی ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے علاوہ سندھ،،،بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں بے شمار ٹورسٹ پوائنٹ ہیں جنہیں دنیا بھر میں سیاحوں کے لیے توجہ کا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہمیں پاکستان میں ٹورازم کے فروغ کے لئے انتھک محنت کرنا ہوگئی۔انہوں نے کہاکہ شمالی علاقہ جات کے علاوہ سندھ،،،بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں بے شمار ٹورسٹ پوائنٹ ہیں جنہیں دنیا بھر میں سیاحوں کے لیے توجہ کا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔

لاہور ایک پرانا تاریخی شہر ہے اور اس تاریخی شہر میں کئی عمارتیں تاریخی لحاظ سے بہت اہم ہیں ہم لاہور میں مختلف فیسٹول منا کر غیر ملکی سیاحوں کی توجہ حاصل کر سکتے ہیں۔ایف پی سی سی آئی قائمہ کمیٹی برائے ’’کاٹیج انڈسٹری‘‘ کے چیئرمین محمد یاسین نے کہاکہ وہ یونیورسٹیوں اور کالجزکے طلباء و طالبات کی راہنمائی کی جائے گئی ۔اس سے جہاں بے روزگاری کو کم کرنے میں مدد ملے گئی وہیں ہم زیادہ زر مبادلہ اکھٹا کرسکیں گے۔

کمیٹی ممبر محمد یاسین نے کہاکہ دنیا میں 8000قسم کے کھیل ہیں۔اگر ہم کھلے میدانوں کو استعمال کرکے کھیل کے میدان تعمیر کریں تواس سے نہ صرف وہاں مقامی آبادی کو روزگار میسر آئے گا بلکہ صحت مندانہ سرگرمیاں بھی فروغ پائیں گی۔اجلاس میں ٹی ڈی سی پی ،پی ایم ڈی سی اور دیگر اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔