اگر فاروق حیدر حکومت آزاد کشمیر حکومت کے وقار واختیار کو بحال کرنے میں سنجیدہ ہے تو کشمیر کونسل کو ختم کرنے کے بجائے 03اگست 1979کے اپنی حکومت کے نوٹیفکیشن کو واپس لے لے‘خواجہ فاروق احمد

بدھ مئی 14:59

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) تحریک انصاف آزاد کشمیر کے سینئر نائب صدر خواجہ فاروق احمد نے ایکٹ 1974میں مجوزہ ترامیم کشمیر کونسل کے ختم کرنے کے حکومتی اعلانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر فاروق حیدر حکومت آزاد کشمیر حکومت کے وقار واختیار کو بحال کرنے میں سنجیدہ ہے تو کشمیر کونسل کو ختم کرنے کے بجائے 03اگست 1979کے اپنی حکومت کے نوٹیفکیشن کو واپس لے لے۔

جسکے تحت انکم ٹیکس اور آڈٹ کے محکمہ جات معہ سٹاف کشمیر کونسل کے حوالے کر دیئے گئے تھے جب نوٹیفکیشن کی منسوخی کے بعد یہ دونوں اہم ترین محکمہ واپس حکومت آزاد کشمیر اسمبلی کے دائرہ کار میں آجائیں گے تو حکومت آزاد کشمیر کا اختیار مالی وانتظامی لحاظ سے خود بخود بحال ہو جائے گا اور کشمیر کونسل ایک ایسا آئینی نمائشی ادارہ بن جائے گا جس سے ریاست اور وفاق کے درمیان تعلق قائم رہے گا۔

(جاری ہے)

خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں آئینی رکائوٹیں پیدا ہوئیں ہیں۔وفاقی حکومت نواز شریف کی ہدایت پر جلد بازی میں ایسے اقدامات نہ کرے کہ ہمارا اختیار مزید کم ہو جائے کہ جو آئینی مسودہ اس وقت وفاقی کابینہ کو پیش کیا گیا ہے اسکی منظوری کے بعد ایف بی آر کسٹم، ایف آئی اے، پیپرا ودیگر NABوفاقی ادارے بغیر روک ٹوک آزاد کشمیر میں آکر کارروائیاں کر سکیں گے۔

حکومت آزاد کشمیر کے ہاتھ مزید باندھ دیئے جائیں گے کشمیر کونسل کی جگہ جو ایڈوائزری بازی بنائی جا رہی ہے وہ وزارت امور کشمیر کی یاد تازہ کر دے گی۔کشمیر کونسل سے آپ صرف صرف در محکمے انکم ٹیکس اور آڈٹ واپس لے لیں مزید ایکٹ 1974کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کر کریں وگرنہ لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ججز کی تقرری کرنے والی کمیٹی میں قائد حزب اختلاف کو توازن قائم رکھنے کیلئے رکھا جانا ضروری ہے جسطرح وفاق میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ راجہ فاروق حیدر خان کی اختیارات کے حوالے سے انکی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا۔لیکن جلد بازی میں ہم مزید اختیارات سے محروم ہو جائیں گے ہماری داخلی خود مختاری بری طرح متاثر ہو گی اگر نواز شریف جاتے جاتے کچھ دینا چاہتے ہیں تو 03اگست 77کے نوٹیفکیشن کی منسوخی کے بعد اپنی حکومت کو عمل درآمد کرنے کی ہدایت کریں بقیہ کام آنے والی وفاقی حکومت پر چھوڑ دیں ہمارا اختیار بحال ہو جائے گا۔