تنازعہ کشمیر ایک دیرینہ انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے ، زبردستی کی مہمان نوازی ذہنی تشدد کے مترادف ہے، جماعت اسلامی کی بھارتی فوج کی افطار پارٹی میں شرکت سے انکار کرنے والی کشمری طالبات پر فائرنگ کی مذمت

بدھ مئی 15:36

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میںجماعت اسلامی نے شوپیاںکے علاقے ڈی کے پورہ میں بھارتی فوج کے زیر اہتما م افطار پارٹی میں شرکت سے انکارکرنے والے کشمیریوں پر اندھادھند فائرنگ سے چار طالبات کے زخمی ہونے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ کارروائی ہر لحاظ سے انسانیت کشُ اور ناقابل برداشت ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جماعت اسلامی کے ترجمان نے سرینگر میںجاری ایک بیان میں کہا کہ دنیا کے کسی قانون یا رواج کے ذریعے کسی کو زبردستی مہمان بننے پر مجبور نہیں کرسکتا ہے۔

انہوںنے کہا کہ روزہ اور افطاری مکمل طورپر مسلمانوں کا ایک دینی معاملہ ہے اور افطار کرنا اور کرانا بھی انہی کا فریضہ ہے اور ان معاملات میں مداخلت دینی معاملات میں بے جا مداخلت کے مترادف ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ ایک طرف بے گناہ لوگوں کو فوجی کیمپوں پر بلاکر ہراساں کیا جاتا ہے اور اٴْنہیں ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور دوسری طرف انہی لوگوں کوقابض فوج کے زیر اہتما م افطار پارٹیوں میں شرکت پر مجبور کیا جاتا ہے۔

جماعت اسلامی کے ترجمان نے کہاکہ بھارتی فوج کے اہلکاروں کی نظروں میں کشمیری مسلمان دہشت گرد ہیں جو ان کے رویہ سے ہی واضح ہے۔انہوںنے کہاکہ جموںوکشمیر کا تنازعہ ایک دیرینہ انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے اور اس کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کے مطابق یا سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جاسکتا ہے۔ادھر نام نہاد اسمبلی کے رکن اور عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر عبدالرشید نے ایک بیان میںشوپیاں میں بھارتی فوج کی طر ف سے افطاری کے نام پر رچائے گئے ڈرامہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کی طرف سے نہتے شہریوں پر تشددکرنا اور ان پر گولیاں برسانا ناقابل قبول ہے۔

انہوںنے کہا کہ’’جہاں ایک کشمیری شہری کو فوجی جیپ کے آگے باندھ کر انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کرنے والے میجر آدتیہ جیسے فوجی افسر کو نہ صرف پزیرائی ملی ہو بلکہ انہیں سپریم کورٹ سے بھی شاباشی ملی ہو وہاں فوج کی طرف سے افطار پارٹی کا انعقاد شہریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔انہوںنے واضح کیاکہ بھارتی فوج کیلئے کشمیریوں کے دل جیتنا ہرگز ممکن نہیں اور افطار پارٹیاں ، آپریشن سدبھائونا ، گڈول سکول قائم کرنا اورسادہ لوح کشمیریوںکو بھارت کی سیر کے نام پر مختلف شہروں کے چکر لگوانے جیسے اقدامات کبھی بھی جذبات ، احساسات ، قربانیوں اور کشمیریوں کے حقوق کا نعم البدل نہیں ہو سکتے ۔