پاکستان اور صومالیہ کے درمیان 10.500 ملین روپے کی گرانٹ، صومالیہ کے قومی شناختی نظام کی تیاری کے لئے تکنیکی معاونت کی فراہمی کا معاہدہ

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر مصدق ملک، خزانہ اور داخلہ ڈویژنوں کے سیکرٹریز، چیئرمین نادرا اور سینئر حکام کی معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت نادرا صومالیہ کے لئے ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر اور سازوسامان تیار اور فراہم کرے گا

بدھ مئی 15:36

پاکستان اور صومالیہ کے درمیان 10.500 ملین روپے کی گرانٹ، صومالیہ کے قومی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) پاکستان اور صومالیہ کے درمیان 10.500 ملین روپے کی گرانٹ اور صومالیہ کے قومی شناختی نظام کی تیاری کے لئے تکنیکی معاونت کی فراہمی کے بارے میں معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بدھ کو وزیراعظم آفس میں معاہدے پر دستخط کی تقریب میں موجود تھے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر مصدق ملک، خزانہ اور داخلہ ڈویژنوں کے سیکریٹریز، چیئرمین نادرا اور سینئر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

صومالیہ کی طرف سے وزیر مملکت برائے داخلہ عبدالله فرح وہلئی، آئی ڈی پراجیکٹ کے سربراہ ڈاکٹر نور درائی ہرسی اور سفیر خدیجہ محمد المخزومی اور ان کے سینئر حکام بھی دستخط کی تقریب میں شریک تھے۔

اس اقدام کے تحت نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی ((نادرا)) صومالیہ کے لئے ایسی ٹیکنالوجی،، سافٹ ویئر اور سازوسامان تیار اور فراہم کرے گا جس سے صومالیہ کی حکومت کو جدید ترین ڈیٹا اینڈ سٹیزن رجسٹریشن نظام میسر آئے گا۔

علم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے صومالیہ کو بارڈر مینجمنٹ اور انتخابی مینجمنٹ نظام میں بھی مدد ملے گی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صومالیہ کے وزیر مملکت برائے داخلہ عبدالله فرح وہلئی نے صومالیہ کے نیشنل آئی ڈی سسٹم کی تیاری میں معاونت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاک صومالیہ دوستانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ موغا دیشو میں پاکستانی سفارت خانہ کھلنے سے دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایسے ہی خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان صومالیہ کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ پاکستان اور صومالیہ کے درمیان دوستانہ اور خوشگوار تعلقات استوار ہیں۔ نادرا معاہدے پر دستخط بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ یہ منصوبہ حکومت کی ’’لُک افریقہ‘‘ پالیسی کا مظہر ہے جس کا مقصد افریقی براعظم کے ساتھ روابط میں اضافہ کرنا ہے۔

Your Thoughts and Comments