نوازشریف کی پیشی پراحتساب عدالت سے سانپ نکل آیا

5 فٹ لمبےسانپ کو دیکھ کرلوگ خوفزدہ ہوگئے، پولیس اہلکاروں نے سانپ کو مار دیا۔ میڈیا رپورٹس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ مئی 15:29

نوازشریف کی پیشی پراحتساب عدالت سے سانپ نکل آیا
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23 مئی 2018ء) : مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پرعدالت سے سانپ نکل آیا، پولیس اہلکاروں نے سانپ کو مار دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف آج احتساب عدالت میں پیش ہوئے جہاں پر ان کیخلاف دائر مختلف ریفرنسز کی سماعت ہوئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف ابھی کمرہ عدالت سے روانگی کے باہر نکلے تھے کہ کمرہ عدالت سے 5فٹ لمباسانپ نکل آیا ۔

سانپ کو دیکھ کروہاں موجود لوگ خوفزدہ ہوگئے۔ تاہم وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے سانپ کو فوری مار دیا۔ بعد ازاں نوازشریف نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے اوپر قائم کیسز کا پس منظر بتایا۔مائنس ون کا اصول طے پا جائے تواقامہ جیسا بہانہ بھی بہت کافی ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

ریفرنسزکا فیصلہ کیا آتا ہے آپ پرچھوڑتا ہوں۔ ہمیشہ فوج اور عدلیہ کے تقدس کا خیال رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت کرنے والے ان لوگوں کا اصل گناہ کیا ہوتا ہے ؟ ان کا اصل گناہ صرف ایک ہی ہوتا ہے کہ پاکستان کی عوام ان کو چاہتے ہیں۔ ان کومنصب پر بٹھاتے ہیں اور وہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔میں بھی اسی راستے کا مسافر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ان کے ووٹ کی عزت کی جائے ان کی مرضٰ پراپنی مرضی مسلط نہ کی جائے۔

آئین کے دائرے میں رہنا چاہیے۔اس طرح کے جرائم اور مجرم تاریخ میں ملتے ہیں،انہوں نے کہا کہ لیاقت علی خان کی روح سے یہی سوال پوچھ سکتے کہ آپ کیوں شہید اور بھٹو اور بے نظیر بھٹو سے پوچھتے کہ آپ کو کیوں پھانسی اور کیوں قتل کردیا گیا۔ منتخب وزراء اعظم کو پوچھتے کہ آپ میں سے کیوں کوئی آئینی مدت پوری نہ کرسکے۔انہوں نے کہا کہ افسوس ہوا کہ ماتحت ملازم استعفیٰ یا چھٹی پرجانے کا پیغام بھجوا رہا تھا۔

مشرف کے غیرآئینی اقدام پرواضح مئوقف اختیار کیا۔ دھمکی ملی مشرف کوکچھ نہیں ہوگا نقصان آپ کا ہوگا۔ مقصد تھا مجھے پی ایم ہاؤس سے نکال دیں، مشرف کیخلاف کارروائی آگے نہ بڑھے۔ جب مشرف کے خلاف مقدمے میں تیزی آئی تو عمران خان اور طاہر القادری اکٹھے ہوگئے۔ میں نے اپنے اقتدار اورذات کوخطرے میں ڈالا کہ ڈکٹیٹرکو اپنے کیے کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔

نوازشریف نے کہا کہ میرے خلاف کیسز کا پس منظر کیا ہے سب بتانا چاہتا ہوں۔میری ناہلی کے محرکات قوم جانتی ہے۔ جب فیصلے پہلے ہوجائیں توجوازکےلیے حیلے بہانےتراشے جاتےہیں۔ مجھے مقدمات میں کیوں الجھایا گیا، قوم،ملک کا مفاد مزید کہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ نواز شریف نے کہا کہ کاش آپ سینئرججزکوبلا کرپوچھ سکتے کہ وہ کیوں ہرمارشل لاء کو خوش آمدید کہتے رہے؟ کاش آج آپ ایک زندہ جرنیل کوبلا کرپوچھ سکتے کہ اس نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیوں کیا؟نوازشریف نے کہا کہ مجھے حب الوطنی کے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں کشمیری عوام پربھارتی مظالم کے خلاف بھرپور آوازاٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ میرے دورمیں دفاعی بجٹ میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔انیس سال بعد ملک میں مردم شماری کرائی۔ فاٹا کوقومی دھارے میں لانے کے لیے اصلاحات کیں۔ زراعت پیشہ لوگوں کومثالی مراعات دیں۔ نوجوانوں کے لیےخودروزگاری کے مواقع فراہم کیے۔