مجھے نکالے جانے کی سب سے بڑی وجہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس ہے ،ْ نوازشریف

بدھ مئی 16:31

مجھے نکالے جانے کی سب سے بڑی وجہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس ہے ،ْ نوازشریف
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد ،ْ سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ مجھے نکالے جانے کی سب سے بڑی وجہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس ہے ،ْآصف زر داری میرے پاس آئے اور کہا ہمیں پارلیمنٹ کے ذریعے مشرف کے دوسرے مارشل لاء نومبر2007ء کے اقدام کی توثیق کردینی چاہئے ،ْ میں نے سر جھکا کے نوکری کرنے سے انکار کردیا ،ْمقدمہ شروع ہوتے ہی انداز ہوگیا تھا ڈکٹیٹر کو عدالت کے کٹہرے میں لانا کوئی آسان کام نہیں ،ْ سیاستدانوں اور وزیراعظم کے منصب پر بیٹھنے والوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا اور آج بھی ہو رہا ہے ،ْ کوئی قانون نہ تو غداری کے مرتکب ڈکٹیٹر کو ہتھکڑی ڈال سکا ،ْنہ ایک گھنٹے کیلئے بھی جیل بھیج سکاشاید قانون وانصاف کے سارے ہتھیارے صرف اہل سیاست کیلئے بنے ہیں ،ْدھرنوں کے ذریعے مجھ پر لشکر کشی کر کے پیغام دینا مقصود تھا مشرف پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کے نتائج اچھے نہ ہوں گے ،ْعمران خان خود کھلے عام اعلان کرتے رہے کہ بس امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے ،ْ کون تھا وہ امپائر جو کوئی بھی تھا، اس کی مکمل پشت پناہی دھرنوں کو حاصل تھی ،ْ منصوبہ سازوں کا خیال تھا شدید اور طویل یلغار سے میرے اعصاب جواب دے جائینگے اور میں خود کو بچانے کیلئے ہر طرح کے کمپرومائز پر آمادہ ہو جائوں گا ،ْمیں اللہ کی تائید وحمایت پر بھروسہ کرتے ہوئے ڈٹا رہا ،ْ انٹلیجنس ایجنسی کے سربراہ کا پیغام مجھ تک پہنچایا گیا مستعفی ہو جائوں ،ْ اگر یہ ممکن نہیں تو طویل رخصت پر چلے جائو ،ْعوام کے وزیراعظم کی بس اتنی ہی توقیر رہ گئی ہے کہ اس کے براہ راست ماتحت ادارے کا ملازم اپنے وزیراعظم کو مستعفی ہونے یا چھٹی پر چلنے جانے کا پیغام بھجوا رہا ہے ،ْجب مائنس ون کیاصول طے پاجائے تو اقامہ جیسا بہانہ ہی کافی ہوتا ہے ،ْمیں اپنی مسلح افواج کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں ،ْجانتا ہوں فوج کی کمزوری کا مطلب ملکی دفاع کی کمزوری ہے ،ْایٹمی دھماکے نہ کر نے کیلئے مجھے عالمی طاقتوں کی طرف سے نصف درجن فون آئے ،ْ5 ارب ڈالر کا لالچ دیا گیا ،ْ مجھے پاکستان کی سربلندی، پاکستان کا وقار، پاکستان کا افتخار اور پاکستان کی عزت وعظمت ، اربوں کھربوں ڈالر سے کہیں زیادہ عزیز تھی اور بھارت کے جواب میں ایٹمی دھماکے کئے ،ْ انیس بیس سال پہلے بھی میرا قصور وہی تھا جو آج ہے نہ اس وقت کسی پانامہ کا وجود تھا نہ آج کسی پانامہ کا وجود ہے اس وقت بھی میں عوام کی حاکمیت اور آئینی تقاضوں کے مطابق حقیقی جمہوریت کی بات کررہا تھا، آج بھی یہی کررہا ہوں ،ْآج بھی میں یہی کہتا ہوں کہ فیصلے وہی کریں جنہیں عوام نے فیصلے کا اختیار دیا ہے ،ْمجھے ہائی جیکر کہیں یا کچھ اور ،ْسسلین مافیا کہیں یا گاڈ فادر ،ْ وطن دشمن کہیں یا غدار ،ْمجھے کسی نام ،ْ کسی لقب سے کچھ فرق نہیں پڑتا ،ْچاہتا ہوں عوام کی مرضی کا احترام کیا جائے ،ْ ان کے ووٹ کی عزت کی جائے ،ْ ان کی مرضی پر اپنی مرضی مسلط نہ کی جائے ،ْ آئین کا احترام کیا جائے ،ْ تمام ادارے اپنی طے کر دہ حدود میں رہیں ،ْ پالیسیاں عوام کے منتخب نمائندے ترتیب دیں ،ْپوری سچائی اور دیانت کے ساتھ اپنا مقدمہ آپ کی عدالت میں پیش کر دیا ہے ،ْ انصاف کا منتظر ہوں۔

(جاری ہے)

بدھ کو پارٹی رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہاکہ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے یہ معروضات پیش کرنے کا موقع دیا۔انہوںنے کہاکہ میں پانامہ پیپرز کی بنیاد پر بنائے گئے کھوکھلے ریفرنسز کی لمبی داستان کو ایک طرف رکھتے ہوئے مختصراً یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ مجھے ان مقدمات میں الجھانے کا حقیقی پس منظر کیا ہی ان مقدموں، ان ریفرنسز، میری نا اہلی اور پارٹی صدارت سے فراغت کے اسباب ومحرکات کو میں ہی نہیں پاکستانی قوم بھی اچھی طرح جانتی ہے اور مقدمات کا کھیل کھیلنے والے بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرے نامہ اعمال کے اصلی جرائم کیا ہیں۔

انہوںنے کہاکہ 12 اکتوبر 1999ء کو پرویز مشرف نامی جرنیل نے آئین سے بغاوت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ جما لیا ،ْ ہر دور کے آمروں کو خوش آمدید کہنے والے منصفوں نے آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا اوراس کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ انہوںنے کہاکہ 8 سال بعد 3 نومبر 2007ء کو اس نے ایک بار پھر آئین توڑا، ایمرجنسی کے نام پر ایک بار پھر مارشل لاء نافذ کیا اور چیف جسٹس آف پاکستان سمیت اعلی عدلیہ کیساٹھ کے لگ بھگ جج صاحبان کو اپنے گھروں میں قید کردیا ،ْدنیا کے کسی بھی ملک میں اس طرح کی شرمناک واردات کی نظیر شاید ہی ملتی ہو۔

انہوںنے کہاکہ ایک جمہوری جماعت کی حیثیت سے مسلم لیگ (ن) نے مشرف کے غیر آئینی اقدامات کے بارے میں ایک واضح موقف اپنایا ،ْ2013ء کی انتخابی مہم میں اپنا یہ موقف عوام کے سامنے رکھتے ہوئے ہم نے واضح طور پر کہا کہ حکومت قائم ہونے کی صورت میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 6 کی روشنی میں مشرف پر ہائی ٹریزن کا مقدمہ قائم کیا جائیگا۔انہوںنے کہاکہ عوام نے ہمارے موقف کی تائید کی ،ْ حکومت قائم ہونے کے بعد توانائی کے بحران اور دہشت گردی پر قابو پانے کی اولین ترجیحات کیساتھ میری حکومت نے پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کیلئے وکلاء سے مشاورت کا آغاز کیا۔

مجھے مشورہ دیا گیا کہ اس بھاری پتھر کو اٹھانے کا ارادہ ترک کردوں ،ْ مجھے ایسے پیغامات بھی ملے کہ مشرف پر مقدمہ قائم کرنے سے اس کا تو شاید کچھ نہ بگڑے مگر میرے لئے بہت مشکلات پیدا ہو جائیں گی ،ْ ان مشورہ نما دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے میں اپنے ارادے پر قائم رہا۔انہوںنے کہاکہ اس سے بھی پہلے پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں آصف زرداری ایک اہم قومی سیاسی رہنماء کے ہمراہ میرے پاس آئے اور کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ کے ذریعے مشرف کے دوسرے مارشل لاء یعنی نومبر2007ء کے اقدام کی توثیق کردینی چاہئے ،ْزرداری صاحب نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ مصلحت کا تقاضا یہی ہے لیکن میں نے کہا کہ ہم 65 برس سے ایسی مصلحتوں سے کام لے رہے ہیں ،ْان ہی مصلحتوں نے جمہوریت کو اس قدر کمزور کردیا ہے کہ وہ سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتی ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ آئین سے غداری کرنے والے ڈکٹیٹر کو Indemnity دینے یعنی اس کے غیر آئینی اقدام کی پارلیمانی توثیق کرنے کی بجائے اسے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ اس سے پوچھا جائے کہ اس نے اپنا حلف کیوں توڑا اور مسلح افواج کی طاقت کو اپنے ذاتی مقاصد کیلئے کیوں استعمال کیا ۔انہوںنے کہاکہ 2013ء کے اواخر میں غداری کا مقدمہ قائم کرنے کا عمل شروع ہوتے ہی مجھے اندازہ ہوگیا کہ آئین اپنی جگہ، جمہوریت کے تقاضے اپنی جگہ، پارلیمنٹ کی بالادستی اپنی جگہ، قانون کی حکمرانی اپنی جگہ اور پاکستان کے عوام کا مینڈیٹ اپنی جگہ لیکن ایک ڈکٹیٹر کو عدالت کے کٹہرے میں لانا کوئی آسان کام نہیں۔

شاید قانون وانصاف کے سارے ہتھیارے صرف اہل سیاست کیلئے بنے ہیں۔ جابروں کا سامنا ہوتے ہی ان ہتھیاروں کی دھار کند ہو جاتی ہے اور فولاد بھی موم بن جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ کو وہ دن بھی یاد ہوگا کہ جب جنوری 2014ء میں ہائی ٹریزن کا ملزم گاڑیوں کے جلوس میں عدالت پیشی کیلئے اپنے محل سے نکلا اور اچانک کسی طے شدہ پلان کے تحت وہ راولپنڈی کے آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچ گیا جہاں وہ کسی پر اسرار بیماری کا بہانہ بنا کر ہفتوں قانون اور عدالت کی دسترس سے دور بیٹھا رہا۔

سیاستدانوں اور وزیراعظم کے منصب پر بیٹھنے والوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا اور آج بھی ہو رہا ہے اس سے آپ بخوبی واقف ہیں لیکن کوئی قانون نہ تو غداری کے مرتکب ڈکٹیٹر کو ہتھکڑی ڈال سکا، نہ اسے ایک گھنٹے کیلئے بھی جیل بھیج سکا۔ اس کی نوبت آئی بھی تو اس کے عالی شان محل نما فارم ہائوس کو سب جیل کا نام دے دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ میں اس فورم، اس کھلی عدالت کے سامنے پوری تفصیل بتانے سے قاصر ہوں کہ مشرف پر مقدمہ قائم کرنے اور اس کارروائی کو آگے بڑھانے پر قائم رہنے کی وجہ سے مجھے کس کس طرح کے دبائو کا نشانہ بننا پڑا۔

اس کے باوجود جب میرے عزم میں کوئی کمزوری نہ آئی تو 2014ء کے وسط میں، انتخابات میں نام نہاد دھاندلی کا طوفان پوری شدت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ مصدقہ رپورٹس کے مطابق اس طوفان کے پیچھے بھی یہی محرک چھپا تھا کہ مشرف کے معاملے میں مجھے دبائو میں لایا جائے۔ انہوںنے کہاکہ میں دھرنوں سے صرف دو ماہ قبل مارچ 2014ء میں اپنے دو رفقاء کے ہمراہ بنی گالہ میں عمران خان سے ملا تھا ،ْ یہ ایک خوشگوار ملاقات تھی۔

انہوں نے دھاندلی کے موضوع پر کوئی بات کی نہ ہی کسی احتجاجی تحریک کا اشارہ دیا لیکن ادھر پرویز مشرف کے مقدمے میں تیزی آئی اور ادھر اچانک لندن میں طاہر القادری اور عمران خان کی ملاقات ہوئی اس ملاقات کے بعد بظاہر دھاندلی کو موضوع بنا کر اسلام آباد میں دھرنوں کا فیصلہ کرلیا گیا۔انہوںنے کہاکہ 14 اگست 2014ء سے شروع ہونے والے یہ دھرنے چار ماہ جاری رہے ،ْان دھرنوں کے دوران جو جو کچھ ہوا وہ سب اس قوم کے سامنے ہے۔

طاہر القادری اور عمران خان کا مشترکہ مطالبہ صرف یہ تھا کہ وزیراعظم مستعفی ہو جائے ،ْان دھرنوں کا منصوبہ کیسے بنا ، طاہر القادری اور عمران خان کیسے یکجا ہوئے۔ کس نے ان کے منہ میں وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ ڈالا اور کون چار ماہ تک مسلسل ان کی حوصلہ افزائی کرتا رہا۔ یہ باتیں اب کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں ہیں۔ عمران خان خود کھلے عام یہ اعلان کرتے رہے کہ بس امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے ۔

کون تھا وہ امپائر وہ جو کوئی بھی تھا، اس کی مکمل پشت پناہی اس دھرنوں کو حاصل تھی۔انہوں نے کہا کہ ان دھرنوں کے دوران جو کچھ ہوا، اس کی پوری تفصیلات قوم کے سامنے ہیں۔ پارلیمنٹ ہائوس، پریزیڈنٹ ہائوس، وزیراعظم ہائوس، پی ٹی وی غرض کچھ بھی فسادی عناصر سے محفوظ نہ تھا ،ْ اس تماشے نے ملک وقوم کو شدید نقصان پہنچایا لیکن اصل مقصد ایک ہی تھا کہ مجھے وزیراعظم ہائوس سے نکال دیا جائے تاکہ مشرف کیخلاف مقدمے کی کارروائی آگے نہ بڑھ سکے۔

منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ اس شدید اور طویل یلغار سے میرے اعصاب جواب دے جائینگے اور میں خود کو بچانے کیلئے ہر طرح کے کمپرومائز پر آمادہ ہو جائوں گا ،ْبلاشبہ یہ ایک سوچا سمجھا اور نہایت ہی سخت حملہ تھا۔ ایسے دن بھی آئے کہ وزیراعظم ہائوس میں داخل ہونے اور باہر جانے والے راستوں پر شر پسندوں نے قبضہ کرلیا۔ اعلان کئے گئے کہ وزیراعظم کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹتے ہوئے باہر لائینگے لیکن میں اللہ کی تائید وحمایت پر بھروسہ کرتے ہوئے ڈٹا رہا۔

انہوں نے کہا کہ دھرنوں کے ذریعے مجھ پر لشکر کشی کر کے مجھے یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ مشرف پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔ ان ہی دنوں ایک انٹلیجنس ایجنسی کے سربراہ کا پیغام مجھ تک پہنچایا گیا کہ میں مستعفی ہو جائوں اور اگر یہ ممکن نہیں تو طویل رخصت پر چلا جائوں اس پیغام سے بے حد دکھ پہنچا مجھے رنج ہوا کہ پاکستان کس حال کو پہنچ گیا ہے ،ْعوام کی منتخب حکومت اور اس کے وزیراعظم کی بس اتنی ہی توقیر رہ گئی ہے کہ اس کے براہ راست ماتحت ادارے کا ملازم اپنے وزیراعظم کو مستعفی ہونے یا چھٹی پر چلنے جانے کا پیغام بھجوا رہا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہاکہ شاید ہی تیسری دنیا کے کسی ملک میں بھی اتنی افسوسناک صورتحال ہو۔ میرے مستعفی ہونے یا طویل رخصت پر چلنے جانے کا مطالبہ اس تاثر کی بنیاد پر تھا کہ نواز شریف کو راستے سے ہٹا دیا گیا تو مشرف کیخلاف مقدمے کو لپیٹنا بھی مشکل نہیں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے اقتدار اور اپنی ذات کو خطرے میں ڈال کر کیوں بضد تھا کہ ایک ڈکٹیٹر کو اپنے کئے کی سزا ضرور ملنی چاہئے۔

صرف اس لئے کہ آمریتوں نے پاکستان کے وجود پر بڑے گہرے زخم لگائے ہیں ،ْ آئین شکنی یا اقتدار پر قبضے کا فیصلہ ایک یا دو تین جرنیل کرتے ہیں ،ْ اقتدار کی لذتیں بھی صرف مٹھی بھر جرنیلوں کے حصے میں آتی ہیں لیکن اس کی قیمت مسلح افواج کے پورے ادارے کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ میں اپنی مسلح افواج کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ فوج کی کمزوری کا مطلب ملکی دفاع کی کمزوری ہے۔

قابل تحسین ہیں ہمارے وہ بہادر سپوت جو مادر وطن کے دفاع کیلئے ہر وقت سینہ سپر رہتے اور وقت آنے پر اس پاک سرزمین کیلئے اپنے خون کا نذرانہ تک پیش کردیتے ہیں ۔ اس فوج کی اصل آبرو بہادر مائوں کے وہی فرزند ہیں جو اقتدار کی بارگاہوں کی بجائے سرحدی مورچوں میں بیٹھتے اور حکمرانی کی لذتیں سمیٹنے کے بجائے ہمارے کل کیلئے اپنا آج قربان کردیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے فوج کی پیشہ وارانہ استعداد میں اضافے کو ہمیشہ اہمیت دی میرے دور میں دفاعی بجٹ میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ انہوںنے کہاکہ دفاع وطن کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے ہی 1998ء میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا دوٹوک اور ٹھوس جواب دینے کا فیصلہ کرنے میں، میں نے چند گھنٹوں کی تاخیر بھی نہیں کی تھی۔ مجھے پختہ یقین تھا کہ اگر ہم نے اپنی ایٹمی قوت کا کھلا اظہار نہ کیا تو شاید آئندہ کبھی اس کا موقع نہ ملے۔

مجھے اس بات میں بھی کوئی شک نہیں تھا کہ پاکستان نے ایٹمی دھماکے نہ کئے تو خطے میں شدید عدم توازن قائم ہو جائیگا۔ بھارت کی عسکری بالادستی قائم ہو جائیگی اور پاکستان سر اٹھا کر کھڑا نہ ہوسکے گا۔ میں اس وقت پاکستان سے باہر قازقستان کے دورے پر تھا میں نے اسی دن وہیں سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل جہانگیر کرامت اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں کہ وہ جوابی ایٹمی دھماکوں کی تیاری شروع کردیں میں نے یہ بھی ہدایت کی کہ سارا کام کم سے کم درکار وقت یعنی سترہ دن کے اندر اندر مکمل کرلیا جائے۔

مجھے عالمی طاقتوں کی طرف سے نصف درجن فون آئے۔ 5 ارب ڈالر کا لالچ دیا گیا لیکن میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو سربلند دیکھنا چاہتا تھا۔ میں نے وہی کیا جو پاکستان کے مفاد میں تھا۔ مجھے پاکستان کی سربلندی، پاکستان کا وقار، پاکستان کا افتخار اور پاکستان کی عزت وعظمت ، اربوں کھربوں ڈالر سے کہیں زیادہ عزیز تھی۔انہوں نے کہا کہ آئین شکنی کرنے اور اپنا مقدس حلف توڑ کر اقتدار پر قبضہ کرنے والے ڈکٹیٹر کا محاسبہ کرنا، آئین اور جمہوریت ہی کا نہیں خود فوج کے وقار کا تقدس کا بھی تقاضا ہے جب ایک یا دو چار جرنیل، جمہوریت کا تختہ الٹتے، آئین توڑتے اور خود اقتدار کی کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں تو فوج کے ادارے کی آبرو پر بھی آنچ آتی ہے اس کی پیشہ وارانہ صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

عوامی سطح پر اس کے احترام پر بھی منفی اثر پڑتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی ساکھ مجروح ہوتی ہے ۔ ان ہی محرکات کے پیش نظر پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانا ضروری خیال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرے خلاف جھوٹے، بے بنیاد، من گھڑت اور خود ساختہ مقدمات کی وجہ یہ ہے کہ میں نے سر جھکا کے نوکری کرنے سے انکار کردیا۔

میں نے مشرف کیخلاف مقدمہ نہ بنانے سے انکار کردیا۔ میں نے اپنے گھر کی خبر لینے اور حالات ٹھیک کرنے پر اصرار کیا میں نے خارجہ پالیسی کو قومی مفاد کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔ میں اس سب کچھ کو اپنے منصب کا دستوری تقاضا سمجھتا تھا لیکن اس سے غالباً یہ تاثر لیا گیا کہ میرا وجود کچھ معاملات میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ اس لئے مجھے منصب سے ہٹانا، پارٹی سے ہٹانا، عمر بھر کے لئے نااہل قرار دے ڈالنا اور سیاست کے عمل سے خارج کردینا ہی واحد حل سمجھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اب تک ریفرنسز کی حقیقت آپ پر کھل چکی ہوگی ،ْ استغاثے کا کوئی گواہ میرے خلاف اپنے الزامات کا کوئی ادنی سا ثبوت بھی پیش نہیں کرسکا ،ْاگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ استغاثہ کے گواہوں نے بھی عملا میرے موقف کی تصدیق کی ہے۔ پانامہ پیپرز میں دنیا کے کئی ممالک کے ہزاروں افراد کے نام آئے ہیں ان میں حکمران بھی تھے اور سیاسی لیڈر بھی۔

مجھے معلوم نہیں کہ ساری دنیا میں ان پیپرز کی بنیاد پر کتنے افراد کیخلاف مقدمے بنے، کتنے افراد کو سزائیں ملیں ،ْکتنے وزرائے اعظم یا صدور کو معزول کیا گیا اور کتنے عمر بھر کیلئے نا اہل قرار پائے۔ پانامہ کے نام پر یہ سب کچھ صرف ایک ایسے شخص کیخلاف ہوا جس کا پانامہ میں نام تک نہ تھا اس شخص کا نام نواز شریف ہے چونکہ پاکستان کے عوام اس سے محبت کرتے ہیں اسے بار بار ووٹ دیتے ہیں، اسے پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھاتے ہیں اس لئے وہ ایک نا مطلوب شخص قرار پایا۔

اسے کبھی اپنی آئینی معیاد پوری نہیں کرنے دی گئی ،ْاسے سبق سکھانے کیلئے قید کیا گیا ،ْکال کوٹھڑیوں میں ڈالا گیا ،ْ اسے ہائی جیکر قرار دے کر عمر قید کی سزا دی گئی ،ْ خطرناک مجرموں کی طرح اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر جہاز کی سیٹ سے باندھ دیا گیا اس کی ہر ممکن تذلیل کی گئی ،ْپھر اس ملک کو اس کے شر سے بچانے کیلئے جلا وطن کردیا گیا۔

اس کی جائیدادیں ضبط کر لی گئیں اس کے موروثی گھروں پر قبضہ جما لیا گیا۔ وہ ساری پابندیاں توڑ کر وطن آیا تو ہوائی اڈے ہی سے ایک بار پھر ملک بدر کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کیا آج سے 19 سال قبل یہ سب کچھ ’’پانامہ‘‘ کی وجہ سے ہو رہا تھا کیا میرے ساتھ یہ سلوک لندن فیلٹس کی وجہ سے کیا جارہا تھا نہیں جناب والا! انیس بیس سال پہلے بھی میرا قصور وہی تھا جو آج ہے نہ اس وقت کسی پانامہ کا وجود تھا نہ آج کسی پانامہ کا وجود ہے اس وقت بھی میں عوام کی حاکمیت اور آئینی تقاضوں کے مطابق حقیقی جمہوریت کی بات کررہا تھا، آج بھی یہی کررہا ہوں۔

اس وقت بھی میرا کہنا یہ تھا کہ داخلی اور خارجی پالیسیوں کی باگ ڈور منتخب عوام کے ہاتھ ہونی چاہئے آج بھی میں یہی کہتا ہوں کہ فیصلے وہی کریں جنہیں عوام نے فیصلے کا اختیار دیا ہے۔انہوںنے کہاکہ مجھے ہائی جیکر کہیں یا کچھ اور ،ْسسلین مافیا کہیں یا گاڈ فادر ،ْ وطن دشمن کہیں یا غدار ،ْمجھے کسی نام ،ْ کسی لقب سے کچھ فرق نہیں پڑتا ۔انہوںنے کہاکہ میری صداقت اور امانت پر سوال اٹھائیں مجھے کچھ فرق نہیں پڑتا ،ْ میں پاکستان کا بیٹا ہوں اور اس مٹی کا ایک ایک ذرہ مجھے اپنی جان سے بھی پیارا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ میرے بزرگوں نے اس پاکستان کیلئے ہجرت کی اور لاکھوں دوسرے مسلمانوں کی طرح اپنا سب کچھ چھوڑ کر یہاں آئے ۔۔نوازشریف نے کہا کہ کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا میں اپنی حب الوطنی کی توہین سمجھتا ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ میں نے عوام کے اعتماد کو ہمیشہ ایک اعزاز بھی سمجھا اور بہت بڑا امتحان بھی ۔انہوںنے کہاکہ میں نے اس ملک اور عوام کی حالت بدلنے کیلئے جو کچھ کیا اسے اللہ کی خصوصی عنایت سمجھتا ہوں ۔

انہوںنے کہاکہ آج پاکستان میں موٹر ویز اور شاہراہوں کا جال بچھا ہے ۔انہوںنے کہاکہ پشاور سے کراچی تک موٹر وے کا خواب شر مندہ تعبیر ہونے کو ہے میں اللہ کے حضور احساس تشکر کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ گزشتہ پانچ سال میں ہماری حکومت نے جتنے کام کئے ان کی مثال گزشتہ 65سالوں میں نہیں ملتی ۔انہوںنے کہاکہ سی پیک کا منصوبہ اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ایک ابھرتے ہوئے پاکستان کی نوید بن رہی ہے شورش زدہ بلوچستان کو ہم نے امن دیا ،ْ بوری بند لاشوں ،ْ بھتوں اور ہڑتالوں والے کراچی کو بد امنی سے نکال کر روشنیوں اور رونقوں کی طرف واپس لائے ۔

انہوںنے کہاکہ انیس سال بعد اس ملک میں مرد شماری کرائی فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کیلئے اصلاحات کیں انہوںنے کہاکہ زراعت پیشہ لوگوں کو مثالی مراعات دیں ،ْ نوجوانوں کیلئے خود روز گاری کے مواقع عام کئے ،ْ اعلیٰ تعلیم کیلئے بھاری وظائف کی سکیمیں شروع کیں صحت کارڈ کے ذریعے علاج کی سہولتوں تک رسائی دی ،ْ بجلی کی پیداوار میں دس ہزار میگا واٹ کا اضافہ کیا ،ْ دہشتگردی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیا اور اس پر کاری ضرب لگائی ۔

انہوںنے کہاکہ خارجہ پالیسی کو نئے خطوط پر استوار کر نے کی کوشش کی۔ اقوام متحدہ میں کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی ،ْ پاکستان کے بارے میں اس کے جارحانہ اور سخت گیر رویے سے عالمی رہنمائوں کو آگاہ کیا ،ْافغانستان سے معاملات بہتر بنانے کی کوشش کی ۔انہوںنے کہاکہ عالمی طاقتوں کے خدشات دور کر نے کی کوشش کی ،ْ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ دعو یٰ کرسکتا ہوں کہ میں نے اپنی قوم کو وہ پاکستان دیا جو زندگی کے ہر شعبے میں 2013ء کے پاکستان سے زیادہ روشن ،ْ زیادہ مستحکم اور زیادہ توانا تھا ۔

انہوںنے کہاکہ یہ اس ملک کے دانشوروں اور مبصرین نے دیکھنا ہے کہ 28جولائی 2017ء کے فیصلے نے اس پاکستان کو کیا دیا اس ملک کے عوام کو کیا دیا معیشت ،ْ توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں ،ْ صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو اعتماد کو کتنا نقصان پہنچا جمہوری عمل اور حکومتی کار کر دگی پر کیا اثرات ڈالے ،ْ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی کو کتنی ہوادی ان عوام کے دلوں کو کس قدر زخمی کیا جو کئی برس بعد ایک ابھرتا ہوا ترقی کرتا ہوا اور آگے بڑھتا ہوا پاکستان دیکھ رہے تھے ممکن ہے مجھے حکومت سے بے دخل کر نے اور نا اہل قرار دینے سے کچھ لوگوں کی تسکین ہوگئی ہو لیکن کوئی بتا سکتا ہے کہ پاکستان کی جمہوریت ،ْ پاکستان کے آئینی نظام اور پاکستان کے احترام و وقار کیا ملا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کتنی بہتر ہوئی اور سب سے بڑا سوال یہ کہ اس فیصلے سے خود پاکستان کی عدلیہ اور پاکستان کے نظام قانون و انصاف کو کیا ملا انہوںنے کہاکہ جس طرح 2013ء کے پاکستان اور جولائی 2017ء تک کے پاکستان کا موازنہ کیا جانا چاہیے اسی طرح 28جولائی 2017یعنی عدالتی فیصلے کے دن اور اس کے بعد کے دس مہینوں کا جائزہ بھی ضرور لینا چاہیے یقیناً ان دس مہینوں نے نہ صرف آگے بڑھتے ہوئے پاکستان کے قدموں میں زنجیریں ڈال دیں بلکہ کئی شعبوں میں اپنے پیچھے بھی دھکیل دیا ۔

انہوںنے کہاکہ ان دس ماہ میں پیدا ہونے والے ماحول سے فائدہ اٹھاکر بلوچستان میں حکومت کا تخمہ الٹ کر ’’حقیقی جمہوریت ‘‘قائم کی گئی اور پھر پارلیمنٹ کے منظور کر دہ ایک قانون کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مجھے پارٹی سربراہی سے فارغ کر دیا گیا اسی فیصلے کی آڑ لیکر پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں پہلی بار سینٹ کیلئے ہمارے امیدواروں کو شیر کے نشان سے محروم کر کے بے چہرہ کر دیا گیا ۔

انہوںنے کہاکہ کیا پاکستان ہی نہیں ،ْ دنیا کی تاریخ میں بھی کوئی ایسی نظر ملتی ہے اسی فیصلے کی بنیاد پر آپ کی عدالت میں یہ ریفرنس چل رہے ہیں میں ریفرنس میں ستر سے زائد پیشیاں بھگت چکا ہوں ،ْ کیا پاکستان میں بڑے بڑے جرم کا ارتکاب کر نے والا کوئی ایک بھی ایسا شخص ہے جس نے اتنی پیشیاں بھگتی ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ 28جولائی 2017ء کے فیصلے پر عوامی رد عمل بھی آچکا ہے ،ْ ماہرین قانون کی رائے بھی اور عالمی مبصرین کے تبصرے بھی ،ْ مجھے اس پر کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں لیکن میں صرف ریکارڈ پر لانے کی خاطر ایسے چند سوالات کا اعادہ کرناچاہتا ہوں جو میں نے اگست 2017ء میں آل پاکستان لائرز کنونشن سے کرتے ہوئے اٹھائے تھے ۔

نوازشریف نے سوال کیا کہ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ جس پٹیشن یا درخواست کو دو بار لغو ،ْ فضول اور ناکارہ قرار دیا گیا ہو وہ اچانک معتبر ہو جائے ،ْ کیا کبھی اس طرح کے معاملات کی چھان بین کیلئے جے آئی ٹی بنی ہے کیا کبھی اسطرح کے معاملات میں انٹیلی ایجنسیز کو جے آئی ٹی کا حصہ بنایا گیا کیا کبھی جے آئی ٹی کے ارکان کے انتخاب کیلئے خفیہ طورپر وٹس ایپ کا لز کی گئیں اور مخصوص افراد کو اس میں ڈالنے کیلئے دبائو ڈالا گیا کیا آج تک سپریم کورٹ کے کسی بینچ نے جے آئی ٹی کے کام کی نگرانی کی ہے کیا کسی بھی پٹیشنر نے اپنی پٹیشن میں کسی دبئی کمپنی اور میرے اقامے کی بنیاد پر مجھے نا اہل قرار دینے کی درخواست کی تھی کیا کوئی عدالت ملک کے واضح قانون اور ضابطوں کی موجودگی اور کسی لفظ کی قانونی تشریح ہوتے ہوئے اس لفظ کی من مانی تعبیر کیلئے کسی گمنام ڈکشنری کا سہارا لے سکتی ہے کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ ایک ہی مقدمے میں کبھی دو ،ْ کبھی تین اور کبھی پانچ ججوں کے کئی فیصلے سامنے آئیں کیا ان دو ججوں کو اس پانچ رکنی بینچ کا حصہ ہونا چاہیے تھا جو پہلے ہی میرے خلاف فیصلے دے چکے تھے کیا پوری عدالتی تاریخ میں سپریم کورٹ کے کسی جج کو کسی مخصوص مقدمے میں نیب کورٹ کا مانیٹر بنایا گیا ہے اور جج بھی وہ جو میرے خلاف فیصلہ دے چکا ہے ۔

نوازشریف نے کہاکہ میں نے چند سوالات اٹھائے تھے ان کا آج تک جواب نہیں ملا ،ْ یقیناً آپ کے پاس بھی ان کا کوئی جواب نہیں لیکن میں یہ سوالات اس لئے دوہرارہاہوں کہ آپ ان پر غور ضرور کریں اورسوچیں کہ یہ پراسرار کہانی کیا کہہ رہی ہے نوازشریف نے کہاکہ جب فیصلے پہلے ہو جائیں اور ان کے جواز کیلئے حیلے بہانے بعد میں تراشے جائیں تو ایسی ہی کہانیاں جنم لیتی ہیں ’’مائنس ون ‘‘ کا اصول طے پاجائے تو اقامہ جیسا بہانہ ہی کافی ہوتا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ میں اس فیصلے کے حوالے سے مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا لیکن اپنی یہ بات ضرور تاریخ کے ریکارڈپر لانا چاہتا ہوں کہ اس کا شمار بھی ہماری عدالتی تاریخ کے انہی فیصلوں میں ہورہاہے جو نہ پاکستان کیلئے باعث فخر ہیں نہ ہمارے نظام ،ْ قانون وانصاف کیلئے ،ْ نہ عدلیہ کی عزت وو قار کیلئے اور نہ ان منصفوں کیلئے جنہوںنے نظریہ ضرورت ہی کی بنیاد پر نہ جانے کس کی ضرورت پوری کر نے کیلئے ایک خیالی تنخواہ کو اثاثہ قرار دینے کا عجوبہ ،ْ روز گار نظریہ ایجاد کرلیا ،ْ اس فیصلے میں شروع سے آخر تک بد عنوانی تو کسی کو نظر نہیں آتی ناانصافی ہر ایک نظر آرہی ہے ۔

انہوںنے کہاکہ میں اور بھی بہت کچھ کہہ سکتا ہوں کہ مجھے ان مقدمات میں کیوں الجھایا گیا لیکن قوم و ملک کا مفاد مجھے اس سے زیادہ کچھ کہنے کی اجازت نہیں دے رہا ،ْ آپ اگر پاکستان کی تاریخ سے واقف ہیں تو آپ کو بخوبی علم ہوگا کہ ایسے مقدمات کیوں بنتے ہیں ،ْ کن لوگوں پر بنتے ہیں اور ان لوگوں کا اصل گناہ کیا ہوتا ہے ۔۔نوازشریف نے کہاکہ ان کا اصل گناہ صرف ایک ہی ہوتا ہے کہ پاکستان کے عوام کی بھاری اکثریت انہیں چاہتی ہے ان پر اعتماد کرتی ہے انہیں قیادت کے منصب پر بٹھاتی ہے اور عوام کی نمائندگی کرتے ہیں وہ آئین اور قانون کے تحت عوام کی حاکمیت قائم کر نا چاہتے ہیں وہ ملکی پالیسیاں اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں میں بھی اسی راستے کا ایک مسافر ہوں ۔

انہوںنے کہاکہ میں بھی چاہتا ہوں کہ عوام کی مرضی کا احترام کیا جائے ،ْ ان کے ووٹ کی عزت کی جائے ،ْ ان کی مرضی پر اپنی مرضی مسلط نہ کی جائے ،ْ آئین کا احترام کیا جائے ،ْ تمام ادارے اپنی طے کر دہ حدود میں رہیں ،ْ پالیسیاں عوام کے منتخب نمائندے ترتیب دیں کیونکہ انہی عوام کی عدالت میں جانا اور احتساب کیلئے پیش ہونا ہوتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ میرے اصل جرائم کا خلاصہ یہ ہے ،ْ اس طرح کے جرائم اور اس طرح کے مجرم ہماری تاریخ میں جا بجا ملتے ہیں ،ْ کاش ایسا ممکن ہوتا کہ آپ نوابزادہ لیاقت علی خان کی روح کو بلا کر یہی سوال پوچھ سکتے ہیں کہ آپ کو کیوں شہید کر دیا گیا کاش آپ ذو الفقار علی بھٹو کی روح کو طلب کر کے یہی سوال پوچھ سکتے کہ آپ کو کیوں پھانسی چڑھا دیا گیا کاش آپ بے نظیر بھٹو کی روح کو اس عدالت میں بلا کر پوچھ سکتے کہ بی بی آپ کو کیوں قتل کر دیا گیا کاش آپ مقبول منتخب وزرائے اعظم کو بلا کر یہ سوال پوچھ سکتے کہ آپ میں سے کوئی ایک بھی اپنی آئینی معیاد کیوں پوری نہیں کر سکتا کاش آپ اس دنیا سے گزر جانے والے اور ایک زندہ جرنیل سے بھی پوچھ سکتے کہ آپ میں ایسی کیا خوبی تھی کہ آپ نے دس دس سال حکمرانی کی اور کاش آپ اپنے سینئر جج صاحبان کو بھی بلا کر پوچھ سکتے کہ آپ نے ہر آئین شکنی اور ہر غداری کو جواز کیوں بخشا اپنے حلف سے بے وفائی کر کے آمروں کے ساتھ پر بیعت کیوں کی ۔

نوازشریف نے کہاکہ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اس بے بنیاد مقدمے کا سب سے اہم اور حقیقی پہلو پیش کر نے کا موقع دیا میں نے اپنی داستان کا مختصر سا حصہ آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے ان باتوں کا تذکرہ کر دیا ہے جنہیں میرے مخالفین میرا جرم خیال کرتے ہیں اور جنہیں میں پاکستان کی سلامتی ،ْ عوام کی فلاح و بہبود اور اپنی حب الوطنی کا تقاضا سمجھتا ہوں انہوںنے کہاکہ آپ اب تک جان چکے ہیں کہ کسی بھی کمپنی ،ْ جائیداد یا فیکٹری سے میرا ذرہ بھرتعلق ثابت نہیں ہوسکا میں ایک بار پھر اپنے اس موقف کو دہراتا ہوں کہ مجھ پر لگائے گئے تمام الزامات لغواور بے بنیاد ہیں میں ریفرنسز کا فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں ۔

انہوںنے کہاکہ بلا شبہ مجھے آپ کو اور ہم میں سے ہر ایک انسان کو ایک نہ ایک دن اللہ کے حضور پیش ہونا ہے جہاں کوئی جھوٹ چلے گا نہ فریب ۔ سب سے بڑی عدالت اللہ ہی کی ہے میں نے پوری سچائی اور دیانت کے ساتھ اپنا مقدمہ آپ کی عدالت میں پیش کر دیا ہے اور انصاف کا منتظر ہوں انہوںنے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے وقت آپ اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں گے کہ آپ کو بھی ایک دن اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں پیش کر نا ہے میری دعا ہے کہ آپ سرخرو ہوں ۔