بڑی صنعتوں کی 5.89فیصد افزائش میں برآمدی سیکٹر کی کارکردگی مایوس کن

ٹیکسٹائل سیکٹر سے تعلق رکھنے والی بڑی صنعتیں مراعات ملنے کے باوجود ناکام،سوتی دھاگے کی پیداوار ناقابل یقین حدتک کم رہی لیدر مصنوعات کی پیداوار 23فیصد کم رہی ، ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی صنعتوں کی شرح افزائش اسپننگ سیکٹر کے مقابلے میں بہتررہی

بدھ مئی 16:39

بڑی صنعتوں کی 5.89فیصد افزائش میں برآمدی سیکٹر کی کارکردگی مایوس کن
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) رواں مالی سال 2017-18 کے ابتدائی9ماہ کے دوران بڑی صنعتوں کی 5.89فیصد افزائش میں برآمدی صنعتوں کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے ، خصوصا ٹیکسٹائل سیکٹر سے تعلق رکھنے والی بڑی صنعتیں حکومت کی جانب سے ٹیکسٹائل پیکیج کی مراعات اور ترغیبات ملنے کے باوجود نمایاں بہتری لانے میں کامیاب نہ ہوسکیں، خصوصا سوتی دھاگے کی پیداوا ر ناقابل یقین حد تک کم رہی ہے جبکہ بڑی صنعتوں(ایل ایس ایم)انڈیکس میں اس کاوزن13فیصد کے لگ بھگ ہے ،اس کے مقابلے میں ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی شرح افزائش سیلز ٹیکس اور ری بیٹ ریفنڈز کو تسلسل نہ ملنے کے باوجود اسپننگ سیکٹر کے مقابلے میں بہت بہتررہی ہے اور انہی صنعتوں کی بہتر کارکردگی کے باعث گزشتہ مہینوں میں برآمدات میں خاطرخواہ اضافہ ہواہے ، ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کے برآمد کنندگان کاکہناہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ کے دوران دھاگے کی پیداواری افزائش مالی سال 2013کے بعد سب سے کم رہی ہے جوشرمناک ہے اوراس ناطے ا سپننگ سیکٹر جوکھربوں روپے کے قرضے ہضم کرچکاہے ، کسی بھی مراعات یا ترغیبات کامستحق نہیں ہے ، اس سلسلے میں ویلیو ایڈڈ سیکٹر کی ایک انجمن کے چیئرمین کاکہناہے کہ اسپننگ سیکٹر نے بینکوں، مالیاتی اداروں سے سیاسی بنیادوں پرکھربوں روپے کے قرضے حاصل کرکے رئیل اسٹیٹ میں لگاکر محلات کھڑے کیے ہیں اور یارن سیکٹر میں ویلیو ایڈڈ مصنوعات لانے کیلئے کوئی خاص کام نہیں کیا جبکہ اپیرل سیکٹر نے حیران کن حد تک اچھی کارکردگی دکھائی ہے ، ایک حالیہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق بڑی صنعتوں میں فیبرک(کپڑی) کی برآمدی صنعتوں کی پیداواری افزائش بھی نہایت کم رہی ہے ،ایل ایس ایم انڈیکس میں7فیصد کاوزن رکھنے والے اس سیکٹر نے زیرتبصرہ مدت میں صرف 0.05فیصد کی پیداواری افزائش حاصل کی ہے جومالی سال 2012کے بعد سے سب سے کم شرح افزائش ہے ، برآمدی لیدر مصنوعات کی پیداوار کا توسب سے برا حال رہاہے جس کی پیداوار میں 23فیصد کمی ہوئی ہے ، اقتصادی ماہرین کاکہناہے کہ ایل ایس ایم انڈیکس میں بڑی صنعتوں میں درآمدہ آئٹمز اسٹیل، سیمنٹ، آٹو موبائل اور پٹرولیم مصنوعات کاغلبہ رہاہے جس سے برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اوران صنعتوں نے بھاری قیمتی زرمبادلہ خرچ کرکے مقامی کھپت کوپورا کیاہے

(جاری ہے)

متعلقہ عنوان :