قومی اسمبلی اجلاس : سندھ کو 1991ء کے معاہدے کے تحت پانی نہ ملنے پر پیپلز پارٹی کا واک آئوٹ

ہمیں پانی نہ ملا تو سندھ کا بارڈر بند کردینگے،خورشید شاہ کی وارننگ

بدھ مئی 17:23

قومی اسمبلی اجلاس : سندھ کو 1991ء کے معاہدے کے تحت پانی نہ ملنے پر پیپلز ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کو 1991ء کے معاہدے کے تحت پانی نہ ملنے کی وجہ سے واک آئوٹ کیا۔

(جاری ہے)

بدھ کے روز اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے سندھ کو پانی نہ ملنے کے حوالے سے اجلاس میں کہا کہ سندھ میں پانی کا بہت بحران ہے انسان پانی اور ہوا کے بغیرزندہ نہیں رہ سکتا کراچی میں بھی پانی نہیں ہے پنجاب کے لنک کینال کو بند کرکے سندھ کو پانی دیاجائے سندھ بنجر ہوتا جارہا ہے پاکستان کو سندھ نے بنایا خدا کے واسطے حکمرانوں کو اندھیروں سے نکالو اور اس ایوان میں لے کر آئو اس ایوان میں حکومتی اراکین نہ ہونے کی وجہ سے کورم پورا نہیں ہوتا ہم نے اپنے دور میں پارلیمنٹ کا دامن نہیں چھوڑا تھا پانچ سال پورے کئے آج حکومتی وزیر پر تھپڑ برسائے جارہے ہیں ووٹ کی عزت کا سلوگن ٹھیک نہیں ہے اگر ہمیں پانی نہ ملا تو سندھ کا بارڈر بند کردینگے ہم پاکستان کو بچانے کیلئے ایسا کرینگے سندھ کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کا حیدر آباد کا جلسہ ایک ٹریلر تھا ہمیں پانی چاہیے ہمیں پانی چاہیے ہم پیاسے مر رہے ہیں یوسف تالپور نے کہا کہ ہمیں 1991ء معاہدے کے تحت پانی دیا جائے ہم اپنا حق مانگ رہے کسی اور حق نہیں مانگ رہے سندھ میں انسان تو انسان جانوروں کو بھی پینے کیلئے پانی نہیں مل رہا اس پر پاکستان پیپلز پارٹی اس ایوان سے واک آئوٹ کرتی ہے جب پیپلز پارٹی نے واک آئوٹ کیا تو ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی نے قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا ۔