پی ٹی آئی رہنماؤں کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرگئے

کچھ پارٹی رہنماء جہانگیرترین کےخلاف کھل کربولنے لگے،شاہ محمو دقریشی کے بعدایڈووکیٹ حامد خان بھی بول پڑے،نااہل شخص کو پارٹی معاملات نہیں چلانے چاہئیں،کسی بھی نااہل شخص کوپارٹی سے دور رکھا جائے۔پی ٹی آئی رہنماء حامد خان

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ مئی 16:38

پی ٹی آئی رہنماؤں کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرگئے
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23مئی 2018ء) : تحریک انصاف میں پارٹی رہنماؤں کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرگئے، پارٹی کا ایک دھڑا جہانگیرترین کے خلاف کھل کربولنے لگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کے بعد لاہور سے پی ٹی آئی کے امیدوار قومی اسمبلی اور سینئر وکیل ایڈووکیٹ حامد بھی نااہل افراد کیخلاف میدان میں آگئے ہیں۔

حامد خان نے کہا کہ نااہل شخص کو پارٹی معاملات نہیں چلانے چاہئیں۔نااہل شخص کوپارٹی سے دور رکھا جائے۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی نااہل شخص کوپارٹی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ نااہل شخص کی مداخلت سے مقدمات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔ واضح رہے پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کا نام لیے بغیر پارٹی رہنماؤں نے ان کی مخالفت شروع کردی ہے۔

(جاری ہے)

جہانگیرترین کو آف شور کمپنی کے الزام میں سپریم کورٹ سے نااہل ہونا پڑا تھا۔ جس پر ان سے پارٹی عہدہ واپس لے لیا گیا تھا۔ تاہم نااہلی کے باوجود جہانگیرترین پارٹی معاملات کو پہلے کی طرح چلا رہے ہیں۔ واضح رہے تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں شاہ محمود قریشی ، شیرین مزاری ،،جہانگیر ترین ،،اسد عمر اور دیگر مرکزی رہنماوں نے شرکت کی۔

اس اجلاس میں اہم معاملات زیر بحث آئے۔اس حوالے سے ترجمان تحریک انصاف نے اجلاس کی کاروائی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ نگران حکومت سے متعلق شاہ محمود قریشی نے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی ہے جس میں اس بات پر اتفاق ظاہر کیا گیا ہے کہ جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی،، ڈاکٹرعشرت حسین ،عبدالرزاق داؤد بہترین انتخاب ہیں اور ان تینوں ناموں میں سےکسی ایک کونگراں وزیراعظم مقررکیا جانا چاہیے۔

اس موقع پر انتخابات میں ٹکٹوں کے اجرا کے لئیے پارلیمانی بورڈ کےاجلاس کی فوری طلبی پراتفاق ہوا ہے۔اجلاس میں خیبرپختونخوامیں تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی کاخصوصی جائزہ لیا گیا اور تحریک انصاف نے پرویزخٹک اوران کی کابینہ کوخصوصی خراج تحسین پیش کیا جبکہ پنجاب حکومت کے خلاف وائٹ پیپر شائع کرنے پر بھی غور کیا گیا ۔اس دوران ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی میں سینئیر رہنما آمنے سامنے آ گئے۔

بات الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل کئیے گئے رائے حسن نواز بھی اجلاس میں شریک تھے جس پر شاہ محمود قریشی نے انکی موجودگی پر اعتراض کیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل ہونے کے بعد رائے حسن نواز پارٹی عہدے اور اجلاس میں شرکت کے مجاز نہیں رہے ہیں جس پر جہانگیر ترین نے مداخلت کی ۔اس پر جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی آپس میں جھگڑ پڑے اور دونوں میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو مداخلت کرنی پڑی اور دونوں رہنماوں میں معاملہ ٹھنڈا ہوا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل ہونے کے بعد عمران خان نے رائے حسن نواز کو پارلیمانی بورڈ سے ہٹانے کا اعلان کیا۔اس پرجہانگیر ترین نے کہا اگر پارٹی نے یہ فیصلہ کیا تو وہ گھر چلے جائیں گے۔