سرکاری اسپتال اور لیبارٹریوں نے ایک شخص کے بلڈ گروپ کی انوکھی رپورٹ دے دی

بھارتی شخص نے سرکاری اسپتالوں اور لیبارٹریوں سے بلڈ گروپ کے مختلف نتائج ملنے کے بعد آر ٹی آئی فائل درج کوا دی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ مئی 16:42

بھارت(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔23مئی 2018) نئی دہلی میں ایک شخص نے سرکاری اسپتالوں اور لیبارٹریوں سے بلڈ گروپ کے مختلف نتائج آنے پر آر ٹی آئی درخواست درج کروا دی۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس درخواست میں مختلف سرکاری ہسپتالوں اور نجی لیبارٹریوں میں کئے جانے والے ٹیسٹ کی رپورٹ شامل ہیں جس نے راول چترہ نامی شخص کے خون کے گروپ کے "مکمل طور پر مختلف نتائج" دیئے ہیں.بعض ٹیسٹوں میں لکھا تھا کہ مذکورہ شخص کا آر ایچ پازیٹو ہے۔

آر ٹی آئی درخواست بھارت کے میڈیکل کونسل کو دی گئی۔درخواست میں مختلف سرکاری ہسپتالوں اور نجی لیبارٹریوں میں کئے جانے والے ٹیسٹ کی رپورٹ شامل ہیں۔جس نے مذکورہ شخص کے خون کی رپورٹ بلکل مختلف دی ہیں۔کچھ میڈیکل رپورٹوں کے مطابق راول کا آر ایچ پازیٹو ہے جب کہ دوسری میڈیکل رپورٹس کے مطابق مذکورہ شخص کا آر ایچ نیگیٹو ہے۔

(جاری ہے)

یہ آر ٹی آئی فائل روال چترا کے ایک دوست نے درج کی۔

یاد رہے کہ آر ایچ ایک ایسا عنصر ہے جو سرخ خون کے خلیات کی سطح پر پایا جاتا ہے. اگر کسی شخص کے خون میں پروٹین ہے، تو اس کا آر ایچ پازیٹو ہوتا ہے ، اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر آر ایچ نیگیٹو ہوتا ہے۔زیادہ تر آر ایچ پازیٹو ہوتا ہے۔ایک بار جب ایم سی آئی نے درخواست مسترد کردی،تو روال چترا نے آرٹی آئی کی  درخواست کے ساتھ کمیشن سے رابطہ کیا، جہاں روال چترا نے کہا کہ اس نے آگرہ اور ضلعی ہسپتال میں چار مختلف لیبارٹریوں میں خون کا ٹیسٹ کروایا ہے . ٹیسٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے خون کی دو اقسام ہیں دوٹیسٹوں کے مطابق اس کا خون پازیٹو ہے جب کہ دو خون کے ٹیسٹوں کی رپورٹس کے مطابق اس کے خون کا گروپ نیگیٹو ہے۔

روال کا کہنا تھا کہ اگر اسے کسی ایمرجنسی میں خون کی ضرورت ہو تو پھر اس کے لیے کس بلڈ گروپ کا انتخاب کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :