پاکستان نیشنل فورم آن وومن ہیلتھ کے زیر اہتمام انٹرنیشنل فیسٹولا ڈے بارے نیشنل پریس کلب میں تقریب

بدھ مئی 16:50

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) پاکستان نیشنل فورم آن وومن ہیلتھ کے زیر اہتمام بدھ کو انٹرنیشنل فیسٹولا ڈے کے حوالہ سے نیشنل پریس کلب میں تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں عورتوں کو درپیش معاشرتی مسائل اجاگر کرنے کے حوالہ سے بریفنگ دی گئی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تقریباً 4 سے 5 ہزار خواتین فیسٹولا بیماری میں مبتلا ہیں جس کی بنیادی وجہ معاشرتی ناہمواری، فرسودہ رسم و رواج، غربت، تعلیم کی کمی، فیملی پلاننگ سہولتوں کی عدم دستیابی، تربیت یافتہ صحت کارکنوں کی کمی اور علاقائی سطح پر بنیادی سہولتوں کا ناپید ہونا شامل ہے۔

مقررین میں فیسٹولا پراجیکٹ کوآرڈینیٹر عطہر سید، ڈاکٹر کوثر ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈ ریجنل کوآرڈینیٹر فسٹیولا سنٹر ایم سی ایچ پمز، پروفیسر ناصرہ تسنیم ہیڈ ایم سی ایچ یونٹ اینڈ ریجنل پروگرام منیجرنے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بہت بڑی تعداد فسٹیولا کی پائی جاتی ہیںجوکہ جراہی کے دوران بن جاتے ہیں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کو اس سلسلے میں بہت تشویش لاحق ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحت کے شعبے سے وابسطہ تمام ادارے خصوصاًپی ایم ڈی سی اور سی پی ایس پی فسٹیولا بیماری کے حوالے سے بہترین پالیسیاں وضع کریں ، رجسٹریشن اور پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کورسز مرتب کرے ۔

(جاری ہے)

پاکستان نیشنل فورم آن وومن ہیلتھ 2005ء سے ایو این ایف پی اے کے تعاون فسٹیولا بیماری میں مبتلا خواتین کا ملک بھرمیں مفت علاج کر رہی ہے۔2017ء کے بعد اب تمام سہولیات فسٹیولا فائونڈیشن اور اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کے تعائون سے مہیا کی جا رہی ہیں۔ ملک میں 7 مین مراکز بنائے گئے ہیں جس میں مریضوں کا مفت علاج سمیت سفری اخراجا ت بھی دیئے جاتے ہیں۔

یہ مراکز پاکستان میں کراچی،، حیدرآباد، ملتان،، لاہور،، کوئٹہ،، پشاور،، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں واقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان یہ عہد کرے کہ فسٹیولاکے خاتمے کیلئے تما م وسائل بروئے کار لائیںگے۔بڑے پیمانے پر مڈوائف کی ٹریننگ شروع کی جائے تاکہ ہر حاملہ خاتون کی دیکھ بھال اور زیر نگرانی زچگی کا عمل ممکن بنایا جا سکے اور فسٹیولا سے بچائوممکن ہوسکے۔تمام بنیادی صحت کے مراکز اور دیہی صحت کے مراکز مکمل طور پر کام شروع کریںتاکہ خواتین کو بنیادی اور ایمر جنسی صحت کی سہولیات میسر آ سکیں۔