کپاس کی طلب میں اضافے کا امپورٹرز اور کاشتکار بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں، ماہرین معیشت

بدھ مئی 17:29

لاہور۔23 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) معاشی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کی آمدنی کا 22 فیصد حصہ زراعت پر منحصر ہے۔ بین الاقوامی منظر نامے کے مطابق روئی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر آئندہ سال) (2018-19میںبھی قیمتوں میںزیادہ اضافے کا رجحان برقرار رہے گا ۔۔ترکی ہر سال امریکہ سے 519 ملین ڈالر کی کپاس درآمدت کرتا ہے اور یہ ایک عالمی بہت بڑی منڈی کے طور پر جانا جاتا تھا۔

حالیہ برس میںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس حالیہ ٹیرف کا اعلان کیا ہے وہ ترکی کو منظور نہیں ہے اس وجہ سے ترکی دنیا میں نئی منڈیوں کی تلاش میں ہے اور ممکنہ طور پر امریکی کپاس کی درآمد روکنے سے بھارت،،،مصر،،،پاکستان،،ازبکستان اس کیلئے کپاس کی درآمد کیلئے نئی تجارتی منڈیوں کے روپ میں سامنے آئیں گے۔

(جاری ہے)

اسی طرح چین کے پاس اپنے کپاس کے ذخائر موجود ہیں مگر بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب اور دبائو اسے بھی نئی منڈیاں تلاش کرنے پر مجبور کرے گا۔

ازبکستان جو پہلے خام کپاس درآمدت کرتا تھا اب اپنی کاٹن انڈسٹری اور فیکٹریاںلگا چکا ہے جس کے باعث ازبکستان اب کپاس کو درآمد کرنے کی بجائے اسے برآمد کرے گا اور جو ممالک ازبکستان سے کپاس خریدتے تھے وہ بھی نئی منڈیوں کی تلاش کریں گے، اسی طرحبھارت میں بھی مونسینٹو کمپنی کے ساتھ جاری مسائل اور موسمی تغیر کی وجہ سے کپاس کی پیداوار اور کو الٹی متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے بھارت بھی کپاس اس سیزن میںدرآمدکرے گا۔

بنگلہ دیش میں بھی کپاس کی بڑھتی ہوئی مانگ اسے کپاس درآمد کی طرف لے کے جا رہی ہے۔یہ صورتحال بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کپاس کے برآمد کنندگان اور کاشتکاروں کے حق میں جائے گییہ تمام عالمی طور پر پیدا ہونے والے مناظر پاکستانی کپاس کے کاشتکار کیلئے بہت خوش آئند ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کاشتکار زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کپاس کی کاشت کرکے ملکی معیشت کو مضبوط بنائیں۔