لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی میںکروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف‘ قائمقام رجسٹرار،

خزانچی اور پراجیکٹ ڈائریکٹر کیخلاف کارروائی اور ریکوری کی سفارش،ڈائریکٹر جنرل آڈٹ پنجاب کی رپورٹ بہت سے آڈٹ اعتراضات ثبوتوں کی فراہمی کے بعد ختم ہو جائیں گے،قائمقام وی سی ڈاکٹر فرخندہ منظور

بدھ مئی 17:30

لاہور۔23 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں کروڑوں روپے کی مالی ضابطگیوں کا انکشاف،مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر بینکوں میں یونیورسٹی کے نام پر 58 کروڑ 25لاکھ 42ہزارروپے کی سرمایہ کاری کرنے‘سیلف سپورٹ پروگرام کے تحت داخل ہونے والی طالبات سے 7 کروڑ64لاکھ 80ہزار روپے فیس وصول کر کے اسے یونیورسٹی فنڈ میں جمع نہ کروانے، لاکھوں روپے کنوینس الائونس کی غیر قانونی وصولی‘گزشتہ دس سال سے کینٹین کے ٹھیکے من پسند افراد کو دینے سمیت دیگر مالی بد عنوانیوں پر قائمقام رجسٹرار عظمیٰ بتول ‘ پراجیکٹ ڈائریکٹر قاسم امین اور اضافی چارج پرتعینات خزانچی عبدالغفار علی ودیگر کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آڈٹ پنجاب کی طرف سے جاری کر دہ 58صفحات پر مشتمل آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فنانشل ایڈ اینڈ ایڈوانسمنٹ عبدالغفار علی جو 4 سال سے ایڈیشنل چارج پر یونیورسٹی کے خزانچی بھی ہیں کو سنجیدہ نوعیت کی مالی باضابطگیوں پر مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے ۔

(جاری ہے)

عبدالغفار علی نے مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر بینکوں میں یونیورسٹی کے نام پر 58 کروڑ 25لاکھ 42ہزارروپے کی سرمایہ کاری کی اور اس مقصد کیلئے نہ صرف سنڈیکیٹ اور فنانس کمیٹی کی منظوری لی گئی بلکہ تین بنکوں سے شرح سود اور متعلقہ شرائط کے ریٹس بھی حاصل نہ کئے گئے علاوہ ازیںاس سے نہ صرف پیپرا رولز کی نفی کی گئی بلکہ اتنی بھاری رقم کی سرمایہ کاری کی شرائط بھی مخفی رکھ کر بے جا مالی مفادات حاصل کئے گئے اور یونیورسٹی کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی میں واقع کینٹین کی گزشتہ 10 سال میں نیلامی نہیں ہوئی اور مالی سال 2016-17ء میں شفاف نیلامی نہ ہونے سے کینٹین کے ٹھیکے من پسند افراد کو دے دیئے گئے‘40 لاکھ کے ان ٹھیکوں کے متعلق مروجہ 10 فیصد ایڈوانس ٹیکس بھی نہ لیا گیا اور بجلی کے بل بھی معاف کر دیئے گئے جس سے یونیورسٹی کے خزانے کو 34 لاکھ10ہزار کا نقصان ہوا،رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ بائیو میٹرک مشین اور سی سی ٹی وی کیمروں کی خریداری پر پیپرا رولز پر عمل کئے گئے بغیر 14 لاکھ 13ہزار394روپے خرچ کر دیئے گئے اور اقربا پروری سے کام لیتے ہوئے خریداری کے آرڈرز دیئے گئے جسے سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاہور کالج فاروویمن یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات کے پرچہ جات اور دیگر میٹریل پر مسابقتی ریٹ حاصل کئے بغیر 71 لاکھ85ہزار روپے غیر قانونی طورپر خرچ کئے گئے جس سے سرکاری تعلیمی ادارہ کا سرمایہ کمیشن کی مد میں بھی خرچ کیا گیا ۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق سیلف سپورٹ پروگرام کے تحت داخل ہونے والی طالبات سے 7 کروڑ64لاکھ 80ہزار روپے فیس وصول کی گئی لیکن یہ فیس نہ تو یونیورسٹی فنڈ میں جمع کی گئی نہ ہی اس کا تصرف سامنے لایا گیا۔

رپورٹ میں قائم مقام رجسٹرار عظمٰی بتول اور پراجیکٹ ڈائریکٹر قاسم امین پر کنوینس الائونس کی غیر قانونی وصولی کا بھی انکشاف ہوا ہے،دونوں عہدیدار ایک طرف یونیورسٹی کی گاڑیاں استعمال کرتے رہے اور دوسری طرف تنخواہ میں کنوینس الائونس برابر وصول کرتے رہے،رپورٹ میں دونوں عہدیداروں سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے ریکوری کی سفارش کی گئی ہے۔

ان غیر معمولی مالی بے ضابطگیوں کے انکشاف پر ڈائریکٹر جنرل آڈٹ پنجاب نے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں مالی سال2016-17کے آڈٹ کی ہدایات دی تھیں جس میں کل 97کروڑ44لاکھ50ہزار206روپے کا آڈٹ کیا گیا ،آڈٹ حکام نے یونیورسٹی کے مذکورہ عہدیداران سمیت دیگر ذمہ داران سے اس نقصان کی ریکوری کی بھی ہدایت کی ہے۔اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی قائمقام وائس چانسلر ڈاکٹر فرخندہ منظور نے اے پی پی کو بتایا کہ یہ رپورٹ گزشتہ دور کی ہے جبکہ بہت سے آڈٹ اعتراضات ثبوتوں کی فراہمی کے بعد ختم ہو جائیں گے تا ہم اس رپورٹ کو مکمل طور پر پڑھنے اور تمام امور کا جائزہ لیا جائیگا۔