جسم میں گولی یاد دلاتی رہے گی کہ نفرت کے بوئے گئے بیجوں کوسمیٹنے کی ضرورت ہے ،ْوزیر داخلہ احسن اقبال

ایک بزدل جنونی نے مجھ پرقاتلانہ حملہ کیا، مجھ پرحملے سے چند سیکنڈ پہلے جلسے میں ایک فون آیا، کال آئی اور فون اٹھایا تومیری کہنی ڈھال بن گئی ،ْبلاول بھٹو نے میرے خاندان سے اظہار یکجہتی کیا توان کی آنکھوں میں نمی تھی ،ْعمران خان نے مجھے گلدستہ بھیجا جس پر ان کا شکر گزار ہوں ،ْدکھ ہوا گلدستہ لے کر آنے والا شام کو ٹی وی پربیٹھ کرحملہ آور کا دفاع کررہا تھا ،ْ اسمبلی میں خطاب سیاست میں تشدد کے عنصر کی ہم کبھی حمایت نہیں کر سکتے‘شفقت محمود بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں برداشت کا عنصر ختم ہوتا جارہا ہے‘ پیپلز پارٹی گالم گلوچ کی مذمت کرتی ہے ،ْخورشید شاہ

بدھ مئی 17:34

جسم میں گولی یاد دلاتی رہے گی کہ نفرت کے بوئے گئے بیجوں کوسمیٹنے کی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ جسم میں گولی یاد دلاتی رہے گی کہ نفرت کے بوئے گئے بیجوں کوسمیٹنے کی ضرورت ہے ،ْایک بزدل جنونی نے مجھ پرقاتلانہ حملہ کیا، مجھ پرحملے سے چند سیکنڈ پہلے جلسے میں ایک فون آیا، کال آئی اور فون اٹھایا تومیری کہنی ڈھال بن گئی ،ْبلاول بھٹو نے میرے خاندان سے اظہار یکجہتی کیا توان کی آنکھوں میں نمی تھی ،ْعمران خان نے مجھے گلدستہ بھیجا جس پر ان کا شکر گزار ہوں ،ْدکھ ہوا گلدستہ لے کر آنے والا شام کو ٹی وی پربیٹھ کرحملہ آور کا دفاع کررہا تھا۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایک نئی زندگی لے کر اس ایوان میں دوبارہ کھڑا ہوں۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ ایک بزدل جنونی نے مجھ پرقاتلانہ حملہ کیا، مجھ پرحملے سے چند سیکنڈ پہلے جلسے میں ایک فون آیا، کال آئی اور فون اٹھایا تومیری کہنی ڈھال بن گئی۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے میرے خاندان سے اظہار یکجہتی کیا توان کی آنکھوں میں نمی تھی، دہشت گردی کے ناسور کے باعث بلاول کی ماں بھی شہید ہوئیں، عمران خان نے مجھے گلدستہ بھیجا جس پر ان کا شکر گزار ہوں، خوشی ہوتی یہ گلدستہ شیریں مزاری، شفقت محمود اور اسد عمر لیکر آتے، دکھ ہوا گلدستہ لے کر آنے والا شام کو ٹی وی پربیٹھ کرحملہ آور کا دفاع کررہا تھا۔

وزیر داخلہ نے کہاکہ جسم میں گولی یاد دلاتی رہے گی کہ نفرت کے بوئے گئے بیجوں کوسمیٹنے کی ضرورت ہے، ہمیں مل کر کام اس بارود کو اٹھانا ہو گا جو معاشرے میں پھیل چکا ہے، ہمارے ملک میں انتہا پسندی کا ناسور ہے۔۔احسن اقبال نے کہا کہ مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ انتہا پسندی کے رویے کی بیخ کنی کرے، پاکستان میں کون مسلم، کون غیر مسلم، یہ فیصلہ پاکستان کا آئین اور پارلیمنٹ کرتا ہے، کسی کو حق نہیں کہ گلی محلے میں فتویٰ دے، کس کو سزا ملنی ہے اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کا قانون اور عدالت کا فیصلہ کرتا ہے۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ جید علماء کا فتوی ہے کہ جہاد کا حکم صرف ریاست دے سکتی ہے ،ْجہاد کا فتوی کوئی فرد یا گروہ نہیں دے سکتا۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کو رنگ، نسل اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم سے بچاناہے جس کی جیب میں پاکستان کا شناختی کارڈ ہے وہ پاکستانی ہے، ہمیں انتہا پسندی کے رویے کہ خلاف جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے، یہ پارلیمنٹ کے لیے چیلنج ہے کہ ہمیں پاکستان کو کیسے انتہا پسندی سے بچانا ہے، اس ملک میں امن قائم کرنا ہے ،نفرت کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے بھی اقامہ وزیر کہا جارہا ہے ،ْمیں کل تک عدالت میں کیس کا انتظار کرتا رہا مگر اب اپنا کیس ایوان میں پیش کر رہا ہوں۔ مجھ پر الزام تھا کہ میں نے گارڈ کا اقامہ رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے مدینہ انسٹی ٹیوٹ آف لیڈر شپ کی طرف سے سرٹیفکیٹ کے مندرجات ایوان میں پڑھ کر سنائے کہ ادارے نے انہیں اپنا رکن قرار دیا اور ایک ماہر تعلیم کی بنیاد پر انہیں یہ سہولت فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں گلوبل اکنامکس کونسل میں ایک رکن اور لیڈر تسلیم کیا گیا جو اس ایوان اور ملک کے لئے قابل فخر بات ہے۔ ہمیں تصدیق کے بغیر باتوں کو نہیں پھیلانا چاہیے۔ اس مصدقہ دستاویز کے بعد ٹی وی پر الزام لگانے والوں کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ نکتہ اعترا پر شفقت محمود نے کہا کہ احسن اقبال کے ساتھ پیش آنے والا حادثہ ہم سب کے لئے تکلیف دہ تھا۔

ہم سب نے اس کی مذمت کی اور ان کی صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات الگ ہیں پارٹی میں اگر ایک فرد نے غلط بات کی ہے تو غلط ہے۔ سیاست میں تشدد کے عنصر کی ہم کبھی سپورٹ نہیں کریں گے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی کہا کہ ہم سب نے احسن اقبال پر حملہ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ عابد شیر علی نے میرے خلاف جو زبان استعمال کی اس کی ماروی میمن کے علاوہ کسی نے مذمت نہیں کی۔

یہ دہرا طرز عمل نقصان دہ ہے۔نکتہ اعتراض پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں برداشت کا عنصر ختم ہوتا جارہا ہے‘ پیپلز پارٹی گالم گلوچ کی مذمت کرتی ہے‘ کسی کو ٹی وی پروگرام میں تھپڑ مارنا اور کسی پر پانی پھینک دینا عدم برداشت کی مثالیں ہیں‘ پارلیمنٹ کو اچھی روایات کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچنا چاہیے۔

قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ اس ایوان میں احسن اقبال کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ انہیں لمی عمر دے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست سے برداشت ختم ہو رہی ہے۔ یہ عنصر بہت ڈرائونا اور خوفناک ہے۔ اس ایوان میں سخت سے سخت باتیں ہوتی رہی ہیں مگر گالم گلوچ والی ایسی صورتحال نہیں تھی۔ پیپلز پارٹی گالم گلوچ کی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا شو میں کبھی کوئی پانی پھینکتا ہے اور کبھی کوئی کسی کو تھپڑ مار دیتا ہے۔

پی ٹی آئی نے اس کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے۔ خواتین کا احترام ختم ہوگیا ہے۔ 72 خواتین ارکان اسمبلی کا احترام یقینی بنایا جانا چاہیے۔ پارلیمنٹ کو اچھی روایات کے ساتھ ختم کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیاسی سوچ سمجھ دے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اگلے کی بات سننے کی برداشت کا خود میں حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔