پاکستان قابل تجدید توانائی ٹیکنالوجیز کونسل بل 2018ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش

قومی اسمبلی نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (ترمیمی) بل 2018ء کی منظوری دے دی

بدھ مئی 17:34

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں پاکستان قابل تجدید توانائی ٹیکنالوجیز کونسل بل 2018ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی گئی۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں ثریا اصغر نے قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی نے پاکستان قابل تجدید توانائی ٹیکنالوجیز کونسل بل کے قیام کے لئے احکام وضع کرنے کا بل پاکستان قابل تجدید توانائی ٹیکنالوجیز کونسل بل 2018ء کی منظوری دے دی اس سلسلے میں ثریا اصغر نے بل پیش کرنے کی اجازت مانگی۔

اجازت ملنے کے بعد ایوان نے بل کی شق وار منظوری دے دی۔ اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (ترمیمی) بل 2018ء کی منظوری دے دی۔ اس سلسلے می رانا محمد افضل نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ایکٹ 2015ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل سینٹ کی منظور کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لانے کی تحریک پیش کی۔

(جاری ہے)

ایوان سے منظوری کے بعد بل کی شق وار منظوری لی گئی۔

اس دوران شازیہ مری اور ڈاکٹر عذرا فضل کی طرف سے پیش کردہ ترامیم کو ایوان نے مسترد کردیا۔ اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی نے لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل (ترمیمی) بل 2018ء کی منظوری دے دی۔ وزیر قانون چوہدری محمود بشیر ورک نے لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل (ترمیمی) بل 2018ء قومی اسمبلی میں پیش کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لانے کی تحریک پیش کی۔ اجازت ملنے پر ایوان نے بل کی شق وار منظوری دے دی۔ اس دوران عالیہ کامران کی طرف سے پیش کردہ ترمیم کی وزیر نے مخالفت کی۔بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس (آج) جمعرات کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔